Daily Mashriq


ڈونلڈکی اٹکھیلیاں

ڈونلڈکی اٹکھیلیاں

گزشتہ اٹھا رہ سال میں امریکا کی اقتصادی حالت زوال پذیر ہوئی ہے حالت یہ ہے کہ نو کریا ں امریکا سے چین منتقل ہو ئی ہیں امریکی اب اپنی معاشی حالت سنو ار نے کے لیے چین کا رخ کر نے لگے ہیں۔ امریکا کی نیو یارک اورکیلی فورنیا کی ریا ستو ں کو چھو ڑ کر باقی علا قہ جس کو وہ رس بیلٹ کہتے ہیں وہا ں صنعتوں کو زوال آیا ہے اور صنعتیں وہا ں سے چین منتقل ہو ئی ہیں چنانچہ امریکا کو پا کستان سے زیا دہ چین ، سعودی عرب ، عراق اور ایر ان سے پریشانی ہے۔ ٹرمپ کا انتخاب سب سے زیا دہ جس کے لیے باعث مسرت ہے وہ اسرائیل ہے کیونکہ ٹرمپ کو صیہونیوں کے نو ے فی صد ووٹ ملے ہیں اسرائیل اوباما سے ایر ان کے ساتھ جو ہر ی معاہد ے پر سخت نا راض ہے۔ امر یکا دیگر ممالک کے معاملا ت میںبھی بری طرح دخیل رہا ہے جب روس نے افغانستان خالی کر تے وقت امر یکا سے اچھے تعلقا ت قائم کیے تو امر یکا ان تعلقات کا نہ نبھا سکا اور اس نے یو کرائن میں دخیل ہو کر روس کو نا راض کرلیا۔ شام کے حالا ت پر اوباما نے کا فی کو شش کی کہ روس سے تعلقات بہترہو جائیں مگر یو کر ائن کی مداخلت آڑے آتی رہی ، ٹرمپ نے روس کے ساتھ بہتر تعلقات کا اشارہ کیا ہے مگر یہ مشکل ہی مر حلہ ہے کیونکہ اس نے مشرق وسطیٰ میں روس کے حامیوں شام اور عراق کو تباہ کیا ہے ، شام سے امر یکا کا کیا اختلا ف تھا صرف یہ تھا کہ عراق اور شام سب سے زیا دہ مضبوط اتحاد اسرائیل کے خلاف تھا ، لیبیاکو بھی اسی پا لیسی پر ڈوبویا گیا۔ جہا ں تک پا کستان اور امریکی تعلقات کا تعلق ہے تو ڈونلڈ کے نقشے میں پاکستان ابھی تک شامل نہیں ہے اسی بنا ء پر جہا ں ڈونلڈ نے اپنی انتخابی مہم میں کئی ممالک کا ذکر کیا وہا ں پا کستان کا ذکر کہیں نظر نہیں آیا ، صرف اتنا کہا کہ اسامہ بن لا دن ان کی سرزمین سے پکڑ گیا جس کی وہ معافی مانگے اس کے علا وہ کوئی دوسری بات نہیں کی تاہم جب جنو ری میںعہد ہ سنبھا لنے کے بعد ان کو خارجہ پا لیسی پر بریفنگ دی جائے گی تو پا کستا ن کا نقشہ بھی کھینچا جا ئے گا ، ٹرمپ ایک کامیا ب کھرب پتی تاجر کی حیثیت سے امریکا کی مجبوریو ں کو جانتے ہیںچنا نچہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کی مجبوریو ں کو بھی جا ن جا ئیں گے کہ صرف پاکستان کوہی نہیں خود امریکا کو بھی پاکستان سے دوستی کی ضرورت ہے تاہم پاکستان کے پاس دوما ہ کا وقت ہے کہ وہ اپنی پالیسی نئے حالا ت کے مطا بق ترتیب دے اور اس کو امر یکا جا کر فوجی تربیت لینے کا اب شوق ختم کر دینا چاہیے اس کی پاکستان کو ضرورت بھی نہیں ہے ، چین اور روس اس معاملے میں امریکا سے کہیں زیادہ مفید ہیں۔ چین ، سعودی عرب ، ترکی ، اور ایر ان کو امریکی پا لیسیو ں کے معاملے میں زیا دہ ہو شیا ر رہنے کی ضرورت پہلے بھی تھی اور اب بھی ہے ۔جہا ں تک ہیلر ی کلنٹن کا تعلق ہے تو ان کے نقشے میں پاکستان ہمیشہ نما یا ں رہا ہے ، آٹھ سال انہو ں نے اوباما کے ساتھ کا م کیا اور چار سال تک وہ امریکا کی خاتو ن اول کی حیثیت سے اس نقشے کا مطالعہ کر تی رہی ہیں چنا نچہ ان کو آگاہی تھی کہ وہ امر یکا کی صدر بن کر پاکستان کے ساتھ کیسے تعلقات رکھیں گی ، ٹرمپ نے ابھی پینٹاگان ، سی آئی اے اور ایسی دوسر ی نا دید ہ قوتوں سے بریفینگ لینی ہے اس کے بعد ہی وہ اپنی پالیسی مر تب کر یں گے یا ان کشید ہ خطوط پر چلیں گے جو ان کو دکھا ئے جائیں گے ۔ جہا ں تک ٹرمپ کے انتخابی وعدو ں کا تعلق ہے ان پر عمل درآمد کا فی مشکل کام ہے جیساکہ انہو ں نے کہا کہ وہ میکسیکو اور امریکی سرحد پر دیو ار کھڑی کر یں گے تاکہ غیر قانونی تارکین وطن کو روکا جا ئے اور اس دیو ار کی تعمیر کے اخراجات بھی وہ میکسیکو سے وصول کر یں گے بڑے دل گردے کا کام ہے۔ یہ دیکھنا پڑے گا کہ اس پر عمل ہو پائے گا بھی یا یہ محض انتخابی نعر ہ خوا ب بن کر رہ جا ئے گا کیو ں کہ موجودہ انتخابات نے امریکا کے گونا گو ں مسائل کو بری طر ح آشکا ر کیا ہے ، ان انتخابات کی وجہ سے امریکی قوم رنگ و نسل ، تعلیمیا فتہ اور کم تعلیمیا فتہ طبقہ میں تقسیم ہو ئی ، جنس کی تفریق نما یا ں ہوئی ، برادری ازم کے اثرات بھی نما یا ں ہو ئے ، تاجر اور سرمایہ دار طبقہ نے ٹرمپ کو چنا تو متو سط طبقہ کا ووٹ ہیلر ی کو ملا جبکہ غریب کا ووٹ بھی ٹرمپ لے اڑے ، نسلی تضاد کھل گیا ، قوم پر ستی کی بنیا د پڑی ایشیا ئی باشندو ں سے نفر ت میں اضافہ ہو ا اس کے ساتھ ہی مذہبی منا فرت کو بھی فروغ ملا کیو ں کہ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کھلم کھلا کہا کہ وہ مساجد کو تالے لگا دیں گے جس سے نہ صرف مذہبی منا فر ت بڑھی بلکہ امریکا کا مسلم دنیا میں وقار بھی گر گیا ، امریکا جو دنیا میںسیکو لر ازم کا علمبر دار ہو نے کا دعویٰ کر تا ہے وہ ایک قوم پر ست کے طورپر سامنے آیا۔ لیکن یہ سب انتخابی مہم کی باتیں تھیں۔لیکن جب وہ حلف اٹھالیں گے تب جو بیا ن جاری ہو گا تو اس وقت ان کا رنگ نما یا ں ہو گا ۔تاہم پاکستان کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے خود زند ہ رہنے کا حق رکھنے کے لیے دوسرے کی زندگی کا حق بھی تسلیم کر نا پڑ تا ہے ۔ مختصراً یہ کہ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میںجیسے نظر آئے نجی زند گی میں ویسے نہیں ہیں ، بذلہ سنج انسان ہیں ، خود بھی مسکر اتے ہیں اور مخاطب کو بھی مسکر انے کا مو قع فراہم کرتے ہیں ، محفلوں کی جا ن قرار پا تے ہیںاور شمع محفل بن جا یا کرتے ہیں۔ روکھے پھیکے انسان نہیںہیں رنگین مزاجی بھی پائی جا تی ہے ان کے بارے میں مغربی میڈ یا نے جتنا زہر اگلا تھا وہ سب غلط ثابت ہو ا کہ وہ ایک غیر معروف سیا ست دان ہیں ان کو حکومتی امور کا کوئی تجر بہ نہیں ہے۔ ایسی باتیں امریکا کے ایک سابق آنجہانی صدر رونالڈ ریگن کے بار ے میںبھی کہی گئیں تھیںمگر پھر دنیا نے دیکھا کہ وہ منجھے سیا ست دانو ں سے بھی زیا دہ منجھے ہو ئے ثابت ہوئے۔ ان کے دور میںامریکا نے خوب تر قی کی اور امریکا ایک خوشحال ملک بن گیا تھا ۔(ختم شد)

متعلقہ خبریں