Daily Mashriq


ابھی خطرات موجود ہیں

ابھی خطرات موجود ہیں

اگرچہ ملک میں دہشت گردی کے جن کو بوتل میں بند کردیاگیا ہے لیکن اس کے باوجود کبھی کبھار ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں کہ ایک لمحے کو گمان گزرتا ہے کہ آیا واقعی دہشت گردی کاجن بوتل میں بند کرلیاگیا تھا یا ہم خوش فہمی کاشکار ہیں یا پھر دہشت گردی کا جن کہیں بوتل توڑکے باہر تو نہیں نکل آیا۔کہیں کہیں اور کبھی کبھار دہشت گردی کے کسی دلخراش واقعے پر افسردگی کا مایوسی کی حد تک چلے جانا اور اعتماد کی شکستگی کی بناء پر مثبت کا وقتی طور پر منفی نظر آنا عجب نہیں فطری طور پر ایسا ہوتاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاک فوج نے دہشت گردی کے بین الاقوامی کرداروں کا تخلیق کردہ جن بڑی کامیابی سے بوتل میں بند کردیا ہے ۔ ایسے میں سوال ضرور اٹھتا ہے کہ پھر دہشت گردی کے بعض واقعات کیوں ہوتے ہیں یہ سوال واقعی اپنی جگہ جواب طلب ضرور ہے جس کا میرے نزدیک جواب یہ بنتا ہے کہ ابھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پر خطرا ور حساس اہداف کو محفوظ بنانے کے بعد نرم اہداف کو محفوظ بنانا باقی ہے۔ نرم اہداف کا دائرہ کار فوج سے زیادہ پولیس اور سول انتظامیہ کے دائرہ کار میں آتا ہے جن پر توجہ کی ضرورت ہے۔ اگر حالیہ دہشت گردی کے واقعے کا جائزہ لیا جائے تو بلوچستا ن میں کلبھوشن کے پیروکاروں نے ایک اہم نوعیت کی تقریب کے انعقاد کے موقع پر دور دراز دھمال ڈالے ملنگوں اور زائرین کو نشانہ بنا کر گویا اپنی ناکامی کا از خود اعتراف کرلیا ہے۔ بہر حال دہشت گردی کے خلاف جنگ اور را نیٹ ورک این ڈی ایس کی ملی بھگت اور کچھ ناراض عناصر سے بلوچستان میں چو مکھی لڑائی چل رہی ہے ملک کے دوسرے حصوں میں بھی دشمنوں کی سازشوں کے خطرات سے بھی صرف نظر نہیں کیاجاسکتا۔ البتہ اس امر پر اطمینان ہونا چاہئے کہ پاک فوج اور ہمارے حساس ادارے بشمول دیگر حکومتی و ریاستی ادارے مکمل کامیابی کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ذرا پیچھے مڑ کر دیکھیں تو اس پورے خطے میں گویا ایک قیامت گزر چکی۔ اب وہ وقت ایک براخواب محسوس ہوتاہے۔ اس دوران مادر وطن کے تحفظ اور دشمنوں کی تطہیر میں جو لا زوال قربانیاں رقم کی گئیں وہ نہ صرف ملکی تاریخ کا حصہ ہیں بلکہ بین الاقوامی طور پر اس کی نظیر نہیں ملتی۔ ہمارا صوبہ خیبر پختونخوا اور ملحقہ قبائلی علاقوں میں ایک دہائی جو حالات رہے ان حالات سے نکلنا کسی معجزے سے کم نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں بالخصوص اور ملک بھر میں بالعموم پاک فوج کے افسروں اور جوانوں نے جس طرح جانوں کا نذرانہ دے کر مٹی کا قرض ادا کیا وہ کسی سے پوشیدہ امر نہیں۔ ایسا بھی ہوا کہ جب ایک ہی دن کئی شہادتیں ہوئیں تو دیکھا گیا کہ کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمن ہر جنازے میں سرکاری و نجی مصروفیات کو چھوڑ کر شریک نظر آئے۔ پاک فوج میں ہر سطح کے افسر ضرور ہوتے ہیں اور فرائض منصبی کے تقاضوں کے مطابق فاصلہ بھی رکھا جاتا ہے مگر رتبہ شہادت پانے والے ہر رینک اور ہر فاصلے سے بڑھ کر یکساں اعزاز کے مستحق ہوتے ہیں اور ہوں بھی کیوں نہیں وطن عزیز کے جو سپوت لہو سے ارض وطن کی مٹی گلنار کریں وہ اس قوم کے محسن اور بجا طور پر ہر سطح سے بالا تر عزت و احترام کے مستحق ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کو ایک ہی قسم کی سلامی دی جاتی ہے اور ان کا جسد خاکی پاک وطن کے سبز ہلالی پرچم میںلپٹا ہوتا ہے۔ کور کے سربراہ کے طور پر کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل ہدایت الرحمن جس طرح سے پاک وطن کے ان شہیدوں کے لواحقین اور ورثاء کا بظاہر اور خاموشی سے خیال رکھتے ہیں اس کی ایک شفیق باپ اور سربراہ سے ہی توقع کی جاسکتی ہے۔ میرے خیال میں ایسا کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ شہداء کے لواحقین کو کسی بات کا ملال نہ ہو ۔ جہاں تک شہداء کے لواحقین کی دست گیری کا تعلق ہے اس کے لئے تو پاک آرمی کا ایک باقاعدہ انتظام موجود ہے مگر اپنے پیارے کی قربانی دینے والے ہر خاندان کو دلاسہ دینے کی ذمہ داری بھی کم الم نہیں تاکہ ان کو اس کا احساس دلایا جائے کہ وہ کسی بھی مرحلے پر اکیلے نہیں ' ان کا کمانڈر اور پوری قوم ان کے ساتھ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ شہیدوں کی یادوں کو زندہ رکھنا صرف پاک فوج کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی من حیث المجموع ذمہ داری بنتی ہے کہ جنہوں نے ان کی حفاظت میں جانیں قربان کیں ان کی یادوں کو تازہ کرتے رہیں۔ خیبر پختونخوا کا شاید ہی کوئی علاقہ ایسا ہوگا جہاں کسی شہید کا تابوت نہ اترا ہو۔ کوئی سپوت ارض مقدس کی حفاظت میں کسی عضو کی قربانی دے کر عزم ہمت کی تصویر بن کر نہ آیا ہو۔ صوبے کے ہر گائوں ' ہر قصبہ اور ہر علاقے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ قبائلی علاقوں میں ہونے والے آپریشنز اور آپریشن ضرب عضب میں شریک کوئی جوان ان مشکل حالات کا تذکرہ کرنے کے لئے موجود نہ ہو۔ جب تک ہم میں قربانیوں کی قدر اور کارناموں کا اعتراف و احساس باقی ہے ہمارے جوانوں کاجذبہ سرد نہیں پڑ سکتا۔ قوم کے یہ سپوت ہمارے ہی بھائی بند ہیں۔ ہماری حفاظت اور دفاع مادر وطن ان کی ذمہ داری ہے تو ان کو اپنا سمجھنا ہمارا فرض ہے۔ جس ملک کے عوام اور عمال ایک ہوں اس کے لئے بحرانوں کا مقابلہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ قومی اقتصادی راہداری منصوبے کے کامیاب آغاز کے بعد دشمنوں کی ریشہ دوانیوں میں اضافے کے خطرات ہیں جس کا پوری قوم کو اتحاد سے مقابلہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں