Daily Mashriq


یہ ایک عام آدمی کا مذاق اڑا رہے ہیں

یہ ایک عام آدمی کا مذاق اڑا رہے ہیں

پاناما لیکس نے ہمارے دل ودماغ کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ انصاف اس وقت اس ملک میں مکمل اور اصل صورت میں ملنا مشکل ہے اور جن لوگوں کے حوالے سے بات چیت ہو رہی ہے وہ ہی اس ملک کے اصل مالک و مختار ہیں لیکن پھر دونوں باتوں کے بیچوں بیچ عدالت عالیہ موجود ہے اور وہیں سے امید کی کرن بھی پھوٹتی دکھائی دیتی ہے ۔ اس ملک کے نیم تاریک ماحول میں عدالت عالیہ کی مثال ایک روشن دیے کی ہے ۔ لوگ اسکی لو کی روشنی میں راستہ تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ کبھی کبھی نا امیدی دامن تھام لیتی ہے اور کبھی بادلوں کے پیچھے سے ایک روشن مسکراتا سورج دکھائی دینے لگتا ہے ۔ پاناما لیکس کیا ہیں ، منی لانڈرنگ کیا ہوتی ہے ، ایک عام آدمی کو اس کا کیا نقصان ہے ، ہم سب میں سے اکثر لوگ نہ پورے طور ان باتوںکو سمجھتے ہیں اور نہ ہی یقین جانیئے اپنے معاملات میں اُلجھے ہمارے پاس اسکے لیے وقت موجود ہے۔ وہ لوگ جو ملک میں بد عنوانی نہیں چاہتے اور یہ ہیں کہ عمران خان کے ہاتھ کوئی تو بات ایسی لگی ہو گی جس کا اس قدر ہنگامہ ہے ۔ پی ٹی آئی عدالت میں جو بھی ثبوت جمع کروا رہی ہے اس حوالے سے مریم نواز کیسی باتیں گھڑ تی رہیں ساری باتیں کچھ عجب بے معنی سی لگتی ہیں ۔ عدالت عالیہ انصاف کرے گی بس اسی کا یقین ہے ۔ اس سارے منظر کو دیکھتے ،کئی بار ذہن اور دوسرے ہی کئی مناظر میں گم ہو جاتا ہے ۔ ہمارے ملک میں حکمرانوں کے کیا وسائل ہیں اور دنیا میں کیا کچھ ہو رہا ہے ، آپس میں کوئی تعلق محسوس نہیں ہوتا ۔ کوئی نسبت دکھائی نہیں دیتی ۔ اپنے ملک میں ہم پانامہ لیکس کے معاملے میں اُلجھے ہوئے ہیں جبکہ انہیں لیکس کے تحت کئی ملکوں میں چہرے ہی بد ل گئے ۔ یہاں تک کہ بر طانیہ کے وزیر اعظم اس احساس شرمندگی کومٹانے کے لیے رخصت ہو گئے لیکن ہمارے ہاں ایسی باتوں پر فخر کیا جاتا ہے ٹھٹھے اڑائے جاتے ہیں اور جو چوری کی نشاندہی کرے تو اسے جواباً انتہائی تضحیک آمیز لہجے میں یاد کر وایا جاتا ہے کہ ایسی ہی چوریاں اور کس کس نے کی ہیں اور وہ ابھی تک کسی کی گرفت میں نہیں ۔میں سمجھتی ہوں کہ انکے لہجوں کی یہ تضحیک در اصل اس قوم کی تضحیک ہے کہ سب جانتے بوجھتے بھی ہم انہی لوگوں کو ووٹ دیتے ہیں ، انہیں ہی منتخب کرتے ہیں ۔ جنوبی کوریا کی صدر پارک گوئن ہائی اس وقت ایک شدید مشکل کا شکار ہیں ۔ ان کی ایک دوست مس چوئی نے حکومتی پالیسی سازی میں نہ صرف مداخلت کی بلکہ اس مداخلت سے کچھ فنڈز بھی اپنی این جی او کے اکائونٹ میں بھیجے ۔ مس چوئی تو اس وقت جیل میں ہیں جہاں وہ فراڈ اور طاقت کے غلط استعمال کے الزامات بھگت رہی ہیں ۔اپوزیشن پارٹی کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کی خاتون صدر کو مستعفی ہو جانا چاہئے ۔ ہزاروں ،لاکھوں کی تعداد میں لوگ ، اس وقت حکومت کے خلاف احتجاج میں مصروف ہیں ۔دوسری جانب جنوبی کوریا کی خاتون صدر نے قومی ٹیلی وژن پر اپنی قوم سے معذرت بھی کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی دوستی پر ضرورت سے زیادہ اعتبار کیا ۔ اسکے لیے وہ تفتیش میں معاونت کے لئے بھی تیار ہیں ۔ اس وقت تک مس پارک کے کئی قریبی معاونین گرفتار کیے جا چکے ہیں ۔ کئی کو ان کے عہدوں سے فارغ بھی کیا جا چکا ہے ۔ مس پارک پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اپنی دوست مس چوئی کو کوریا کے '' نیلے محل''میں جہاں مس پارک کی رہائش ہے ان رسومات کی اجازت بھی دی جو ایک مخصوص گروہ سے منسوب کی جاتی ہیں ۔ اور جن کے حوالے سے جنوبی کوریا کے عوام میں کچھ خاص پسند ید گی پائی نہیں جا تی ۔ جنوبی کوریا کے مسائل کو دیکھا جائے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کے مسائل کے مقابلے میں دراصل یہ کچھ بھی نہیں ۔ لوگوں کا احتجاج ملک کی خاتون صدر کو اس حد تک دبائو میں لا چکا ہے کہ وہ احتساب کا سامنا کرنے کو بھی تیار ہیں ۔ ان میں اس قدر اخلاقی جرات موجود ہے کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف قومی میڈیا کے سامنے کر رہی ہیں ۔ اپنی غلطی کی معافی مانگ رہی ہیں اور پشیمان ہیں کہ ان کی دوستی نے ان کے ملک کو نقصان پہنچا یا ہے ۔ ان کے قریبی معاونین گرفتار کیے جارہے ہیں یا اپنے عہدوں سے فارغ کیے جا رہے ہیں ۔اس سارے منظر کے بعد نظر پھر پاکستان کی جانب پلٹ آتی ہے ۔ ہمارے ملک کے وزیر اعظم کا خاندان منی لانڈرنگ میں ملوث تصور کیا جا رہا ہے ۔ انہیں احتساب کے لیے تیا ر کرنے میں ایک اپوزیشن جماعت اور کئی ہزار لوگوں کو کئی دن احتجا ج کرنا پڑا ہے ۔ اب بھی حکمران فیملی کے گھر کے مختلف افراد وقتاً فوقتاًسارے معاملے کا مذاق اڑاتے رہتے ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ انکے معاونین قومی میڈیا پر احتساب کی خواہش کرنے والوں کا مضحکہ اڑاتے ہیں ۔ احتساب تو ایک طرف ، یہ بات ہی ان کے لیے حیران کُن ہے ۔ کہ لوٹی ہوئی دولت کی بات کی جائے ۔ ان کے لیے یہ بھی مضحکہ خیز ہے کہ اس دولت کی واپسی کا خیال دل میں لایا جائے ۔ ایک حکمران خاندان سے ان کی لوٹی ہوئی دولت کا حساب کتاب حیران کن ہے ۔ اس ملک میں بد عنوانی اور چوری کے خلاف بات چیت حیران کن ہے ۔ معاملہ عدالت کے پاس ہے کیونکہ عدالت اگر مداخلت نہ کرتی تو یہ حکومت کسی حد تک جانے سے گریز نہ کرتی ۔ دلوں میں چور ہو تو اکثر حدیں پار کر جانا آسان لگا کرتی ہیں لیکن ایک عام آدمی کی نظر سے اس معاملے کو دیکھئے ۔کیا واقعی یہ نہیں لگتا کہ یہ حکمران عمران خان کا نہیں ، پی ٹی آئی کا نہیں ایک عام آدمی کا مذاق اڑا رہے ہیں ۔ 

متعلقہ خبریں