Daily Mashriq


مرے کو مارے شاہ مدار

مرے کو مارے شاہ مدار

ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت چالیس لاکھ پاکستانی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور ایک ملین افراد بیروزگار ہیں، افراط زر کی شرح لگ بھگ 9.41فیصد ہے، جاری حالات میں مزید مہنگائی، مزید بیروزگاری کا خدشہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق خدا نخواستہ مزید اسی لاکھ افراد کے خط غربت سے نیچے جانے اور دس لاکھ افراد کے بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے، متاثر تو پورے ملک کے عوام ہیں۔ ڈالر کا ریٹ روپے کے مقابلے میں بڑھنے، بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کو مہمیز ملتی ہے۔ ان سارے عوامل کے علاوہ ایک بہت بڑی وجہ ان حالات سے فائدہ اُٹھا کر خودساختہ اور اضافی مہنگائی بھی کرنے میں ہمارا تاجر طبقہ پوری طرح ملوث ہے جس کیلئے دیگر مختلف حربوں کے علاوہ سب سے برا حربہ ذخیرہ اندوزی اور اشیاء مارکیٹ سے غائب کر کے طلب ورسد کا توازن بری طرح بگاڑ کر کئی کئی گنا زیادہ منافع کمانے کی لالچ ہے اور بدقسمتی سے وہ اس میں کامیاب بھی ہوتے ہیں۔ ان عناصر کی چالبازیوں کے مقابلے میں سرکاری مشینری کے اقدامات ہیچ اور نمائشی ہیں، رمضان المبارک کی پہلی تاریخ سے قبل اور پہلی تاریخ کے سبزی کے نرخوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو دس، بیس، تیس، چالیس اور پچاس روپے فی کلو تک اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح ہر چیز کی قیمت کو پر لگ گئے ہیں۔ عید اور بجٹ کی آمد پر نجانے کیا عالم ہوگا۔ رمضان المبارک کی آمد پر لیموں کا استعمال بڑھنا کس حد تک ضرورت اور کس حد تک نفسیاتی مسئلہ ہے اور لوگ کیوں تخم ملنگا، گوند کتیرہ وغیرہ جیسے روایتی اشیاء کو بطور بہتر متبادل استعمال کرنے کی بجائے مہنگے داموں لیموں کی خریداری کو لپکتے ہیں اور اسی کیفیت کا تاجروں اور آڑھتیوں کو بخوبی علم ہے جس کا وہ فائدہ اُٹھاتے ہوئے لیموں کا ذخیرہ کرتے ہیں۔ پشاور میں ایک کولڈ سٹوریج پر چھاپے میں نوسو کلوگرام لیموں کا ذخیرہ برآمد ہوا ہے، مارکیٹ میں اس کی قیمت چھ سو روپے کلو رہنے کی بڑی وجہ بھی یہی ذخیرہ اندوزی ہی ہوگی۔ یہ محض ایک جھلک لگتا ہے کیونکہ لیموں کے استعمال میں لوگوں کی دلچسپی اور ضرورت ایسی نہیں کہ مہنگا ہونے پر اس کا استعمال کم یا ترک نہ کیا جا سکے، اگر اس کا اتنا ذخیرہ کیا جارہا تھا تو پھر دیگر اشیائے خوردنی کا کیا عالم ہوگا۔ یہ تو قدرت نے سبزیوں، اناج، آٹے جیسے اشیائے خوراک کو جلد خراب کرنے کا انتظام کر رکھا ہے، سبزی جلدی گل سڑ جاتی ہے اور اناج وآٹے دالوں وغیرہ میں کیڑے پڑ جاتے ہیں، وگرنہ منافع خور اور ذخیرہ اندوز اس کی کتنی قلت پیدا کرتے اس کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ رمضان المبارک کے اس مقدس مہینے میں تاجروں کو مال تجارت اور اصول تجارت کے اسلامی اصولوں کو بتانے کا خاص طور پر اہتمام ہونا چاہئے اور صدق پر مبنی تجارت کے مرتبہ کا بھی ان کو بتانے کی ضرورت ہے جو خوف خدا نہ کرنے والے ہوں ان سے سختی سے نمٹنا ہی واحد حل ہے۔ انتظامیہ نے مختلف متعلقہ محکموں کے نمائندوں کی ٹیم کیساتھ لیموں ذخیرہ کرنے والوں کیخلاف جو کارروائی کی، اس طرح کے اقدامات سے جہاں ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے عملی اقدامات کی ضرورت ہے وہاں آڑھتیوں اور پرچون فروشوں پر بھی سرکاری قیمت فروخت لاگو کرنے اور قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کے اقدامات بھی ضروری ہیں۔رمضان المبارک کے موقع پر ضلعی انتظامیہ کی مساعی سے بھی یکسر انکار ممکن نہیں البتہ یہ کافی نہیں۔ سرکار کی طرف سے اس امر کا اعلان بار بار کیا جاتا ہے کہ شہر میں کہیں بھی اگر ان سے سرکاری نرخ نامہ سے زیادہ قیمتیں وصول کی جائیں تو وہ کمپلینٹ نمبرز پر رابطہ کریں۔ رمضان المبارک میں اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے علی الصبح سبزی وفروٹ منڈی کا دورہ کرتے ہوئے سرکاری نرخ نامہ بھی جاری کیا جاتا ہے جو اچھی کوشش ہے لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ گراں فروش پھر بھی باز نہیں آتے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر ڈپٹی کمشنر پشاور اپنے اختیارات اور اقدامات میں کامیاب نہ رہے تو شہری ان سے لاحاصل شکایت بھلا کیوں کریں۔ ہمارے تئیں ضلعی انتظامیہ کی بساط بھر سعی اپنی جگہ لیکن انتظامیہ جب تک مزید سخت اقدامات نہیں کرتی اور دکانداروں کے دلوں میں یقینی قید اور جرمانے کا خوف جاگزیں نہیں ہوتا تب تک صورتحال میں بہتری ممکن نہیں۔ ضلعی انتظامیہ کو شکایات ملنے کا انتظار نہیں کرنا چاہئے ان کو اس امر کا سوفیصد یقین ہونا چاہئے کہ صوبائی دارالحکومت میں کسی ایک چھوٹے بڑے سٹور پر سبزی اور فروٹ منڈیوں میں سرکاری نرخنامے کی پابندی نہیں کی جاتی اور نہ ہی کوئی پھل فروش‘ سبزی والا اور مرغی فروش سرکاری نرخنامے کو درخوراعتناء سمجھتا ہے۔ ایسے میں سرکاری نرخنامہ نمائشی اور مذاق بن کر رہ گیا ہو تو شہریوں سے شکایات وصولی کا ڈھکوسلہ کرنے کی بجائے راست اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انتظامیہ اگر روزانہ کی بنیاد پر ہر چھوٹے بڑے بازار سے دکانداروں کو بڑے پیمانے پر گرفتار کرے اور ایسی دفعات لگائے کہ عیدالفطر جیل میں گزارنی پڑے تب بھی سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد تو ممکن نہ ہوگا البتہ تاجر کم ازکم اسے تھوڑی سی وقعت دینے کی زحمت ضرور گوارہ کرلیں گے۔ عوام کو سہولت کی فراہمی کیلئے سستے رمضان بازار لگانے اور یوٹیلٹی سٹورز سے بھی مہنگائی میں کمی نہیں لائی جاسکی۔ وقت سے پہلے اگر منصوبہ بندی کیساتھ مصنوعی مہنگائی کا مقابلہ مارکیٹ کے اقدامات سے کیا جاتا اور عوام کے پاس متبادل خریداری کا کوئی موقع دستیاب ہوتا تو صورتحال شاید اس قدر بے قابو نہ ہوتی جتنی اب ہے۔

متعلقہ خبریں