Daily Mashriq


بھارتی سیاست کی منافرت

بھارتی سیاست کی منافرت

بھارت میں عام انتخابات اب آخری مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، ان انتخابات کی بنیاد وہی پرانی پاکستان دشمنی، پاکستان کے وزیراعظم سے مودی اور راہول گاندھی کی دوستی کی اپنی اپنی داستانیں بنائی گئیں ہیں، مگر بھارت کے عوام خاص طور پر بھارت کی اقلیتو ں کے کسی آئینی تحفظ کی ضمانت، ان کے حقوق کی پاسداری کیلئے کوئی لفظ نہیں بولا جا رہا ہے بلکہ اقلیتوں کے بارے میں نفرت اُبھارنے کی سعی بد ہو رہی ہے۔ ادھر پاکستان کے وزیراعظم عمران خان بھارتی انتخابات سے یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ بھارت کے عام انتخابات کے بعد بھارت اور پاکستان کے مابین مذاکرات کے درکھل جائیں گے اور تعلقات کو خوشگوار موڑ پر لانے میںکامیابی مل جائے گی۔ بھارت جو کبھی ہندوستان ہوا کرتا تھا اس کا جنم پاکستان کیساتھ ہی ایک سیکولر ریا ست کے طور پر ہوا مگر عملاً اس پر ہندؤانہ ذہنیت ہی کا راج رہا ہے۔ شروع میں سکھ اقلیت ہندوستان کی تقسیم کیخلاف ہونے کی وجہ سے بھارتی اکثریت ہندو برادری کے جھانسوں میں رہی تاہم وقت کیساتھ ساتھ ان کو بھی احساس ہو گیا کہ نہیں ان کو بھی مسلمانوں کی طرح تیسرے درجے کا شہری قرار دیا گیا ہے، اب سکھ برادری کا رخ مڑ گیا ہے۔ جہاں تک بھارت کے عوام کا تعلق ہے ان کی سوچ وہ نہیں ہے جو ان کے حکمرانوں یا سیاسی شعبدہ بازوں کی ہے، عام آدمی بھارتی بن کر نہیں رہتا وہ ہندوستانی ہونے پر فخر کرتا ہے اور تال میں اس کیلئے اولین حیثیت کا حامل ہے۔ بھارت کے نیتاؤں کی جانب سے اپنے عوام کو ورغلانے کے مختلف ہتھکنڈے استعمال کئے جاتے ہیں۔ ان متعصب سیاستدانوں کی وجہ سے مذہبی بنیادوں پر جو منافرت فروغ دی گئی ہے اس میں یہ ڈھکوسلہ بھی شامل ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں پر بڑا جبر وتشدد ہوتا ہے، ان کے حقوق غصب ہو کر رہ گئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ حالات وواقعات کا جائزہ لیا جائے تو بات الٹ ہی نکلتی ہے، پاکستان کے صحرائے تھر کے شہر مٹھی کے وسط میں واقع درگاہ قاسم شاہ پر ماہ رمضان میں روزانہ روزہ داروں کی افطاری کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ درگاہ کے اندر ہی باورچی خانہ موجود ہے، جہاں ہندو مالہی برادری کے نوجوان خود چاول کی دیگیں تیار کرتے ہیں، جو آلو اور چنے کی بریانی پر مشتمل ہوتی ہیں۔ موہن لال جو اس مزار کے مجاور ہیں خود پورے رمضان روزے رکھتے ہیں جبکہ ان کے اہل خانہ حضرت علیؓ کی شہادت یعنی21واں روزہ اور شب قدر کا27واں روزہ رکھتے ہیں۔ درگاہ مالہی برادری کے محلے کے درمیان میں واقع ہے، مالہی برادری کے لوگ مٹھی میں کسی زمانے میں کنوؤں سے مشکوں کے ذریعے پانی بھر کر گھروں تک پہنچاتے تھے، بعد میں مٹھی نے جب جدید شہر کی شکل اختیار کر لی تو ان کے کنویں وسط شہر میں آ گئے اور ان کی ملکیت کے اچھے دام ملے، اس طرح وہ کاروباری بن گئے۔ روایتی ساڑھی اور چولی گھاگھرا پہنے ہندو اور مسلمان خواتین بھی مزار پر سلام کیلئے آتی ہیں جو افطار تک موجود رہتی ہیں۔ تھر کے ہندو مسلمانوں کیساتھ عید کی خوشی اور محرم کے غم میں شریک ہوتے ہیں جبکہ مسلمان ان کیساتھ دیوالی اور ہولی مناتے ہیں۔ موہن لال کا کہنا ہے کہ تھرپارکر میں مذہب کی بنیاد پر تفریق نہیں ہے۔ والدین نے ایک درس دیا تھا جو محبت کا تھا کہ یہ تیرا ماما ہے، یہ تیرا چچا ہے، یہ نہیں بولا کہ یہ مسلمان ہے، ہندو ہے، سکھ ہے یا مینگھواڑ ہے۔ آج بھی ہم ہندو مسلم یہاں بھائیوں کی طرح رہتے ہیں۔ درگاہ قاسم شاہ سمیت مٹھی شہر میں ایک درجن کے قریب مسلمان بزرگوں کی درگاہیں موجود ہیں اور تمام ہی کے منتظمین ہندو برادری سے تعلق رکھتے ہیں، مسلمان ہندوؤں کے عقیدت کی بناء پر عید پر شہر میں گائے کی قربانی نہیں کرتے بلکہ بکرے یا دنبہ ذبیح کرتے ہیں جبکہ شہر میں آج بھی گائے کا گوشت فروخت نہیں ہوتا۔ پھر بھارتی نیتا کس طرح اپنی قوم کو بہکاتے ہیں اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، ادھر خود انڈیا کی ریاست کرناٹک کے لینگایت ہندو دیوتا شیوا کی پوجا کرتے ہیں لیکن وہ خود کو ہندو نہیں مانتے۔ وہ ایک عرصے سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں ہندو دھرم سے الگ ایک مختلف مذہب مانا جائے اور انہیں ایک مذہبی اقلیت کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ وہ ہندو نہیں ان کا مذہب جدا ہے مگر بھارت سرکار اس ریاست کے عوام کے مطالبے کو تسلیم ہی نہیں کر رہی ہے جبکہ ایک قوم خود کہہ رہی ہے کہ ان کا مذہب ہندو نہیں ہے اب عالمی تنظیمیں جواب دیں کہ مذہبی جبر پاکستان میں ہو رہا ہے یا بھارت میں۔ جہاں نہ مسلمان نہ سکھ اور نہ ہی دوسری اقلیتیں محفوظ ہیں، ریاست میں لنگایتوں کی آبادی تقریباً 17فیصد ہے۔ لنگایت12ویں صدی کے ایک سماجی باسونا یا باسویشورا کی تعلیمات پر یقین رکھتے ہیں جو آزادی سے پہلے سے ہی ایک الگ مذہب اور مذہبی اقلیت کا درجہ دینے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ یہ جدوجہد اب تک جاری ہے۔

بی جے پی کے رہنماؤں نے انتخابی مہم کے دوران کانگریس پر الزام لگایا ہے کہ وہ ہندوؤں میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بھارت میں1955ء سے پہلے چار مذاہب کو ہندو دھرم کے حصے کے طور پر تسلیم کیا جاتا تھا۔1963 میں سکھوں کو الگ مذہب کا درجہ دیا گیا، 1993میں بودھ الگ ہوئے،2014 میں جین مذہب کو الگ تسلیم کیا گیا، اب صرف لنگایت بچے ہیں جن کو تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے۔ ہندوؤں کو مرنے کے بعد نذرآتش کیا جاتا ہے اس کے برعکس لنگایتوں میں مرنے کے بعد دفن کرنے کی روایت ہے۔ وہ ہندوؤں کے ایک دیوتا شیوا کی پوجا کرتے ہیں لیکن ان کی پوجا اور رسم ورواج بہت حد تک الگ ہیں۔ وہ12ویں صدی کے ایک مصلح باسونا یا باسویشورا کے پیروکار ہیں جنہوں نے ذات پات کی مخالفت کی تھی جبکہ ہندوازم میں اولیت ہی ذات پات کی ہے جس کو اب بھارتی نیتا سیاسی اکھاڑوں میں مذہب اور منافرت کو بنیاد بنا کر اپنا کھیل کھیل رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں