Daily Mashriq


پختہ کار جفا

پختہ کار جفا

ہیں کہ لڑائی کے بعد جو ’’مکا‘‘ یاد آئے اُس کو اپنے منہ پر مار لینا چاہیے۔ نوازشریف چار سال تو نہیں بولے اب انہیں سب باتیں یاد آ رہی ہیں۔ ٹرتھ اینڈ ری کنسلیشین کمیشن بنانے کا عہد میثاق جمہوریت میں کیا گیا تھا لیکن آصف زرداری کے پانچ سالہ عہد میں نواز شریف نے اس جانب توجہ دلائی اور نہ بعد ازاں اپنے پانچ سالوں میں انہیں یہ خیال ستایا کہ سچائی اور مفاہمت پاکستان کی بقاء ، سلامتی اور خوشحالی کے لیے کس قدر ضروری ہے۔پارلیمنٹ کی 26رُکنی کمیٹی نے آئین کی مکمل اوور ہالنگ کی اور مسلم لیگ ن کے زعماء کے پیش نظر نواز شریف کے لیے تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے کی شق تو تھی لیکن ٹرتھ اینڈ ری کنسلیشن کمیشن کا قیام نہ تھا۔ یہ لوگ مستقبل کی جمع تفریق میں اُلجھے ہوئے تھے لہٰذا کوئی ماضی کریدنے کے لیے تیار نہ تھا۔ اسی کمیشن کا قیام عمل میں آتا تو سب سے پہلے اہل سیاست کو اپنی برائیوں کو سامنے لانا پڑتا جس کے لیے یہ چنداں تیار نہ تھے۔ نواز شریف کیوں بتاتے کہ انہوں نے اقتدا رکے پہلے ادوار میں ملکی خزانے کو کیسے اور کس پر لٹایا اور یہ کہ پاکستان سے ان کی دولت کب اور کہاں منتقل ہوئی اور بیرون ملک جائیدادیں بنیں؟ جناب زرداری بھی قوم کو یہ بتانے پر آمادہ نہ تھے کہ سرے محل کیسے بنا اور سوئٹزر لینڈ کے بینکوں میں 60ملین ڈالر کس طرح پہنچے؟ منو بھائی کی نظم یاد آتی ہے۔ 

احتساب دے چیف کمشنر صاحب بہادر… چوراں ڈاکوواں قاتلاں کولوں…

چوراں ڈاکوواں قاتلاں بارے کیہ پچھدے او

ایہہ تہانوں کیہ دسن گے ‘ کیوں دسن گے

دسن گے تے جنج وسدے نیں ، کنج وسن گے

دِتی اے کدی کسے نیں اپنے جرم دی آپ گواہی

کیڑا پاندا اے اپنے ہتھ نال اپنے گل وچ موت دی پھاہی…

کھوجی رسہ گیر نے سارے کیہ پچھدے او

اک دوجے دے جرم سہارے کیہ پچھدے او

ڈاکوواں کولوں ڈاکوواں بارے کیہ پچھدے او

بحیثیت قوم یہ ہماری بدقسمتی تھی کہ وعدے کے باوجود اہل سیاست ایک ایسے کمیشن کے قیام پر رضا مند نہ ہوئے جو ماضی دفن کر کے ہمیں آگے بڑھنے میں مدد دیتا۔ قدرت نے اہل سیاست کی یہ غلطی معاف نہ کی اور نواز شریف پانامہ اسکینڈل کی وجہ سے ماضی میں کیے گئے غلط کاموں میں پھنس کر رہ گئے۔ اگر ٹرتھ اینڈ ری کنسلیشن کمیشن بن گیا ہوتا اور یہ تمام معاملات زیر بحث آ گئے ہوتے تو شاید آج نواز شریف احتساب عدالتوں کے چکر نہ لگا رہے ہوتے۔ میاں نواز شریف اور آصف زرداری کی قیادت سے میں اُسی دن مایوس ہو گیا تھا جب ان لوگوں نے پاکستان کا آئی ایم ایف کے پاس تو جانا قبول کر لیا لیکن بیرون ملک پڑی اپنی دولت پاکستان واپس لانے پر رضامند نہ ہوئے۔ یہ غالباً 2009کے اواخر یا 2010ء کے اوائل کی بات ہے۔ پرویز مشرف کی آمریت کے بعد جمہوریت پسندوں کا راج تھا اور ان کی ساکھ بام عروج پر تھی۔ پھر یوں ہوا کہ آٹھ سال غلطیوں کی معافیاں مانگنے والے اور قوم کو یہ باور کرانے والے کہ ہم مکمل تبدیل ہو چکے ہیں پاکستانی قوم کے سامنے ایک ایک کر کے بے نقاب ہونے لگے۔ قوم کے سامنے آج پھر وہی چہرے تھے اور وہی طور اطوار۔ اپنی ذات کو مقدم رکھنا اور اپنے مفادات کاتحفظ کرنا ان کا یک نکاتی ایجنڈا تھا۔ کیا نواز شریف اور کیا آصف علی زرداری سب ایک جیسے ثابت ہوئے۔ آصف زرداری نے پارلیمنٹ کے حق میں اپنے اختیارات سے سرنڈر کیا تو میں نے ان کی مدح میں روسی وزیر اعظم خروشیف کی کہانی لکھی جس کا سبق یہ ہے کہ منصب انسان کے اندر بتدریج وہ خوبیاں پیدا کر دیتا ہے جو پہلے اُس میں نہیں ہوتیں۔ میں نے لکھا کہ شاید صدر پاکستان کے منصب نے انہیں بدل ڈالا ہو مگر صدر زرداری کے اندر سے وہی نوے والا آصف زرداری ہی نکلا۔ پاکستانی قوم نے بھی کیا قسمت پائی ہے۔

ہمیں جو بھی بے وفا ملا

بڑا پختہ کار جفا ملا

نہ کسی کی ضرب غلط پڑی

نہ کسی کا وار خطا ہوا

آج نواز شریف چاہتے ہیں کہ ٹرتھ اینڈ ری کنسلیشن کمیشن بن جائے اور اپنی بجائے وہ پاک فوج کو کٹہرے میں لا کھڑا کر دیں۔ وہ فوج جس نے ہمیشہ پاکستان کی سلامتی کی جنگ لڑی اور جو گزشتہ اٹھارہ برسوں سے پاکستان کو دہشت گردی کے عفریت سے نجات دلانے اور ایک پروگریسو معاشرے کے قیام کے لیے قربانیاں دینے میں مصروف ہے۔ میاں نواز شریف نے اپنے دور میں پاک فوج کو مسلسل نیچا دکھانے اور بین الاقوامی دنیا کے سامنے اس کا منفی امیج پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ حیران ہوتا ہوں کہ کسی ملک کا تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے والا کوئی شخص اپنے ملک کی افواج کے بارے میں اس قدر مخاصمانہ سوچ کا حامل ہو سکتا ہے۔ نواز شریف الفت ذات میں مبتلا ہو کر بہت آگے جا چکے ہیں ۔ انہیں پاکستان کی پرواہ ہے اور نہ اپنے اداروں کی، ان کی سوچ پاکستان کو بچانے کی نہیں اسے برباد کرنے کی سوچ ہے جس کی ہر شخص کو مذمت کرنی چاہیے۔

متعلقہ خبریں