Daily Mashriq

دینی مدارس میں انگریزی تعلیم کی ضرورت و ا ہمیت

دینی مدارس میں انگریزی تعلیم کی ضرورت و ا ہمیت

دینی مدارس میں انگریزی پڑھانے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں یقینا مفید اور قابل عمل نکات سامنے آنا فطری امر تھا خوش آئند بات یہ ہے کہ علمائے کرام کو انگریزی اور کمپیوٹر کی تعلیم کی اہمیت کا احساس و ادراک ہو رہا ہے اور یہ وقت کی ضرورت بھی ہے اس سے دینی مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ صرف مساجد و مدارس یا شعبہ تعلیم ہی تک روز گار کے مواقع کی تلاش میں محدود نہیں ہوں گے بلکہ محولہ تعلیم کے حصول کے بعد وہ اس طرح کی دوہری قابلیت کے حامل ہوں گے جن کو آسامیاں پر کرتے ہوئے نظر انداز کرنا آسان نہ ہوگا۔ وطن عزیز میں کرپشن اور بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے باعث جس قسم کے بحران کا سامنا ہے حتی الوسع اقدامات و امکانات کے جائزے اور عملی طور پر ان مشکلات کو دور کرنے کی کوششوں کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ ہمارے تئیں اس طرح کی صورتحال میں اب علمائے کرام کو اس امر کا فیصلہ کرلینا چاہئے کہ وہ مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم سکھا کر ایسے افراد معاشرے میں بھیجیں گے جو فیصلہ ساز عہدوں پر پہنچ کر ملک و قوم کی احسن انداز میں خدمت کا فریضہ نبھا سکیں خوف خدا کی زیادہ سے زیادہ کی توقع دینی علوم سے بہرہ ور افراد سے رکھنا غلط نہ ہوگا۔ اگر ہمارے مدارس ایسی تعلیم دیں کہ ان کے فارغ التحصیل طلبہ دینی علم کے ساتھ ساتھ مروجہ دفتری روایات بھی پور ی کرنے کے حامل ہوں اس طرح کے افراد سرکاری محکموں میں آجائیں تو رشوت و بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا خاتمہ نہیں تو اس میں نمایاں کمی لازمی امر ہے۔ یہ ہم خرما ہم ثواب والی صورتحال ہوگی جس سے جہاں دینی مدارس کو روز گار کے وسیع مواقع میسر آئیں گے۔ وہاں ملک میں ایسی افرادی قوت پیدا ہوگی جو دین اور دنیا دونوں کو سمجھنے والا ہو۔ دیانتدار عمال اور دیانتدار عملہ کسی بھی ملک و قوم اور ادارے کا بڑا سرمایہ ہوتے ہیں اور اس طرح کے لوگ ہی کامیابی اور تبدیلی کی بنیاد ثابت ہوسکتے ہیں جس کی اس وقت ملک کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
بلا ضرورت رکاوٹیں ہٹانے میں تاخیر نہ کی جائے
عدالت عالیہ پشاور کی پشاور شہر سے رکاوٹیں مرحلہ وار ہٹانے کا حکم شہریوں کی مشکلات کاپورا پورا ادراک کرنے کے زمرے میں آتاہے ۔ جہاں سیکورٹی کی مجبوریوں کے باعث رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں ان سے شہری بھی زیادہ نالاں نہیں لیکن مشکلات کا شکار ضرور ہیں لیکن سیکورٹی کے نام پر جگہ جگہ اور بلا ضرورت رکاوٹیں، چیک پوسٹیں اور پوچھ گچھ کا سلسلہ تکلیف دہ اور ناقابل برداشت ہے۔ ریپڈ بس منصوبے کیلئے سڑک کی تعمیر کے کام کی وجہ سے تو پورا پشاور شہر رکاوٹوں کی زد میں ہے جس کے باعث رکاوٹیں ہٹانے کی ضرورت اور بڑھ گئی ہے ۔ سیکورٹی کی مجبوریاں اپنی جگہ ہمارے اداروں کو شہر یوں کی مشکلات کا بھی احسا س کرنا چاہیئے اب حالات اس قدر بھی گھمبیر نہیں کہ شہر کسی محصور قلعے کا منظر پیش کرے اور عوام کواپنے ہی شہر میں بلاضرورت رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے ۔

اداریہ