Daily Mashriq

اندھیرے میں امید کی کرنیں

اندھیرے میں امید کی کرنیں

پیک کے شاہ مقصود ٹو مانسہرہ سیکشن کے ایک ٹنل جس کا افتتاح اگست میں متوقع ہے۔ سوات ایکسپریس وے کا رمضان المبارک کے اختتامی ایام میں ٹریفک کیلئے کھولنے اور عیدالفطر کے بعد باقاعدہ افتتاح کرنے، لواری ٹنل کے کام کی بھی قریب قریب تکمیل کے علاوہ صوبے میں سڑکوں اور شاہراہوں کی جاری تعمیر سے خیبر پختونخوا میںذرائع مواصلات کی ترقی عوام کو سہولت تجارت وکاروبار کے مواقع میں اضافہ اور سیاحت کے فروغ میں اضافے سے خطیر آمدنی کی توقع ہے۔ صوبے میں سیاح ایسے علاقوں تک بھی پہنچتے ہیں جہاں غیر ملکی سیاحوں کی آمد کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا مگر اس کے باوجود شندور پولو فیسٹول اور چلم جوشٹ میں دشوار اور طویل سفر طے کر کے سیاحوں کی شرکت خوش آئند ہے۔ سڑکوں کی تعمیر اور پن بجلی کے منصوبوں کی تکمیل اگرچہ مشکل کام ضرور ہوتا ہے لیکن ایک مرتبہ پایۂ تکمیل کو پہنچنے پر پشت درپشت استفادہ ممکن ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گزشتہ حکومتوں کے منصوبوں کے جو اثرات اس وقت نظر آنے لگے ہیں اسی طرح موجودہ حکومت کو بھی ایسے نافع منصوبوں پر خاص طور پر توجہ کی ضرورت ہے۔ صوبے میں بی آر ٹی کی صورت میں ایک بہت بڑا منصوبہ مکمل ہونے کو ہے اور مہمند ڈیم کی تعمیر کا آغاز ہو چکا ہے جو خوش آئند اور صوبے کی ترقی وخوشحالی کیلئے اہم ہوگا۔ عوام کا مہنگائی اور مشکلات کے ہاتھوں متاثر ہونا حقیقت ہے لیکن اس قسم کے منصوبوں کی صورت میں امید کی جو کرنیں باقی ہیں عوام کو یقین رکھنا چاہئے کہ وہ ان مشکلات سے دیر یابدیر ضرور نکل آئیں گے اور صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

وزیراعلیٰ اپنے سکریٹریٹ کے مصارف میں کمی لائے

ہمارے نمائندے نے اعداد وشما کیساتھ وزیراعلیٰ سکریٹریٹ کے حوالے سے جو خبر دی ہے اس کے مطابقحکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے باوجود وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے اخراجات میں گزشتہ سال کی نسبت رواں مالی سال کے دوران 9کروڑ روپے سے زائد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اخراجات میں اضافہ تنخواہوں کے علاوہ مراعات، تفریح اور دیگر مدات کی مد میں خرچ کئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کی دستاویزات کے مطابق گزشتہ مالی سال2017-18ء کے دوران وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے اخراجات 15کروڑ 41لاکھ 42ہزار روپے تھے جبکہ رواں مالی سال 2018-19ء کے دوران وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے اخراجات میں 9کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ہے اور اخراجات 24کروڑ 39لاکھ 92ہزار 599روپے تک پہنچگئے۔ وزیراعلیٰ سکریٹریٹ کے اخراجات میں مہنگائی کے تناظر میں تھوڑے سے اضافہ کی گنجائش اس وقت ہوتی جب کفایت شعاری اختیار نہ کی گئی ہوتی یہاں تو کفایت شعاری میں اخراجات میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ کو اپنے سکریٹریٹ کے اخراجات پر قابو پانے غیرضروری بھرتیوں اور دیگر مدات میں حتی المقدور کفایت اختیار کرنے کی ہدایت اور سعی کرنی چاہئے۔ کابینہ کے دیگر اراکین اور محکموں کو بھی اس کی ہدایت کرنی چاہئے۔ وزیراعلیٰ سکریٹریٹ مثال قائم کرے تو اس کی تقلید فطری امر ہوگا۔

نجی سکولوں سے احکامات کی پابندی کون کرائے گا

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی جانب سے پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کو مزید بااختیار اور مضبوط بنانے کیلئے قانون میں ضروری ترامیم کی ہدایت اس امر پر دال ہے کہ اتھارٹی کا قیام جس مقصد کیلئے کیا گیا تھا اس پر پورا اترنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ نجی سکولوں کی من مانیاں اور والدین کی شکایات سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے، بہرحال وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی یہ یقین دہانی خوش آئند ہے کہ نجی سکولوں میں چھٹیوں کی فیس، فیس میں اضافے اور دیگر معاملات کے حوالے سے اعلیٰ عدلیہ کے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا اور صوبائی کابینہ کے اجلاس میں بھی اس امر کی تائید کی جا چکی ہے۔ اتھارٹی کابینہ اجلاس کے فیصلے کو سامنے رکھ کر اپنا کام کرے۔ عدالتی احکامات سے متعلق نجی سکولوں کو اپنی تشریح کا موقع ملنا اور ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے سخت اقدامات سے گریز کے باعث والدین اور طلبہ کا استحصال ابھی بند نہیں ہوا اور سکول انتظامیہ دباؤ ڈال کر مرضی کی فیس وصول کر رہے ہیں۔ سکولوں نے اپنے مفاد کے فیصلے پر فوراً بقایاجات کی صورت میں رقم وصول کرنے میں ذرا دیر نہیں لگائی مگر اب عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہیں ہورہا ہے جس کا سختی سے نوٹس لینا اور عملدرآمد یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں