دال میں کچھ تو کالاہے

دال میں کچھ تو کالاہے

مہینہ ڈیڑھ قبل منظور پشتین کانام اور کام سنا تو انتظار کرتا رہا کہ اس کا بیانیہ تفصیل کیساتھ سامنے آجائے۔۔ اور صحافی برادری، دانشوروں، عالمی ذرائع ابلاغ اور پاکستان کی حکومت اور پاک افواج کا اس حوالے سے عمل، ردعمل اور نقطہ نظر معلوم ہو جائے تو آدمی کچھ لکھ سکے۔ ان نکات پر نظر دوڑاتے ہوئے میرے سامنے جوصورت مجسم ومصور ہو کر آئی اُس میں سے پہلا نکتہ یہ ہے کہ پختونخوا میں اے این پی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے اکابرین کی موجودگی میں ان سے آشیرباد لئے بغیر منظور اکیلے اس کٹھن سفر پر کیسے نکلا۔ پاکستان میں پختون سیاست کے حوالے سے تاریخی تناظر میں یہی دو جماعتیں ہی نظر آتی ہیں۔ اس کے علاوہ مولانا فضل الرحمن اور سراج الحق بھی منجھے ہوئے اسلامی جمہوری سیاست کے علمبردار ہونے کے علاوہ پختون بھی تو ہیں اور خیبر پختونخوا تب کے سرحد میں مولانا مفتی محمود اور اے این پی کے مثالی اتحاد کے علاوہ مثالی حکومت بھی رہی ہے۔ کیا ان سارے پختون سیاستدانوں سے ملاقات کر کے اپنا لائحہ عمل ان کے سامنے رکھا ہے؟ اگر ملاقاتیں ہوئی ہیں اور تعاون حاصل ہے تو اس بات کی وضاحت ہونی چاہئے تھی لیکن چونکہ منظور پشتین کے جلسوں میں ابھی تک اس قسم کی کوئی چیز نظر نہیں آسکی ہے اور نہ ہی ان پختون سیاسی جماعتوں کے معروف کارکنوں اور ورکروں کی ان جلسوں میں شمولیت واضح طور پر یعنی اپنے جھنڈوں وغیرہ کیساتھ نظر آسکی ہے۔ پاکستان کی صحافی برادری نے ابتداء میں کچھ کوریج ضرور دی ہے لیکن وہ گرم جوشی نظر نہیں آئی جو عام طور پر اس قسم کے نئے اور تازہ شوشوں کے حوالے سے ہوتی ہے۔ البتہ بی بی سی اور ہندوستان کے میڈیا نے اپنے اپنے انداز میں اس کو خوب اُچھالا بھی ہے اور کوریج بھی دی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں ادارے (بی بی سی اور بھارتی میڈیا) ہمیشہ سے پاکستان کے حوالے سے اس قسم کی خبروں کو خوردبین کے ذریعے تلاش کرتے ہیں اور دنیا کو دوربین کے ذریعے دکھاتے رہے ہیں۔ بھارتی میڈیا تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا اور بھارتی میڈیا جس بھی عمل پر خوشی سے بغلیں بجا رہا ہو مجھے تو اُس میں کہیں دال میں کالا ہونے کا شدت سے احساس ہونے لگتا ہے۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس حوالے سے جو بات کی ہے وہ بہت صائب ہے۔ انہوں نے منظور پشتین کی تحریک پی ٹی ایم کے بارے میں کہا ہے کہ منظور ہمارا بیٹا ہے یعنی فرزند پاکستان ہے۔ اس کی کچھ باتوں میں وزن بھی ہے اور ان کی وزنی باتوں پر بات ہوسکتی ہے اور بامعنی وحقیقت پر مبنی بات یہی ہے۔ ضرب المثل ہے کہ ’’پہاڑ کتنا ہی اونچا ہو، لیکن اس کے سر (چوٹی) پر کہیں راستہ ہوتا ہی ہے‘‘۔ اپنے جائز مطالبات منوانے کیلئے آئین پاکستان کی روشنی میںجائز حدود، لہجہ، اسلوب اور زبان میں بات کرنا ہر پاکستانی کا حق ہے لیکن جب بات جذبات اور بے قابو جذبات بلکہ جوانی کے جذبات اور ہزاروں مجمع کے سامنے اس انداز میں کی جاتی ہے کہ وہ آئین پاکستان اور سلامتی پاکستان کی حدود سے باہر ہونے لگے تو حساس اداروں، حکومت اور باشعور ومحب وطن پاکستانیوں کے کان کھڑے ہونا فطری امر ہے۔
مجھے ذاتی طور پر اس بات سے اور اس نام سے اتفاق نہیں کہ منظور نے پی ٹی ایم تحریک ومومنٹ کے ذریعے صرف پختونوں کو مظلوم قرار دے کر آواز اٹھائی ہے اور اس آواز کی آڑ میں ’’آزادی کے ترانے‘‘ افغانستان تک گونجنے لگے ہیں۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں صرف پختون متاثر نہیں ہوئے بلکہ پاکستان زخم زخم ہوچکا ہے، ہاں پختونخوا اور قبائلی علاقے زیادہ متاثر ہوئے، بہرحال پشتین اگر اپنی اسی تحریک کو صرف پشتونوں کے بجائے سارے پاکستان میں لاپتہ لوگوں کے حوالے سے آگے بڑھائے تو اس سے قوم پرستی اور ’’پختونستان‘‘ کی بو نہیں آئیگی اور سارے آئین وقانون پر یقین رکھنے والے لوگ تائید وتعاون کرینگے۔ منظور پشتین تحریک شوق سے چلائیں لیکن پاکستان کی سا لمیت کیخلاف عناصر کو اپنی صف سے باہر رکھیں اور داسنگہ آزادی دہ؟ ٹائپ چیزوں سے دور رہیں تو ان کیلئے بہتر رہے گا۔ مجھے معلوم ہے کہ جوانی ہو، پشتون تاریخ کے واقعات بھی ذہن میں ہوں، پشتونوں کو آگ وخون کے جن دریاؤں سے گزرنا پڑا۔۔ یہ سب جوانی کی عمر میں جذبات میں آگ لگا دیتے ہیں لیکن جذبات کو قابو میں رکھنا اور اسلام وپاکستان کو اولیت دینا بہت ضروری ہے۔ جہاں تک پاکستان زندہ باد تحریک کی بات ہے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ خواہ مخواہ کی لڑائی کو بڑھاوا دینے کی بات ہے۔ پاکستان انشاء اللہ زندہ ہے زندہ رہے گا۔ یہ ملک اللہ تعالیٰ کے معجزے کے طفیل دنیا میں ایک بڑے کردار کی ادائیگی کیلئے وجود میں آیا ہے۔ اسے کچھ نہیں ہوگا انشاء اللہ۔ لہٰذا اس قسم کی چیزوں پر وسائل ضائع کرنے کی ضرورت نہیں، یہ وسائل غریب پاکستانیوں پر خرچ کریں تو فائدہ مند ہو گا۔

اداریہ