Daily Mashriq

بلوچستان کی خاتون ایم پی اے سرکاری محکموں میں ڈے کیئر سینٹر کے قیام کیلئے پُرعزم

بلوچستان کی خاتون ایم پی اے سرکاری محکموں میں ڈے کیئر سینٹر کے قیام کیلئے پُرعزم

بلوچستان کی خاتون رکن اسمبلی مہ جبین شیریں نے اسمبلی میں بچوں کو اجلاس میں نہ لانے سے متعلق قوانین میں ترمیم کے لیے مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے اسمبلی اجلاس کے دوران بچے کو ساتھ لانے پر مہ جبین شیریں پر ساتھی اراکین نے شدید تنقید کی تھی۔

ایک رکنِ اسمبلی نے ان سے ایوان سے جانے کا مطالبہ کیا تھا جس سے انہیں بہت دکھ ہوا تھا، بیمار بچے کو اسمبلی میں لانے پر مہ جبین کو قانون سازوں نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

مہ جبیں شیرین کا تعلق ضلع کیچ سے ہے، وہ 2018 میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر بلوچستان اسمبلی کی رکن بنی تھیں۔

بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ 11 مئی کو ان کے بیٹے کی طبیعت خراب تھی اور ان کے پاس بچے کو ساتھ لےکر آنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ' میرا بچہ اجلاس شور نہیں کررہا تھا لیکن انہوں نے مجھے ایوان سے باہر جانے کے لیے کہا، ایک ملازمت پیشہ خاتون کے لیے کام پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا بچہ ساتھ ہو'۔

وزیر صوبائی اسمبلی نے کہا کہ انہوں نے دیگر ممالک میں خواتین سیاست دانوں کو اپنے بچے پارلیمنٹ کے اجلاس میں لے جاتے ہوئے دیکھا تھا اس لیے انہیں لگا کہ پاکستان میں بھی ایسا ہوتا ہوگا۔

تاہم مہ جبین شیریں کو اس وقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب انہیں بتایا گیا کہ اسمبلی میں بچوں کو ساتھ لے کر آنا قانون کے خلاف ہے۔

مہ جبین شیریں نے بتایا کہ 'میں اسمبلی سیکریٹری کے پاس گئیں اور انہیں ایک خالی کمرے تک رسائی کا کہا لیکن سیکریٹری نے کہا کہ کمرے وزرا کے لیے ہیں انہیں ڈے کیئر سینٹرز میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا'۔

انہیں اس بات کا افسوس ہے کہ اجلاس کے دوران کسی نے ان کی حمایت نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ' دیگر معاملات ہم واک آؤٹ کرجاتے ہیں لیکن خواتین اراکین سمیت کوئی بھی میری حمایت میں کھڑا نہیں ہوا'۔

مہ جبیں نے کہا انہوں نے صوبائی اسمبلی سے منفی رد عمل کے بعد اسمبلیوں اور حکومتی محکموں میں ڈے کیئرکی سہولت فراہم کرنے کے لیے مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر صوبائی اسمبلی نے کہا کہ انہوں نے اس حوالے سے وزیر اعلیٰ سے بات چیت کی ہے اور دیگر رہنماؤں سے بھی بات کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ دیگر اراکین بھی میرا ساتھ دیں گے

متعلقہ خبریں