Daily Mashriq


اوورسیز پاکستانیوں کا زرمبادلہ میں کردار

اوورسیز پاکستانیوں کا زرمبادلہ میں کردار

کے دیہی علاقوں میں سے جب کسی گھر کا فرد بیرون ملک میں نوکری کیلئے جاتا تو گاؤں کے دیگر گھرانوں کیلئے یہ بہت بڑی بات تصور کی جاتی تھی ،ایسے گھرانے گاؤں کے دیگر گھرانوں کی نسبت خوشحال ہوتے تھے، پھر دیکھا دیکھی یہ روایت بن گئی اور ہر بے روزگار نوجوان روزی روٹی کی تلاش میں بیرون ملک جا کر ملازمت اختیار کرنے لگا حتیٰ کہ پاکستان کے پڑھے لکھے نوجوان بیرون ملک معمولی معمولی نوکریاں کرنے پر بھی مجبور ہوئے ،ایسے ملازم پیشہ افراد کی زیادہ تر تعداد عرب ممالک کا سفر کرتی تھی اس کی بنیادی وجہ برادراسلامی ممالک اور وہاںمقدس مقامات کا ہونا تھا،دوسری بات یہ تھی کہ یورپی ممالک کی نسبت عرب ممالک کو افرادی قوت کی ضرورت تھی اور اسی بنا پر پاکستانی محنت کشوں کو عرب ممالک کا ورک ویزہ بھی آسانی سے مل جاتا تھا،پھر اس میں ایک نیا موڑ آیا کہ عرب ممالک میں مزدوری کیلئے جانے والے محنت کشوں کو پاکستان سے ٹریول ایجنٹس دھوکہ دے کر لوٹنے لگے اور عرب ممالک میں کفیلوں کا بھی محنت کشوں کے ساتھ سلوک دوستانہ نہ رہا ،یوں عرب ممالک کو اپنا گھر سمجھنے والے محنت کشوں کیلئے مذکورہ ممالک میں مزدوری کے لئے حالات ساز گار نہ رہے ،جب سے شہزادہ محمد بن سلمان نے اختیارات سنبھالے ہیں اور غیرملکیوں کے بجائے اپنے شہریوں کیلئے ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کی پالیسی اپنائی ہے تب سے عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب میں پاکستانی محنت کشوں کیلئے مشکلات بڑھ گئی ہیں،بہت سے پاکستانی محنت کشوں کو نوکریوں سے بر طرف بھی کر دیا گیا ہے یوں جن گھرانوں کا سسٹم احسن انداز سے چل رہا تھا انکی زندگی میں مشکلات نے ڈیر ے ڈال لئے ہیں ۔ان حالات کا تقاضا تھا کہ پاکستانی محنت کشوں کیلئے روزگار کے متبادل ذرائع تلاش کئے جاتے جہاں پاکستانیوں کو روزگار کے ساتھ ساتھ عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔اس حوالے سے خام تیل کی قیمت میں کمی کے باعث مالی مشکلات میں پھنسے سعودی عرب میں ہزاروں پاکستانیوں کے بیروزگار ہو جانے کے بعد پاکستان نے وسطی ایشیائی لیبر مارکیٹ میں جگہ بنانے کیلئے اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ آذربائیجان وہ پہلا ملک ہو گا جو پاکستان سے افرادی قوت منگوائے گا۔پاکستانی افرادی قوت کے حصول کیلئے آذربائیجان کی وزارت محنت اور سماجی تحفظ کی جانب سے اوورسیز پاکستانی اور ہیومن ریسورسز ڈویلپمنٹ ڈویژن کو افرادی قوت،روزگار اور سماجی تحفظ کے شعبے میں تعاون سے متعلق معاہدہ کا مسودہ بھی مل چکا ہے۔جبکہ پاکستان کے غیر ملکی اور اقتصادی امور سے متعلق ڈویژن نے اس مسودے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے جبکہ قانون و انصاف ڈویژن بھی اس کاجائزہ مکمل کر چکا ہے۔ آذر بائیجان اور پاکستان کے درمیان گیس اور تیل کی تجارت اور پاکستان میں ایل این جی ٹرمینل کی تعمیر سے متعلق بھی ایک معاہدہ کیا جائے گا۔امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کو مالی مشکلات سے نکالنے میں اوورسیز پاکستانیوں کا ہمیشہ اہم کردار رہا ہے یہاں تک کہ ہر بجٹ اوورسیز پاکستانیوں کے زرمبادلہ کو سامنے رکھ کر تشکیل دیا جاتا رہا ہے اگریہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ اوورسیزپاکستانیوں کے تعاون کے بغیر حکومت کیلئے بجٹ تشکیل دینا مشکل امر ہے۔گزشتہ دنوں بیورو آف امیگریشن کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ بھی اس امر کی توثیق کرتی ہے کہ سمندر پار محنت کش پاکستانیوں کی تعداد 1 کروڑ 10لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ جبکہ 17-2016ء میں سمندر پار پاکستانیوں نے 19 ارب 35 کروڑ ڈالر زرمبادلہ ملک میں بھیجا، دستاویز کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے سال 16-2015 میں 19 ارب 91 کروڑ 61 لاکھ ڈالر زرمبادلہ ملک بھیجا تھا، جب کہ گزشتہ سال سمندرپار پاکستانیوں کے زرمبادلہ میں 62 ارب 18 کروڑ روپے کی کمی آئی۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ غیر یقینی صورتحال کے باعث پاکستانیوں کو ورک ویزوں کے حصول میں سخت مشکلات کا سامنا رہا اور بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند پاکستانیوں کے ورک ویزوں کے اجراء میں تشویشناک حد تک کمی آگئی۔ مشرق وسطیٰ کے حالات، یمن اور سعودی عرب میں جنگ ویزوں کے اجراء میں کمی کی بڑی وجہ بنی۔دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ 2017 میں پاکستانیوں کو ساڑھے تین لاکھ کم ویزے جاری کیے گئے، غیر یقینی صورتحال اور ویزوں کے اجراء میں کمی سے زرمبادلہ پر بھی منفی اثر پڑا جب کہ سب سے زیادہ ویزوں میں کمی سعودی عرب اور یو اے ای کی جانب سے کی گئی ،پاکستان آبادی کے لحاظ سے بڑے مماک میں شمار ہوتا ہے جس میں بڑی تعداد بے روزگار نوجوانوں کی ہے۔ہمارے پاس بظاہر ان پڑھے لکھے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے مواقع نہیں ہیں ،چین نے تو پوری دنیا کی کمپنیوں کو اپنی جانب متوجہ کرکے اپنے ہی ملک میں نوجوانوں کو روزگار فراہم کردیا ہے جبکہ ہم ایسا نہیں کر سکتے ،ہم جو کرسکتے ہیں ہمیں وہ کرنا چاہئے کہ اپنے نوجوانوں کو ان ممالک میں بھجوائیں جنہیں افرادی قوت کی ضرورت ہے ۔عرب ممالک میں چونکہ روزگار اور محنت کشوں کیلئے حالات سازگارنہیں رہے اسلئے آذربائیجان اور ایسے ممالک جن کی طرف دیگر ممالک کی توجہ کم ہے ،اس میں خوش کن بات یہ ہے کہ آذربائیجان جیسے ممالک پاکستانیوں کی دل سے قدر کرتے ہیں۔ ہمارے پالیسی میکروں کو اس جانب توجہ دینی چاہئے تاکہ نوجوانوں کو روزگار اورہمارے زرمبادلہ کے ذخائرمیں اضافہ ہواور ہم کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی بجائے اپنی محنت کے ذریعے ترقی کی منازل طے کریں۔

متعلقہ خبریں