فاٹا میں کھیلوں اور تعلیمی سر گرمیوں پر توجہ

فاٹا میں کھیلوں اور تعلیمی سر گرمیوں پر توجہ

ایک ہی دن میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کا دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں آرمی کے زیرانتظام قائم تعلیمی اداروں میں طلبہ سے ملاقات اور یوم والدین کی تقریب کا انعقاد اس امر پر دال ہے کہ پاک آرمی دہشت گردوں کی سرکوبی کے بعد ان علاقوں کے طالب علموں کو بہتر تعلیم دلانے کیلئے کس قدر کوشاں ہے ۔ گورنر خیبر پختونخوا بھی اسی عشرے میں اس طرح ہی ایک تقریب میں شرکت کرچکے ہیں ۔ جنرل راحیل شریف نے ایک ہی روز جنوبی وشمالی وزیرستان میں سٹیڈ یم کا افتتاح کیا اور اسی دن چوراسی کلو میڑ بنوں میران شاہ غلام خان روڈ بھی کھول دی گئی جبکہ عارضی نقل مکانی کرنے والے شمالی وزیرستان کے باقی علاقوں کے عوام کی بھی واپسی سال روا ں کے اختتام سے قبل مکمل کرنے کی ہدایت کی ۔دو تین سال قبل تک جن سر گرمیوں اور سہولیات کا تصور ابھی نہیں کیا جاسکتا تھا آج ان کو اپنے آنکھوں کے سامنے وقوع پذیر ہوتے دیکھنا یقینا علاقے کے عوام اور پوری قوم کیلئے اطمینان کا باعث امر ہے ۔ جس سے اس وعدے کی تکمیل میں کوئی کسر باقی نظر نہیں آتی ۔ہم سمجھتے ہیں کہ قبائلی نوجوانوں اور شورش سے متاثرہ علاقوں کے نوجوانوں کو کھیلوں اور تعلیم کی معیاری اور بہترسہولیات کی فراہمی سے ان کو صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب ہونے کے مواقع ملیں گے اور وہ منفی سرگرمیوں کی طرف راغب ہونے سے بچ جائیں گے ۔
کوچنگ سنٹروں میں طلبہ کے ساتھ دھوکہ
ایٹا ، این ٹی ایس اور کیڈٹ کالجوں میں داخلوں کی تیاری کرنے والے اور ٹیوشن پڑھانے کے بعض مراکز میں طالب علموں کو دھوکہ دینے کی صورتحال تشویشناک اور قابل توجہ ہے ۔ دہشتگردی اور اس کے گرد ونواح کے علاوہ شہر کے بعض علاقوں میں قائم ان مراکز میں طالب علموں اور ان کے والدین کو منظم طریقے سے لوٹنے کیلئے ان مراکز میں داخلوں کے شروع اور ابتدائی کلاسوں میں پڑھانے کے لیئے اعلیٰ تجربے اور قابلیت کے حامل اساتذہ رکھے جاتے ہیں جن سے مطمئن ہو کر طالب علم داخلہ فیس جمع کرادیتے ہیں فیسوں کی ادائیگی ہوتے ہی اساتذہ غائب ہو جاتے ہیں اور طالب علموں کو ایسے اساتذہ سے مجبوراً پڑھنا پڑتا ہے جن سے وہ مطمئن نہیں ہوتے طلبہ فیسوں کی واپسی کا مطالبہ بھی نہیں کر سکتے ایسے میں ان کے پاس مجبوراً یا تو انہی سے پڑھنے پر اکتفا کرنے یا پھر کسی کو چنگ سنٹر میں داخلہ لینے کے سوا کوئی چارہ کار باقی نہیں بچتا ۔ یہ دھندہ منظم طریقے سے جاری ہے اس میں شک نہیں کہ یونیورسٹی ٹائون اور بورڈ میں معیاری تعلیم کے کوچنگ سنٹر ز قائم ہیں جہاں طالب علموں کو مناسب رہنمائی ملتی ہے ۔ چونکہ ان کو چنگ سنٹروں کے معیاراور فیسوں کے طے کرنے کا کوئی طریقہ کار متعین نہیں اس لئے معیاری کو چنگ مراکز کے ساتھ ساتھ دھو کہ دہی پر مبنی کوچنگ مراکز بھی دھڑلے سے قائم ہیں جن کے حوالے سے انتظامیہ کو پالیسی مرتب کرنے اور انسداد کی ضرورت ہے۔ ایک آسان اور فوری حل یہ ہوسکتا ہے کہ انتظامیہ معیار پر عدم اطمینان کے باعث کو چنگ سنٹر چھوڑنے والے طالب علموں کو بقیہ مدت فیس واپس دلا دے تاکہ کوچنگ سنٹرز کے مالکان طلباء کو بہتر طور پر پڑھانے والے اساتذہ کی جگہ دوسروں کو بھرتی کرنے سے اجتناب کریں اور ان کو اس امر کا خوف لاحق رہے کہ مطمئن ہونے والے طلبہ کے پاس واپسی کا راستہ موجود ہے ۔
وزیراعلیٰ نوٹس لیں
ایک ہفتے کے اندر حیات شہید ٹیچنگ ہسپتال اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں طبی سہولتوں اور علاج بارے عدالت میں مقدمات کی سماعت سے سامنے آنے والی صورتحال اس لحاظ سے خاص طور پر قابل توجہ امر ہے کہ اب عوام کو طبی سہولتوں کے حصول کے لئے بھی عدالتی احکامات کاسہارا لینے کی نوبت آگئی ہے ۔ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں تشخیص آلات بارے عدالت سے شکایت تھی جبکہ انہی کالموں میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال چترال میں دوا دوار حکومت سے موجود ڈائیلیسز مشینوں کو نہ چلانے سے عوام کی مشکلات کا حوالہ دیا گیا تھا ۔ یہ امر سمجھ سے بالا تر نہیں کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ سرکاری خزانہ سے رقم خرچ ہونے کے باوجود عوام کو سہولتوں سے اس لئے محروم رکھا جاتا ہے کہ وہ نجی ہسپتال کلینکس اور لیبارٹریز سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں ۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اگر اس طرح کی کوتا ہیوں کا سختی سے نوٹس لیکر اصلاح احوال کی ہدایت کریں تو عوام کی مشکلات میں خاصی کمی لانا ممکن ہوگا ۔

اداریہ