Daily Mashriq

300 پلس کا اسکور بھی کامیابی کی ضمانت نہ رہا

300 پلس کا اسکور بھی کامیابی کی ضمانت نہ رہا

 لندن: ون ڈے میں اب300 پلس کا اسکور بھی کامیابی کی ضمانت نہ رہا تاہم اس بار ورلڈ کپ مکمل طور پر بیٹسمینوں کا ایونٹ ثابت ہوسکتا ہے۔

انگلش ٹیم نے گرین شرٹس سے تیسرے ون ڈے میں اپنی تاریخ کا دوسرا بڑا ہدف حاصل کیا، مہمان سائیڈ نے9 وکٹ پر 358 رنز بنائے، جواب میں انگلینڈ نے5 اوورز قبل ہی صرف 4 وکٹ پر کامیابی حاصل کرلی۔ میزبان کی جانب سے 350 پلس کا ہدف اتنی آسانی سے حاصل کرلینا ورلڈ کپ میں شریک دیگرٹیموں کیلیے کسی خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں ہے۔

ورلڈ کپ 2015 کے بعد سے اب تک مکمل ہونے والے 469 ون ڈے میچز میں سے128 میں پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیموں نے 300 یا زائد رنز اسکور کیے،ان میں سے 99 میں وہ فاتح رہیں،اس کی بانسبت 341 مقابلوں میں 300 سے کم رنز اسکور کرنے والی ٹیموں کی فتح کا تناسب صرف 38 فیصد یعنی 130 میچز میں کامیابی تھا،البتہ انگلینڈ میں 300 پلس کا ہدف بھی کامیابی کی ضمانت نہیں رہا ہے۔

گزشتہ ورلڈ کپ سے اب تک یہاں پر 56 ایک روزہ میچز کھیلے گئے اور ان میں سے 18 میں کامیابی سے 300 پلس کا ہدف عبور کیا گیا، پاکستان کے خلاف تیسرے میچ میں فتح دراصل میزبان کی جانب سے اپنے ہوم گرائونڈز پر لگاتار 16 واں ہدف کا کامیاب حصول ہے۔

گزشتہ ورلڈ کپ سے اب تک ایک روزہ فارمیٹ میں سب سے بڑے ٹوٹل کا ریکارڈ 2مرتبہ ٹوٹا، دونوں مرتبہ ایسا انگلینڈ میں اسی کی جانب سے ہی ہوا، اگست 2016 میں پاکستان کے خلاف انگلش ٹیم نے 3 وکٹ پر 444 رنز بنائے اور پھر گذشتہ برس جون میں آسٹریلیا کے خلاف 6 وکٹ پر 481 رنز کا ٹوٹل اسکور بورڈ پر سجایا، یہ دونوں میچز ناٹنگھم میں کھیلے گئے۔

زیر نظر عرصے کے دوران انگلش ٹیم نے 5 مرتبہ 400 یا زائد کااسکور بنایا اور 4 مرتبہ کامیاب دفاع کیا، اس میں سے تین مرتبہ اس نے ایسا اپنے ہوم گرائونڈز پر کیا۔ ان اعدادوشمار کو دیکھتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ اس بار ورلڈ کپ بیٹسمینوں کا ٹورنامنٹ ثابت ہوگا جبکہ بولرز جدوجہد کرتے ہوئے دکھائی دے سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں