Daily Mashriq


سانحہ گڈانی۔۔بندۂ مزدورکے اوقات

سانحہ گڈانی۔۔بندۂ مزدورکے اوقات

سرکاری خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی جاری کردہ ایک خبر پشاور کے انگریزی روزنامے نے شائع کی ہے لیکن معروف اردو اخبارات میں یہ خبر یا تو شائع ہی نہیں ہوئی یا نمایاں نہیں کی گئی۔ خبر یہ ہے کہ سانحہ گڈانی کی انکوائری کے لیے جو کمیٹی مقرر کی گئی تھی اس نے منگل کے روز اپنی رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کر دی۔ یہ تحقیقات وزارت دفاعی پیداوار کے ذمے لگائی گئی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے سانحہ کی وجہ محنت کشوں کے تحفظ کے ''قطعاً ناکافی'' انتظامات تھے۔ کمیٹی نے تجویز کیا ہے کہ محنت کشوں کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت اور جہازوں کے مالکوں کی ہے۔ کمیٹی نے ان لوگوں کے خلاف ضابطہ کی کارروائی کی سفارش بھی کی ہے جنہوں نے غفلت کا مظاہرہ کیا اور وفات پانے والے مزدوروں کے لواحقین اور زخمیوں کو زرتلافی ادا کرنے کی سفارش بھی کی ہے۔ خبر کے کم و بیش تمام اہم نکات سطور بالا میں درج کیے گئے ہیں۔ جن سے یہ کہیں معلوم نہیں ہوتا کہ سانحہ گڈانی میں کتنے مزدور جاں بحق ہوئے' کتنے زخمی ہوئے' جہاز میں آگ لگنے کی وجہ کیا تھی جس میں جل کر پاکستان کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے مزدور جاں بحق ہوئے۔ آگ لگنے کی ذمہ داری رپورٹ میں کس کی بتائی گئی ہے۔ رپورٹ میں گڈانی میں مزدوروں کے تحفظ کے انتظامات کو قطعاً ناکافی قرار دیا گیا ہے۔ اس کی ذمہ داری کس پر بتائی گئی ہے یہ بھی معلوم نہیں۔ سانحہ گڈانی یکم نومبر کو برپا ہوا جب 24000ٹن وزنی جاپانی ناکارہ جہاز کو توڑنے کا کام شروع ہو چکا تھا۔ شپ بریکنگ کی صنعت میں کام کرنے والے کہتے ہیں کہ اس سائز کے جہاز کو توڑنے کے لیے چار سو کے قریب مزدور مامور کیے جاتے ہیں۔ جہازں میں ویلڈنگ کے شعلوں کی مدد سے لوہا کاٹنے کا کام ہو رہا تھا کہ اچانک آگ لگ گئی۔ جہاز میں اس وقت کتنے مزدور کام کر رہے تھے یہ کسی کو معلوم نہیں۔ کیونکہ لیڈ کنٹریکٹر گل زمین جس کے پاس مامور مزدوروں کا ریکارڈ ہوتا ہے سانحہ کی نذر ہو چکا ہے۔ اب فوت ہونے والے مزدوروں کی تعداد کے بارے میں مختلف اعداد وشمار سامنے آ رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق 26مزدور جاں بحق ہوئے۔ پچاس سے زیادہ زخمی ہوئے جب کہ چار لاپتہ ہیں۔ لیکن بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کے خصوصی معاون جان اچکزئی (جنہوں نے دو دن کے بعد وزیر اعلیٰ کے ہمراہ گڈانی کا دورہ کیا) کے مطابق ستر سے زیادہ مزدور جاں بحق ہوئے اور نوے سے زیادہ لاپتہ ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ جب آگ لگی اس وقت کتنے مزدور جہاز پر موجود تھے۔ لسبیلہ سے مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی پرنس احمد علی احمدزئی نے کہا ہے کہ ایک سو سے زیادہ مزدور جاں بحق ہوئے اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔ گڈانی لسبیلہ ضلع کا حصہ ہے اور احمد علی احمدزئی ان اکابرین میں شامل تھے جنہوں نے وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری کے ساتھ گڈانی کا دورہ کیا تھا۔ تاہم ایس پی لسبیلہ کا بیان ہے کہ تقریباً 26مزدور جاں بحق اور 28زخمی ہوئے۔انہوں نے کہا کہ مرنے والوں میں نو کا تعلق مظفر گڑھ سے تھا ' پانچ گڈانی کے تھے اور تین کراچی کے۔ لیکن دیر سے رکن صوبائی اسمبلی صاحبزادہ ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں میں سے 22کا تعلق صرف ان کے حلقہ انتخاب سے تھا۔ صاحبزادہ ثناء اللہ نے آگ لگنے کے اگلے روز گڈانی کا دورہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ آٹھ نعشوں کو کفن دے کر اپنے ساتھ لائے تھے ۔ اور یہ کہ دیر' سوات اور شانگلہ کے گیارہ مزدور لاپتہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ خیبرپختونخوا کے 53 مزدور جاں بحق ہوئے ۔ رکن صوبائی اسمبلی صاحبزادہ ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ لاپتہ مزدوروں میں بنگالیوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ گڈانی کے پلاٹ نمبر 17،18اور 19کے مالک نذیر خان کے مطابق سانحہ میں کم ازکم 250جانیں ضائع ہوئیں۔ نذیر خان کا کہنا ہے کہ جس بڑے سائز کے جہاز میں سانحہ پیش آیا اس سائز کے جہاز کو توڑنے کے لیے بالعموم چھ سو مزدور مامور کیے جاتے ہیں۔ لیکن یہ سوال اہم ہے کہ اگر اتنی بڑی تعداد میں مزدور جاں بحق ہوئے تو ان کی میتیں کہاں ہیں۔ تاہم یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آگ اتنی شدید تھی اور اتنی دیر تک لگی رہی اس کے باعث امکان ہے کہ مرنے والوں کے بدن راکھ ہو گئے ہوں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ جہاز کو 14افراد پر مشتمل عملہ گڈانی لایا تھا جو بھارتی تھے تاہم اس کی توثیق سامنے نہیں آ رہی۔ بیان کردہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرنے والوں کی صحیح تعداد کا تعین ناممکن نہیں تو محال ضرور ہے۔ ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ سارے ملک میں یہ اعلان کر دیا جائے کہ گڈانی جا کر واپس نہ آنے والے عزیزوں کے کوائف بیان کرنے والوں کو زرتلافی دیا جائے گا (جس کا رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے) ممکن ہے اس طرح لوگ سامنے آئیں اوران سے پوچھ گچھ کر لی جائے۔ جہاز کے مالک کو گرفتار کیا گیا تھا لیکن اس کے پاس مزدوروں کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ یہ ایک المناک پہلو ہے کہ مالک کی اتنی بھی ذمہ داری نہ ہو کہ وہ اپنے مزدوروں کا ریکارڈ رکھے۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ اس کی گرفتاری کا مقصد حفاظتی حراست ہو جس کے دو دن بعد اسے رہا کر دیا گیا۔ سانحہ گڈانی پر رپورٹ یہ ہے کہ وہاں مزدوروں کے تحفظ کے انتظامات ''انتہائی ناکافی'' تھے لیکن سانحہ گڈانی سارے ملک میں محنت کش کی قدر اور انسانی جان کی حرمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سانحہ سے سبق حاصل کرتے ہوئے شپ بریکرز کے مکمل کوائف یکجا کیے جاتے' ان کی ذمہ داریوں کا تعین کیا جائے۔ ایسے مقامات پر جہاں تھوڑی عرسے کے لیے محنت کش بھرتی کیے جاتے ہیں ٹریڈ یونین کے ایسے قواعد ہونے چاہئیں کہ ملازمت کے امیدوار بھی ٹریڈ یونین کے رکن ہوں۔ مزدوروں کے تحفظ کے ان کی انشورنس کے ان کے علاج معالجہ کے اور سانحات کی صورت میں ہنگامی حالات سے عہدہ برآ ہونے کے انتظامات کو قانون کا حصہ بنایا جائے۔ 

متعلقہ خبریں