Daily Mashriq


جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

میں کوئی شک نہیں ہے کہ انسان اپنے گرد وپیش میں رونما ہونے والے واقعات کا یقینا اثر قبول کرتا ہے اگر حالات اچھے ہوں تو اس کی تحریر وتقریر میں شگفتگی جھلکتی ہے، ہنسی مذاق کرتا ہے، طنز ومزاح سے اپنی محفلوں کو گرماتا ہے لیکن اگر حالات نامناسب ہوں، زندگی کے دن کاٹنے مشکل ہو جائیں تو اس کی تحریر وتقریر میں تلخی حالات کا رونا در آتا ہے۔ بات چیت میں چڑ چڑا پن آجاتا ہے، اکثر کہا جاتا ہے کہ فلاں لکھاری کے ہاں درس امید ملتا ہے، وہ حالات کی تلخیوں کا رونا نہیں روتا بس آنے والے اچھے دنوں کے انتظار میں امید کی شمع روشن کئے زندگی کے دن ہنسی خوشی بسر کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ اس طرح اپنے آپ کو کب تک دھوکا دیا جائے جب تک حالات کی صحیح تصویر کشی نہیں کی جائے گی ان کی بہتری کی صورت پیدا ہونا بھی ناممکنات میں سے ہے۔ جب راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے تو حکمرانوں کو کیا پڑی ہے کہ وہ عوام کی پرسکون زندگی میں مداخلت کریں۔ آج کچھ اسی قسم کی صورتحال کا سامنا ہے مہنگائی کا عفریت عروج پر ہے، معیشت کی کشتی ڈول رہی ہے، قرضے ہیں کہ بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں، ہماری کرنسی کی قدر روزبروز کم سے کمتر ہوتی چلی جارہی ہے۔ عمران خان بائیس سالہ مسلسل جدوجہد کے بعد وطن عزیز کے بلاشرکت غیرے وزیراعظم بن چکے ہیں۔ انہوں نے عوام کیساتھ وعدے بھی بہت کئے تھے اب ان وعدوں کے پورا کرنے کا وقت تھا لیکن حالات تاحال دگرگوں ہیں، بقول صدر پاکستان موجودہ حالات نے وزیراعظم کو اتنا پریشان کر رکھا ہے کہ انہوں نے روٹین کی واک بھی چھوڑ دی ہے، دراصل پاکستان کے اس کھلاڑی وزیراعظم کو بیٹنگ پچ نہیں ملی جہاں وہ اپنی مرضی سے بیٹنگ کرتے اور چوکے چھکے لگاتے، پچ فاسٹ ہے اور حالات کے باؤنسر بھی اتنے زیادہ اور تیز ہیں کہ وہ آگے بڑھ کر کھیلنے کی پوزیشن میں نہیں آرہے۔ ایک بھرپور اننگ کھیلنے کیلئے انہیں وقت چاہئے لیکن حالات کی ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے کہ وزارت عظمیٰ کا دورانیہ انتہائی محدود ہوتا ہے، وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا اور گزر جاتا ہے۔ اگر حالات سازگار ہوں تو عوام کو درپیش بہت سے مسائل حل کئے جاسکتے ہیں، ان سے یہ امید بھی کی جاسکتی ہے کہ وہ عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے یقینا کچھ نہ کچھ ضرور کریں گے! کل ہمیں ایک صاحب کہنے لگے کہ یار وزیراعظم صاحب بھی تبدیل ہوگئے لیکن ہمارے حالات میں تو کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ لوڈشیڈنگ بھی اسی طرح ہورہی ہے، بجلی کے نرخ بھی روزبروز بڑھ رہے ہیں، آخر یہ سب کیا ہے؟ ہم نے ان سے کہا جناب ابھی تو عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس کو پوری طرح دیکھا بھی نہیں ہے اور آپ نے ان سے بڑی بڑی توقعات وابستہ کرنا شروع کر دی ہیں، کچھ دن انہیں حالات کا جائزہ تو لینے دو وہ ضرور غریب عوام کیلئے کچھ کریں گے کیونکہ وہ عوام کا دکھ درد جانتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ عوام خوشحال ہوں گے تو وطن عزیز کی سا لمیت بھی برقرار رہے گی، انہوں نے جو حلف اٹھایا ہے وہ وطن عزیز سے وفاداری کا ہے ان کی سب سے پہلی ترجیح یہی ہوگی کہ وہ اپنے وطن کی سا لمیت پر کوئی آنچ نہ آنے دیں، وہ ضرور یہ چاہیں گے کہ اپنی مختصر سی وزارت عظمٰی میں کوئی نہ کوئی ایسا کارنامہ سرانجام دے جائیں جو آنے والے وقت میں یاد رکھا جائے، لوگ یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ عمران خان ہم میں سے تھے انہوں نے ہمارے دکھ درد کو سمجھا۔ انہوں نے اپنی پارٹی پر اپنے وطن کو ترجیح دی اور ایسے اقدامات کئے جو سالہا سال تک یاد رکھے جائیں گے۔ کالم کے شروع میں کہا گیا تھا کہ جیسے حالات ہوں اسی طرح کی تحریریں سامنے آتی ہیں، ہمیں ہوا کے دوش پر بہت سے پیغامات موصول ہوتے رہتے ہیں، انہیں پڑھ کر ہم سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ ان پیغامات میں وطن عزیز کی موجودہ صورتحال کی کتنی عمدہ تصویرکشی کی گئی ہوتی ہے ذرا یہ ملاحظہ کیجئے۔ ایک امیر آدمی اپنی خوبصورت گاڑی میں لمبی ڈرائیو سے لطف اندوز ہو رہا تھا، موسم بھی شاندار تھا، اچانک اس نے سڑک پر دو آدمیوں کو گھاس کھاتے دیکھا۔ اس نے گاڑی روک لی اور ان سے کہا کہ آپ گھاس کیوں کھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم غریب لوگ ہیں ہمارے پاس روٹی خریدنے کیلئے پیسے نہیں ہیں اس لئے ہم یہ گھاس کھا رہے ہیں۔ امیر آدمی نے کہا اچھا آپ لوگ میری گاڑی میں بیٹھ جائیں۔ ایک آدمی نے امیر آدمی کی بات سن کر کہا کہ جناب میری ایک بیوی اور دو بچے بھی ہیں۔ امیر شخص نے کہا انہیں بھی جلدی سے لے آؤ۔ دوسرے آدمی نے امیر آدمی سے کہا کہ جناب میری ایک بیوی اور چھ بچے ہیں میں کیا کروں۔ تو امیر آدمی نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ گھبرانے والی کوئی بات نہیں ہے تم بھی اپنے بیوی بچوں کو لے آؤ اور گاڑی میں بٹھا دو۔ جب سب لوگ گاڑی میں سوار ہوگئے تو امیر آدمی نے گاڑی روانہ کردی۔ وہ دونوں گھرانے امیر آدمی کی شرافت اور سخاوت سے بڑے متاثر تھے اور اپنے دل میں سوچ رہے تھے کہ دنیا ابھی اچھے لوگوں سے خالی نہیں ہوئی۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دم قدم سے یہ دنیا آباد ہے۔ ایک آدمی نے امیر آدمی سے کہا جناب آپ کتنے رحم دل اور مہر بان ہیں آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے ہمیں اپنی گاڑی میں بٹھایا اور اب ہمیں اپنے گھر لے کر جا رہے ہیں۔ امیر آدمی نے جلدی سے کہا کہ نہیں آپ نے مجھے سمجھا نہیں دراصل میرے بنگلے کے لان میں گھاس دو دو فٹ تک بڑھی ہوئی ہے! پیغام کے آخر میں لکھا ہوا ہے: اپنے حکمرانوں اور پاکستان کے لوگوں کے نام!

متعلقہ خبریں