پاکستان اور ترکی حقیقی برادر ملک ہیں، ترک صدر رجب طیب اردگان

پاکستان اور ترکی حقیقی برادر ملک ہیں، ترک صدر رجب طیب اردگان

ڈِیسک: پاکستان کے 2 روزہ دورے پر آنے والے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ پاکستان او ترکی  دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری  رکے گی اور پاکستان کا ترکی عوام کے ساتھ  محبت اور خلوص کا جذبہ   ہمیشہ یادگار رہے  گا    

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس اور وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

ترک صدر کے پارلیمنٹ سے خطاب کے موقع پر، صدر ممنون حسین، وزیر اعظم نواز شریف، چیئرمین سینیٹ رضا ربانی، مسلح افواج کے سربراہان، پنجاب، سندھ، بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ، پنجاب اور بلوچستان کے گورنرز بھی پارلیمنٹ میں موجود تھے۔

اپنے خطاب میں صدر اردگان نے کہا کہ پاکستانی بھائیوں سے محبت اور خلوص کا اظہار کرتا ہوں، ترکی سے آپ سب کےلیے محبتیں سمیٹ کر لایا ہوں۔اورہم چاہتےہیں کہ پاکستان اورافغانستان کےتعلقات بہترہوں۔

انہوں نے کہا کہ فتح اللہ دہشت گرد تنظیم ایک خونی تنظیم ہے اور خطے کے لیے خطرہ ہے، اس کا نیٹ ورک 120 ممالک میں ہے اور گولن پنسلوانیہ سے اپنی حکمرانی قائم کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فیٹو کو پاکستان کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، میں اس دہشت گرد تنظیم کے خلاف جنگ میں پاکستان کے تعاون پر مشکور ہوں۔

15 جولائی کو ترکی میں بغاوت کی کوشش کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’باغی طاقتوں سے ملنے والے اسلحے کے تانے بانے مغرب سےملتے ہیں، مغرب، داعش اور القاعدہ کی مدد کررہا ہے، داعش کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں‘۔

شدت پسند تنظیم داعش کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’القاعدہ اور داعش جیسی تنظیمیں مسلمانوں کو نقصان پہنچا رہی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کو سراہتا ہوں۔

امریکا میں خود ساختہ جلا وطنی کاٹنے والے مبلغ فتح اللہ گولن کے حوالے سے ترک صدر نے کہا کہ ’ ترکی کے اندر بغاوت کی کوششوں کےخلاف کارروائی کررہےہیں،گولن 120ملکوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھا ہوا ہے۔

ترک صدر نے کہا کہ 15جولائی کی بغاوت کی مذمت کرنے والا پاکستان سب سے پہلا ملک تھا، ہم اس بھائی چارے کو دنیا بھر میں مقبول کریں گے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوری عمل مستحکم ہوا ہے، پاکستان نے مسلم امہ کے لیے ایک اہم مثال پیش کی ہے، پاکستان کی پارلیمنٹ سے تیسری مرتبہ خطاب کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک ترک تعلقات کونئی بلندی پر پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں، پاکستان اور ترکی کی تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر تک بڑھانا چاہتے ہیں

ترک صدر نے کہا کہ ’دہشت گردوں کے خلاف ترکی کی جدوجہد جاری رہے گی۔

مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’کشمیر کا مسئلہ کشمیری بھائیوں کی خواہش کے مطابق حل ہونا چاہیے، ترکی مسئلہ کشمیر کے حوالے اپنی کوششیں اقوام متحدہ میں آگے بڑھائے گا۔انہوں نے کہا کہ ’ پاکستان کے ساتھ تعلیم کےمیدان میں پیشرفت آگےبڑھائیں گے، پاکستان کے ساتھ انڈر گریجویٹ اوراعلیٰ تعلیم کے معاہدے طے پائیں گے۔

متعلقہ خبریں