Daily Mashriq


کان پکڑوانے کے فوائد

کان پکڑوانے کے فوائد

امریکہ میں ایک نئی تحقیق کے مطابق کان پکڑ کر اٹھک بیٹھک کرنے سے دماغ میں سیکھنے کی صلاحیت تیز ہو جاتی ہے۔ لاس اینجلس کے ڈاکٹر تو اپنے مریضوں کا اسی طریقے سے علاج کرنے بھی لگے ہیں اور اس طریقے کو برین سپر یوگا یعنی دماغ کا اعلیٰ ترین یوگا کا دلکش نام بھی دیا گیا ہے۔ قربان جاؤں اپنے سکول کے وقت کے اساتذہ کی فطری قابلیتوں کے جو ماشاء اللہ اپنے وقت کے عظیم معالج بھی تھے کہ نالائق لڑکوں سے کان پکڑوا کر اور مرغا بنوا کر سزا دیتے تھے۔ اس کے علاوہ مزید قابلیت پیدا کرنے کیلئے درخت کی ایک موٹی ٹہنی سے مرغے کے بدن کے پیچھے والے حصے پر پوری ایمانی قوت سے وار بھی کرتے تھے۔بس اب یہ تحقیق ہونی چاہئے کہ امریکی تو صرف کان پکڑوا کر دماغ تیز کرواتے ہیں تو ہمارے اس وقت کے اساتذہ کرام کان پکڑوانے کیساتھ ساتھ مرغا بھی کیوں بنواتے تھے، شاید اس میں بھی کوئی مصلحت ہوگی کیونکہ بزرگوں کا کوئی کام بھی مصلحت کے بغیر نہیں ہوتا۔ شاید مرغا بننے سے بدن کے کچھ اور اعضا کو بھی تقویت پہنچتی ہو، اس پر بھی تحقیق کرانے کی ضرورت ہے کہ استاد کے ہاتھوں روزانہ مرغا بننے کے باوجود بھی کچھ لڑکے ہمیشہ فیل ہوتے تھے یا گڈ تھرڈ ڈویژن میں پاس ہوتے تھے اور آخرکار پانچویں جماعت کے امتحان میں باربار فیل ہوکر سکول سے بھاگ جاتے تھے۔ اس المیہ کہانی کا آخری انجام یہ ہوتا تھا کہ سکول سے بھاگنے کے بعد والدیں ایسے بچوں کو مزید بگڑنے سے بچانے کیلئے ان کی کم عمری ہی میں شادی کرا دیتے تھے اور ساتھ ساتھ ان کیلئے کوئی چھوٹی موٹی سی دکان کھلوا کر انہیں بزنس کے کام میں لگوا دیتے تھے۔ اس طرح چند سال کے اندر اندر صاحب اولاد ہونے کیساتھ ساتھ وہ اس وقت کے لکھ پتی یعنی آج کل کے کروڑ پتی بھی بن جاتے تھے جبکہ پڑھے لکھے لوگ ان کے تجارتی کمپنیوں اور کارخانوں میں ملازم بھرتی ہونے کیلئے تگ ودو کرتے تھے۔ اب خدا لگتی کہئے کہ دماغ کن کا تیز تھا۔ کئی سال تک کان پکڑنے اور مرغا بننے کے بعد سکول سے بھاگنے والوں اور بزنس شروع کرنے والوں کا یا پڑھ لکھ کر ان کا تنخواہ دار ملازم بننے والوں کا۔مزید ثبوت چاہئے تو اپنے ملک کے کامیاب سیاسی لیڈروں پر نظر ڈالیں تو دل گواہی دے گا کہ ان کا دماغ بھی سکول کے دوران بار بار کان پکڑنے اور مرغا بننے کے بعد اتنا تیز ہوا کہ پڑھائی لکھائی کا فضول کام چھوڑ کر سیاست کے بزنس میں آگئے اور وزیراعظم اور صدر کے عہدے تک پہنچ گئے۔ پڑھائی لکھائی کرکے وہ زیادہ سے زیادہ ڈاکٹر، انجینئر، بیوروکریٹ یا یونیورسٹی استاد بن سکتے تھے۔ کیا آپ نے ان پڑھے لکھے لوگوں میں سے کسی کو صدر یا وزیراعظم بنتے دیکھا ہے؟مجھے تو یہ سیاسی بزنس مین صاحبان کچھ جادوگر بھی نظر آتے ہیں کہ پلک جھپکتے میں آپ کی آنکھوں میں دھول جھونک کر دن کو رات اور رات کو دن ثابت کرا لیتے ہیں۔ اسی طرح دبئی، لندن اور سوئٹزرلینڈ میں آنکھوں کے سامنے عین موجود ذاتی جائیدادیں اپنے سیاسی ورکروں کی نظروں میں ایسے مقدس ثابت کرا دیتے ہیں کہ وہ قسمیں اُٹھا اُٹھا کر عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کے لیڈر کسی قسم کی منی لانڈرنگ میں ملوث نہیں ہیں اور یہ جائیدادیں تو بس اللہ کی دین ہیں اور اللہ جب دینے پر آتا ہے تو دبئی، لندن اور سوئٹزرلینڈ میں چھپڑ پھاڑ کر بھی دے سکتا ہے۔ اس کیلئے منی لانڈرنگ کی کیا ضرورت ہے۔ہمارے ایک بڑے سیاسی لیڈر کے بارے میں مشہور ہے کہ کئی سال تک سکول میں کان پکڑنے اور مرغا بننے کے بعد سکول سے بھاگ گئے تو سنیما میں ٹکٹ بلیک میں فروخت کرنے کا بزنس شروع کیا اور اس بزنس میں لاکھوں پائے اور آخر میں اپنے تیز دماغ کا یوں ثبوت پیش کیا کہ وقت کی ایک بہت تعلیم یافتہ خاتون اور بعد کی وزیراعظم کے شوہر نامدار بن بیٹھے اور بیوی سے فراغت کے بعد ایک نوکرانی کی جیب سے وصیت نامہ برآمد کرانے کا جادو کرکے پہلے پارٹی لیڈر اور پھر پورے پانچ سال تک صدر پاکستان بننے کا اعزاز بھی پاگئے۔ اس دوران سوئٹزرلینڈ کے بنکوں میں موجود چھ کروڑ ڈالر بھی ایسے غائب کرا دئیے کہ کسی بھی ایجنسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ محل اور فلیٹ غائب کرنا تو ممکن نہیں تھا تو بس اپنے پیروکاروں پر کچھ جادو منتر پھونک کر انہیں یقین دلا دیا کہ یہ منی لانڈرنگ نہیں صرف اللہ کی دین ہے اور اولیاء اللہ کا فیضان نظر ہے۔ہمارے ایک دوسرے کامیاب سیاسی بزنس مین بھی اسی پائے کے ہیں۔ کان پکڑنے اور مرغا بننے کی سعادت حاصل کرنے کے بعد دماغ تیز ہوا تو پڑھائی درمیان میں چھوڑ کر والد کیساتھ بزنس میں لگ گئے اور وہاں اتنی ترقی کی کہ کارخانوں پہ کارخانے لگانے لگے ۔ چلو جی کرلو جو کرنا ہے، اب وہ امریکی صدر اوبامہ سے ملاقات کے دوران جیب سے کاغذ کے پرزے نکال نکال کر ملکی اور بین الاقوامی سٹریٹجک امور پر گفتگو نہ کرتے تو اور کیا کرتے۔ رہی بات لندن والے فلیٹوں کی تو وہ برملا کہتے ہیں ، (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں