بلوچستان میںداعش کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں

بلوچستان میںداعش کی بڑھتی ہوئی کارروائیاں

بلوچستان میں ایک مہینے کے اندر دہشت گردی کے دو افسوس ناک واقعات ہوئے ہیں جن میں دو مختلف جگہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے لیکن یہ بات تو یقینی ہے کہ ان دونوں واقعات کے پیچھے ایک ہی ہاتھ ہے۔ کوئٹہ میں پولیس اکیڈمی پر حملے اور خضدار میں شاہ نورانی کے مزار پر حملے کی ذمہ داری اسلامک سٹیٹ اور اس کے اتحادیوں نے قبول کی ہے۔رواں سال اگست میں دہشت گردوں نے صوبہ بلوچستان کے سینئر وکلاء کی ایک بڑی تعداد کو ہسپتال میں خود کُش حملے کا نشانہ بنایا تھا۔ان واقعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان دہشت گرد تنظیموں کا میدانِ جنگ بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ ماضی قریب میں بالائی سندھ میں ہونے والے دہشت گردی کے کچھ واقعات کے ڈانڈے بھی بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں سے ملتے ہیں۔ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے کسی واقعے کی ذمہ داری اسلامک سٹیٹ نے قبول کی ہو۔ اس سے پہلے کراچی میں اسماعیلی برادری کی بس پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری بھی اسلامک سٹیٹ نے قبول کی ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں سے اسلامک سٹیٹ کے گروپوں کو پکڑے جانے کی خبریں بھی آئے دن اخباروں کی زینت بنتی رہتی ہیںلیکن بلوچستان میں اسلامک سٹیٹ جیسی ایک بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم اور مقامی عسکریت پسند تنظیموں کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت ایک انتہائی تشویشناک بات ہے۔جہاں تک حکومتِ پاکستان کی بات کی جائے تو ملک میں اسلامک سٹیٹ کی موجودگی کے حوالے سے ہماری حکومت اس وقت اُس کبوتر کی پیروی کر رہی ہے جو بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ اگر کسی حکومتی اہلکار سے اسلامک سٹیٹ کے متعلق بات کی جائے تو جواب ملتا ہے کہ ایسی کسی تنظیم کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں ہے اور اس طرح کی باتیں پاکستان کو دنیامیں تنہائی کاشکا رکرنے کے لئے کی جارہی ہیں۔ عراق اور شام میں اسلامک سٹیٹ کی کامیابیوں نے مقامی شدت پسند تنظیموں کو اسلامک سٹیٹ کے ساتھ الائنس بنانے کی ترغیب دی ہے۔

اگرچہ مڈل ایسٹ میں اس وقت اسلامک سٹیٹ کو شکست کا سامنا ہے اور اپنے فتح کئے گئے بہت سے علاقوں سے پسپائی اختیار کر چکی ہے لیکن اب بھی اسلامک سٹیٹ پاکستان میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ یہ شدت پسند گروہ پاکستان میں اسلامک سٹیٹ کی فرنچائز کے طور پر کا م کرتے ہیں۔ اس لئے یہ بات حیرت کا باعث نہیں ہے کہ کوئٹہ پولیس اکیڈمی پر حملے کے چند گھنٹے بعد ہی اس حملے کی تصاویر اسلامک سٹیٹ کی آفیشل ویب سائٹ پر شائع کی گئی تھیں۔ کچھ پڑھے لکھے نوجوان پاکستانی بھی اسلامک سٹیٹ کے آن لائن پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اس تنظیم کی بیعت کرچکے ہیں جن میں سے کچھ کراچی میں اسماعیلی برادری پرہونے والے حملے میں ملوث بھی تھے۔ سیکورٹی اداروں کی جانب سے کریک ڈائون کے باوجود ان میں سے اسلامک سٹیٹ کے حامی کچھ شدت پسند سیل اب بھی پورے ملک میں فعال ہیں اور فرقہ وارانہ شدت پسند تنظیموں کے ساتھ الائنس بنانے میں مصروف ہیں۔ خراب گورننس اور پولیسنگ کی وجہ سے ان گروہوں کو ملک کے مختلف علاقوںمیں اپنی کارروائیاں جاری رکھنے میں آسانی ہوتی ہے جن میں کراچی سرِ فہرست ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں بلوچستان میں فرقہ وارانہ دہشت گرد ی میں اضافے کی وجہ سے اسلامک سٹیٹ جیسی بین الاقوامی شدت پسند تنظیم کو صوبے میں اپنے قدم جمانے کا موقع مل گیا ہے۔پچھلے کچھ عرصے میںمستونگ فرقہ وارانہ دہشت گردی کے گڑھ کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے اور یہی وہ ضلع ہے جو صوبے میں انتہا پسندوں کی پناہ گاہ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ 9/11 کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ کا ایک رشتہ دار دائود بدانی 2004ء میں کوئٹہ میں امام بارگاہ پر ہونے والے پہلے بڑے فرقہ وارانہ حملے میں ملوث تھا ۔ اسی طرح کوئٹہ میں ہزارہ شیعہ برادری پر ہونے والے حملوں کے ڈانڈے بھی مستونگ سے ملتے ہیں۔ دہشت گردی کے تازہ ترین واقعات سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ فرقہ وارانہ شدت پسند تنظیمیں اب بھی بڑے پیمانے پر دہشت گردی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔اس کے علاوہ ان شدت پسند تنظیموں کو افغانستان میںبھی پناہ گاہیں میسر ہیں جس کی وجہ سے پاکستانی سیکورٹی اداروں کے لئے ان پر قابو پانا انتہائی دشوار ہے۔ اگرچہ اسلامک سٹیٹ کو ملک میں پائوں جمانے سے روکنے کے دعوے سامنے آتے رہتے ہیں لیکن دہشت گردی کے تازہ ترین واقعات ان دعوئوں کی نفی کرتے ہیں۔ یقیناہمیںپاکستان میں اسلامک سٹیٹ کی موجودگی کو بڑھا چڑھا کر بیان نہیں کرنا چاہیے لیکن بلوچستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کے بعد اسلامک سٹیٹ کے خطر ے سے صرف ِ نظر بھی ناممکن ہے۔
(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

اداریہ