Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

ایک روز حضرت سلیمان علیہ السلام نے سارے پرندوں کو حکم دیا کہ میرے دربار میں حاضر ہو کر اپنا کمال بیان کرو، ہر پرندہ بتائے کہ اس میں کیا کمال ہے چنانچہ سب پرندے حاضر ہوئے۔ مور، کبوتر، ہد ہد، کوا وغیرہ، ہر پرندہ حاضر ہو گیا۔ سب اپنا اپنا کمال بیان کرنے لگے۔ ہد ہد کی باری آئی تو اس نے کہا حضور: مجھے یہ کمال حاصل ہے کہ چاہے کتنا اونچا اڑتا ہوں اور زمین سے کتنی ہی دور ہو جاؤں میری نظر اتنی تیز ہے کہ میلوں دور اوپر سے زمین کے ذرے ذرے کو دیکھ لیتا ہوں۔ نہ صرف یہ کہ سطح زمین کی ہر چیزکو دیکھ لیتا ہوں بلکہ زمین کے اندر جہاں پانی ہو وہ بھی دیکھ لیتا ہوں اور پھر حضور اس پانی کا ذائقہ بھی معلوم کر لیتا ہوں کہ کڑوا ہے کہ میٹھا۔ حضور آپ مجھے اپنے ساتھ رکھا کیجئے۔ آپ اپنے تخت پر تشریف فرما ہوکر ہوا پر سیر فرماتے ہوئے جہاں بھی جائیں مجھے ساتھ رکھیں، میں زمین پر نگاہ رکھا کروں گا، جہاں بھی زمین کے اندر میٹھا پانی نظر آیا کرے گا میں بتا دیا کروں گا۔ آپ اپنا تخت وہاں اتار کر اپنا دربار لگا لیا کیجئے۔ سلیمان علیہ السلام اس کا کمال سن کر بہت خوش ہوئے۔ کوا ہد ہد کا یہ کمال اور اس کی عزت افزائی دیکھ کر حسد کے مارے جل بھن گیا اور کہنے لگا، حضور ایک میری عرض بھی سن لیجئے۔ ہد ہد نے بالکل جھوٹ بولا ہے اس میں ہرگز یہ کمال نہیں ہے جو اس نے بیان کیا ہے۔ اتنی دور آسمان پر اڑتے ہوئے اگر یہ زمین کی سطح کی چیزیں بلکہ زمین کے اندر کی چیزیں بھی دیکھ سکتا ہو تو شکاری کے جال میں کبھی نہ پھنستا۔ ہد ہد جال کے اندر جو دانہ پڑا ہوتا ہے اس کو کھانے کو کود پڑتا ہے اور جال اسے نظر ہی نہیں آتا۔ ہد ہد اگر اتنا ہی باکمال ہوتا تو اسے دانے کیساتھ جال بھی نظر آجایا کرتا۔ سلیمان علیہ السلام نے ہد ہد سے فرمایا سنا کوے کا اعتراض؟ تمہارے پاس اس کا کیا جواب ہے؟ ہد ہد نے کہا حضور یہ حاسد ہے اور حسد میں میرے کمال کا انکار کر رہا ہے۔ آپ میرا امتحان لے لیجئے میں نے جو کچھ کہا ہے اگر صحیح نہ ہو تو ابھی میرا سر تن سے جدا کر دیجئے۔ حضور نظر تو میری واقعی تیز ہے لیکن جب اس پر قضا کا پردہ پڑ جاتا ہے تو پھر مجھے جال نظر نہیں آتا۔ اس حاسد کو میرے کمال پر اعتراض کرنا تو سوجھا لیکن اسے تقدیر وقضا کی حقیقت نہ سوجھی۔

(حکایات)

جب امام احمدؒ کا انتقال ہوا تو ان کے کفن کیلئے ابن طاہر نے کپڑا بھیجا لیکن وہ کفن کا کپڑا واپس بھیج دیا گیا اور امام احمدؒ کے چچا نے کپڑا لانے والے الیچی سے کہا کہ جا کر ابن طاہر سے کہنا کہ احمدؒ نے زندگی میں میرے غلام سے راحت حاصل کرنے کیلئے کبھی پنکھا نہیں جھلوایا، محض اس خوف کی وجہ سے کہ کہیں میں نے وہ غلام بادشاہ کی طرف سے بطور وظیفہ ملنے والی رقم سے نہ خریدا ہو۔ (جب زندگی میں ان کی یہ کیفیت تھی) تو ان کی موت کے بعد ہم کس طرح انہیں آپ کے مال سے خریدے ہوئے کپڑے کا کفن دے سکتے ہیں۔

(سلف صالحین کے ایمان افروز واقعات)

متعلقہ خبریں