سی پیک پر کل جماعتی کانفرنس کی تجاویز

سی پیک پر کل جماعتی کانفرنس کی تجاویز

خیبر پختونخوا کے سیاسی قائدین کی کل جماعتی کانفرنس میں پاک چین اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ پر تمام لوازمات کے ساتھ کام شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ صوبے کو اس کا جائز حصہ دے کر ابہام دور کئے جائیں۔ اس کانفرنس میں وفاقی حکومت پر تنقید کی بجائے اس امر کااظہار مثبت امر ہے کہ منصوبے کو سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھایا جائے گا۔ کل جماعتی کانفرنس میں اقتصادی روٹ کے حوالے سے جو مطالبات کئے گئے ہیں اس میں اقتصادی زونز کے قیام اور مغربی روٹ کی گزر گاہ پر زیادہ زور نہیں دیا گیا۔ ممکن ہے کل جماعتی کانفرنس اس ضمن میں اس اعلان کے بعد کہ ہر صوبے میں ایک ایک اقتصادی زون قائم کیا جائے گا مطمئن ہوگئی ہو یا پھر اقتصادی راہداری کے پہلے قافلے کا مغربی روٹ سے گزر کر گوادر پہنچنا ان کے لئے اطمینان کا باعث ثابت ہوا ہو ۔بہر حال تحفظات کا اظہار اور حکومت سے مطالبات اور بار بار وضاحت طلبی صوبائی قیادت کا حق ہے۔ کل جماعتی کانفرنس میں محولہ معاملات سے قطع نظر جو مطالبات کئے گئے ہیں ان منصوبوں کو اقتصادی راہداری سے منسلک کرنے کے ساتھ ساتھ علیحدہ سے بھی مطالبات کی شکل دی جاسکتی ہے۔ کل جماعتی کانفرنس میں پاک چین اقتصادی راہداری میں خیبر پختونخوا کے حسب ذیل منصوبے شامل کرنے اور ان منصوبوں کے لئے فنڈز مختص کرنے اور آغاز کے لئے ٹائم لائن دینے کے مطالبات کئے گئے ہیں۔ 28مئی 2016ء کو وزیر اعظم میاں نواز شریف نے پہلی اے پی سی میں تمام سیاسی جماعتوں اور قومی قیادت کے سامنے اعلان کیا تھا کہ سب سے پہلے سی پیک کے مغربی روٹ پر تمام لازمی اقدامات کے ساتھ کام شروع کیا جائے گا۔ لہٰذا وزیر اعظم کے اسی اعلان پر من و عن عمل درآمد کیا جائے۔ ڈیرہ اسماعیل خان تا پشاور انڈس ہائی ے کو بطور مغربی روٹ اختیار کرکے فوری طور پر چھ رویہ کیا جائے۔ سی پیک میں شامل تمام منصوبوں ریلوے لائنز' تیل و گیس' فائبر آپٹیک کیبل کے آغاز کے لئے ٹائم لائن دیا جائے۔ مزید برآں خیبر پختونخوا میں سی پیک سے متعلقہ ٹریڈ زون' اکنامک زونز اور انڈسٹریل زونز کے قیام کے لئے خیبر پختونخوا حکومت کی مشاورت سے منصوبے شروع کئے جائیں۔ مغربی روٹ پر ریلوے ٹریک کے ساتھ ہائی پاور ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن لائن بچھائی جائے اور موجودہ ڈسٹری بیوشن لائن کو فوری طور پر اپ گریڈ کیا جائے۔ چکدرہ' کالام اور خوازہ خیلہ بشام ایکسپریس وے کی تعمیر اور تکمیل کو پہلی ترجیح میں رکھا جائے۔ پاکستان کو وسط ایشیا سے منسلک کرنے کے لئے چکدرہ' چترال' شندور اور گلگت ایکسپریس وے آسان ترین ذریعہ ہے۔ یہ پاک بھارت علاقائی سٹریٹجک صورتحال کی وجہ سے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متبادل سی پیک ثابت ہوگا اس لئے اس کو سی پیک کا حصہ بنایا جائے۔ ریلوے لائن بشمول پشاور طورخم ریلوے لائن کو سی پیک کے معیار کے مطابق بنایا جائے۔اگر دیکھا جائے تو اب معاملات مغربی روٹ کی طلبی سے اس روٹ سے منسلک منصوبوں اور سہولیات تک بات آگئی۔ایسے میں اطمینان کا حامل امر یہ ہے کہ مغربی روٹ کے نہ گزرنے کے جو خدشات ظاہرکئے گئے تھے اگرچہ اس کا اظہار نہیں کیا گیا لیکن لگتا ہے کہ ان کو اب اس حوالے سے اطمینان ہے۔ جہاں تک کل جماعتی کانفرنس کے مطالبات کا سوال ہے ہمارے تئیں مغربی روٹ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ان منصوبوں کی ضرورت و افادیت اور اہمیت از خود آشکارہ ہوگی۔ اصل معاملہ روٹ کے گزرنے اور نہ گزرنے کاتھا اگر اس بارے معاملا ت طے پاچکے ہیں تو باقی معاملات ضمنی اور ثانوی اہمیت کے ہیں جن پر بتدریج عملدرآمد نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہونی چاہئے۔ کل جماعتی کانفرنس میں مطالبات اور تجاویز پر غور اور عملدرآمد وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے اور ان کو اس ذمہ داری کی یاد دہانی تصادم کی راہ اختیار کئے بغیر جتنی بار کی جائے اس میں مضائقہ نہیں۔ اب تک مغربی روٹ کو متنازعہ بنانے کے خدشات تھے جن کا بڑی حد تک ازالہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ مغربی روٹ پر آمد و رفت کے ساتھ اس سے منسلک کاروباری و تجارتی سر گرمیوں اور مواقع میں تیزی فطری امر ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کل جماعتی کانفرنس میں اہم نوعیت کاایک مطالبہ سامنے آیا ہے جس پر عملدرآمد کئی وجوہات کی بناء پر اہم ہے۔ پاکستان کو وسط ایشیاء سے منسلک کرنے کے لئے چکدرہ ' چترال ' شندور اور گلگت روڈ صرف تزویراتی طور پر ہی مفید نہیں بلکہ اس سڑک کی تعمیر کے بعد ہی خیبر پختونخوا کے تمام علاقے پورے طور پر نہ صرف سی پیک منصوبے کا حصہ ہوں گے بلکہ وسطی ایشیاء سے منسلک ہونے سے ہم خرما و ہم ثواب کے مصداق ہوں گے۔ جائزہ لینے سے یہ حوصلہ افزاء امر سامنے آتا ہے کہ صوابی سے چکدرہ تک صوبائی حکومت موٹر وے بنا رہی ہے جبکہ چکدرہ چترال روڈ کی منظوری وفاقی حکومت کے منصوبے کا حصہ ہے اسی طرح چترال گلگت روڈ پر بھی کام جاری ہے۔ اگر اس کے ساتھ ساتھ چترال تاجکستان روڈ کی تعمیر قدیم راستوں سے کرنے کی منصوبہ بندی کی جائے اور چترال سے زیور گول کے راستے قدیم راستے کا سروے کیا جائے تو یہ ایک نافع منصوبہ ثابت ہوگا۔ توقع کی جانی چاہئے کہ کل جماعتی کانفرنس میں وفاقی حکومت سے کئے گئے مطالبات پر بتدریج غور وخوض اور عملدرآمد میں زیادہ وقت صرف نہ ہوگا۔

اداریہ