Daily Mashriq


بلوچستان میں دہشت گردوں کا پھر وار

بلوچستان میں دہشت گردوں کا پھر وار

دہشت گردوں نے عین اسی موقع پر بلوچستان میں دہشت گردی کے دو خوفناک واقعات کرکے ہماری قومی سلامتی کو ایک مرتبہ پھر چیلنج کیا ہے جب اسلام آباد میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے زیر صدارت قومی سلامتی کونسل کا اجلاس ہو رہا تھا جس میں وزیر داخلہ‘ وزیر خارجہ‘ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئر مین ‘ چیف آف آرمی سٹاف‘ چیف آف نیول سٹاف‘ چیف آف ائیر سٹاف کے علاوہ سینئر سول و فوجی افسران شریک تھے۔ بلوچستان میں غیر ملکی عناصر کے ہاتھوں میں کھیلنے والوں کی مدد سے ایک عرصے سے دہشت گردی کی وارداتیں مختلف صورتوں میں جاری ہیں۔ ان وارداتوں پر بڑی حد تک قابو پالیا گیا تھا مگر ایک مرتبہ پھر ان میں تیزی آگئی ہے۔ رواں عشرے میں ایک اعلیٰ پولیس افسر کو نشانہ بنانے کا یہ دوسرا واقعہ ہے جبکہ معصوم اور بے گناہ مسافروںکو بڑی بے دردی سے قتل کا سفاکانہ اقدام دہرایاگیا ہے۔ یہ عناصر کچھ عرصے سے لندن اور جنیوا میں پوسٹروں کے ذریعے سرگرم رہے جن کو اب پاکستان کے احتجاج پر اتار دیاگیاہے۔ حالیہ دنوں میں ان عناصر کی سرگرمیوں میں تیزی کی وجہ جہاں سی پیک کے منصوبے کو خدانخواستہ سبو تاژ کرنے کی کوششوں کا تسلسل ہے وہاں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ ایران میں ایرانی قیادت سے غلط فہمیوں کاخاتمہ اور گیس پائپ لائن منصوبے کی بحالی کے امکانات اجاگر ہونے ہیں جس کے بعد دشمنوں کا تخریبی نیٹ ورک زیادہ متحرک ہوگیا ہے۔ اس سے کن عناصر کو سب سے زیادہ تکلیف پہنچی ہوگی اس کا اندازہ زیادہ مشکل نہیں۔ امریکہ کی شروع سے کوشش رہی ہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ شروع نہ ہوسکے جب بھی اس کے آثار پیدا ہونے لگتے ہیں بلوچستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں تیزی آنے لگتی ہے۔ آرمی چیف کے دورہ ایران کے فوراً بعد امریکہ نے بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان میں کارروائیوں کی جو دھمکی دی تھی بلوچستان کے ان خونین واقعات کو اس دھمکی پر عملدرآمد قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ طاغوتی قوتیں اور اغیار کی ان سرگرمیوں کو اگر ایک طرف رکھ کر ہم اپنے اندرونی معاملات کاایک نظر جائزہ لیں تو افسوس ناک صورتحال سامنے آتی ہے۔ جس روز قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ملک کی سیاسی و عسکری قیادت شریک ہوئی اور قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ملک دشمن ایجنسیوں کی بڑھتی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیاگیا اس سے ایک ہی روز قبل جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئر مین نے اس امر کا انکشاف کیا تھا کہ بھارت نے سی پیک منصوبے کے خلاف 55ارب روپے رکھے ہیں اور خطے میں ایٹمی جنگ کا خطرہ ہے۔ ہمارے وزیر دفاع خرم دستگیر کا بیان ہے کہ پاکستان میں سول ملٹری تعلقات حل ہونے میں ابھی بہت وقت لگے گا اس طرح کی صورتحال میں قوم کیسے اپنی سیاسی و عسکری قیادت کے بارے میں پر اعتماد ہوگی اور کیسے تشویش کا شکار نہ ہوگی کیا یہ صورتحال توجہ کا متقاضی اور اولین حل طلب نہیں‘آخر ہماری سیاسی و عسکری قیادت میں ہم آہنگی کیوں نہیں ہوتی اور ایسا ہونے میں مزید وقت کیوں برباد ہو۔ ہر دو قیادتیں اپنے اپنے فرائض کی آئین و قانون کے مطابق انجام دہی پر آمادہ کیوں نہیں‘ آخر اختلافات اور نا اتفاقی کی وجوہات کیا ہیں اور ان کو حل کرکے قوم کا اعتماد بحال کیوں نہیں کیاجاتا۔ اس طرح کی صورتحال میں ملک کو کمزور کرنے والے او اس کی سلامتی کے درپے عناصر کو متحرک ہونے کا موقع ملنا فطری امر ہے۔ جہاں تک بلوچستان کے حالیہ واقعات کا تعلق ہییہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ قبل ازیں بھی اس طرح کے کئی واقعات ہوچکے ہیں۔ صوبہ بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ ایک عرصے سے امن دشمنوں کے نشانے پر ہے،کوئٹہ میں سیکورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد دہشتگرد حملوں میں جان گنواچکی ہے ،ڈاکٹروں ، صحافیوں ، اساتذہ سمیت شہر کی سول سوسائٹی کی بڑی تعداد دہشتگردی کا شکار ہوچکی ہے۔قبل ازیں بھی کوئٹہ میں پولیس افسر کو نشانہ بنایاگیا تھا۔ خیبر پختونخوا کے ایک سپوت اعلیٰ پولیس افسر بھی حال ہی میں دہشت گردوں کا نشانہ بنے تھے۔ بلوچستان میں متحرک راء کی تخریب کاری اور دہشت گردی کے واقعات میںبالواسطہ و بلا واسطہ ملوث ہونا گویا نوشتہ دیوار ہے۔امن دشمنوں کا یہ وار درجنوں قیمتی انسانی جانوں کو تو ضرور لے گیا اور عوام خاص طور پر ہراساں ضرور ہوئے لیکن دشمن قوتیںنہ تو ہمیں دبائو میںلا سکتی ہیں اور نہ ہی مغلوب کرسکتی ہیں۔بلوچستان میں سرگرم عمل عناصر اور راء کے ساتھ گٹھ جوڑ رکھنے والے سرحد پار سے آنے والے دہشت گردوں اور تخریب کاروں اور ان کے ہمدردوں کے خلاف سخت اقدامات اور ان کے داخلے کے امکانات کو نہ ہونے کے برابر لانے کے لئے بھی خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ پولیس اور دیگر متعلقہ شعبوںاور اداروں میںبھی فعالیت وفرض شناسی کی مثالیں قائم کرنی ہوں گی ۔

الیکشن میں فوج تعیناتی کیلئے رہنما اصول طے کرنے کا احسن فیصلہ

الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کے دوران فوج اور رینجر ز کی تعیناتی کی صورت میں الیکشن کمیشن اور فوج کے مابین رہنما اصول تیار کرنے کا فیصلہ احسن اور وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اصولی طور پر تو فوج کی تعیناتی اور نگرانی ایک قابل اطمینان امر ہے فوج کی تعیناتی ازخود بہت سارے مسائل کا حل اور الیکشن کے عمل میں اعتماد بڑھانے کا باعث ہے ۔ مشاہدے کی بات ہے کہ کسی مناسب طریقہ کار اورصول و ضوابط طے نہ ہو نے کے باعث الیکشن کمیشن کا عملہ ثانوی حیثیت کا حامل بنا دیا جا تا ہے اور انتخابی عمل کے طریقہ کار اور انتظامات میں مداخلت سے معاملات میںبہتری کی بجائے پیچیدگی آجاتی ہے میڈیا کے پولنگ کی کوریج پر الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی پابندی نہیں بلکہ اسے شفاف انتخابات کیلئے ضروری سمجھا جاتا ہے مگر تعینات فوجی جوان میڈیاکو کوریج کرنے سے روکتے ہیں شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ متعین جوانوں کو واضح طور پر ہدایات نہیں ملتیں اور نہ ہی کوئی باقاعدہ ضابطہ کار طے ہوا ہوتا ہے اس لئے غلط فہمیوں کی نوبت آجاتی ہے اور میڈیا کو بھی شکایات ہوتی ہیں ۔ سب سے ضروری امریہ ہے کہ پولنگ کا طریقہ کار اور عمل میں الیکشن کمیشن کے مقررہ سٹاف کے علاوہ کسی کو بھی دخیل ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے ۔ تاکہ پولنگ کا عمل خوش اسلوبی سے انجام پائے ۔ بہتر ہوگا کہ آئندہ انتخابات کے مثالی انتظامات اور انتخابی عمل کو شفاف بنانے کیلئے ایک ماہ باقاعدہ ضابطہ کار مل میٹھ کر طے کیا جائے اور اس کی باقاعدہ پابندی کرائی جائے اس امر کو ہر قیمت پر یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ الیکشن کمیشن کا متعین عملا ہی بنیادی ذمہ داری نبھائے اور ان کو اتنا خو د مختار و اختیار بنایا جائے کہ صورتحال کے مطابق بروقت فیصلہ اور اقدامات بلا جھجک کر سکیں ۔

متعلقہ خبریں