Daily Mashriq


اسلام آباد میں دھرنا

اسلام آباد میں دھرنا

اسلام آباد کے شہری کئی دن سے ٹریفک کے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔ اسلام آباد کا سب سے مصروف راستہ فیض آباد سے ہو کر گزرتا ہے اور وہاں تحریک لبیک کا دھرنا ہے جو کئی دن سے جاری ہے۔ اسلام آباد میں ایک دھرنا ڈی چوک میں تحریک انصاف کے عمران خان اور عوامی تحریک کے علامہ طاہر القادری کی قیادت میں دیا گیا تھا ۔ اس وقت سارا سارا دن ٹی وی چینلز اس دھرنے پر متوجہ رہتے تھے۔ آج کل ٹی وی والے اس دھرنے کے باعث عوام کو ٹریفک کے جو مسائل پیش آ رہے ہیں ان کی خبر تو کبھی کبھار دے دیتے ہیں لیکن اس دھرنے کے مناظر نہیں دکھاتے۔ اسلام آباد کا ڈی چوک تو ریڈ زون یا حساس علاقہ ہے اس لیے حکومت نے وہاں اجتماعات پر پابندی لگا دی ہے۔ اس لیے لبیک تحریک نے دھرنے کے لیے لبیک چوک کا انتخاب کیا ہے۔ لیکن حساس علاقہ تو یہ بھی ہے کہ اسلام آباد کے لیے راستے بالعموم یہیں سے ہو کر گزرتے ہیں۔ راولپنڈی اور پنجاب سے آنے والی گاڑیاں لمبے چکر لگا کر اسلام آباد میں داخل ہونے کی کوشش کرتی ہیں اس لیے متبادل سڑکوں پر بھی ایسی بھیڑ ہو جاتی ہے کہ پندرہ منٹ میں طے ہونے والا راستہ کئی گھنٹے میں ختم ہوتا ہے۔ شہری پوچھتے ہیں کہ یہ کب تک چلے گا اور حکومت کیوں یہ مسئلہ حل نہیں کرتی۔ دھرنے والے کہتے ہیں کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جائیں گے دھرنا جاری رہے گا۔ اور حکومت کی طرف سے خاموشی ہے۔ شہری کہتے ہیں کہ حکومت کیوں ان سے بات چیت نہیں کرتی ، وزیر مملکت برائے داخلہ امور طلال چوہدری نے تقریباً نو دن گزرنے کے بعد کہا ہے کہ حکومت بھی دھرنے والوں سے بات چیت کرنا چاہتی ہے۔ یہ بات چیت‘ یہ مذاکرات بہت پہلے ہو جانے چاہئیں تھے۔ اخبارات میں لکھا ہے کہ دھرنے والے وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کے استعفے یا ان کی سبکدوشی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ انتخابی اصلاحات کے قانون میں حلف نامے سے متعلق جو نئی دفعہ شامل کی گئی تھی اس کی ذمہ داری زاہد حامد پر عائد ہوتی ہے۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ انتخابی اصلاحات کے بل میں ختم نبوتؐ پر ایمان کے حوالے سے جو حلف نامہ شامل کیا گیا تھا اس کا مفہوم کچھ ایسا تھا کہ میں صدق دل سے اقرار کرتا ہوں حالانکہ اس سے پہلے جو قانون رائج تھا اس کا مفہوم تھا کہ میں حلفاً اقرار کرتا ہوں (یہ فرق یادداشت کے سہارے بیان کیا جا رہا ہے ‘ اس میں اگر کوئی غلطی ہو گئی ہو تو اس پر معذرت قبول کر لی جائے) دھرنا دینے والوں کا اصرار ہے کہ یہ بل چونکہ قاعدے کے مطابق وزارت قانون نے تیار کیا تھا اور اسمبلی میں اسے وزیر قانون زاہد حامد نے پیش کیا تھا اس لیے انہیں وزارت سے سبکدوش کر دیا جانا چاہیے۔حالانکہ اگر وزیر قانون کوئی اور ہوتا تو یہ بل پیش کرتا۔ لیکن اس بل پر ڈیڑھ سال تک متعلقہ پارلیمانی کمیٹی کے ارکان گفتگو کرتے رہے تھے تب کہیں اس پر اتفاقِ رائے کے بعد وزارت قانون میں اس بل کا قانونی مسودہ تیار کرنے کے لیے گیا تھا جہاں معمول کے مطابق درجہ بدرجہ اہل کاروں نے یہ مسودہ تیار کیا۔ اور قاعدے کے مطابق اسمبلی میں یہ بل وزیر قانون نے پیش کیا۔ ارکان اسمبلی نے اسے پڑھا ‘ ایک سے زیادہ بار پڑھا ، اس کے بعد سپیکر قومی اسمبلی نے بھی بل رائے شماری کے لیے پیش کیا اور منظور کر لیا گیا۔ یہی مشق سینیٹ میں بھی دہرائی گئی اس لیے اس میں سہو یا غلطی کی ذمہ داری نہ کسی اہل کار کی رہتی ہے نہ کسی وزیر کی بلکہ یہ غلطی دونوں ایوانوں کے سارے ارکان کی ہو جاتی ہے۔ جیسے کہ پہلے سطور بالا میں کہا جا چکا ہے کہ سینیٹ میں اس کی نشاندہی جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر حمد اللہ نے کی اور قومی اسمبلی میں شیخ رشید نے اس کی طرف توجہ دلائی۔ یہ فروگزاشت یا کوتاہی دونوں ایوانوں کے ارکان کی ہے ‘ اس کی ذمہ داری ان ارکان پر بھی عائد ہوتی ہے جو اجلاس میں شریک نہیں ہوئے‘ وہ اگر شریک ہوتے تو شاید پہلے ہی اس کی نشاندہی ہو جاتی۔ اس لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے سبھی ارکان جن میں قومی اسمبلی کے سپیکر اور سینیٹ کے چیئرمین بھی شامل ہیں یہ ذمہ داری سب کی ہے۔ اور کسی حد تک سارے پاکستان کے مسلمان عوام کی بھی ہے کہ انہوں نے ایسے ارکان کو منتخب کیا جنہوں نے منصبی تقاضے کے مطابق غور کیے بغیر اس بل کو منظور کیا۔ جمعیت العلمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمن نے اس حوالے سے ایک بار کہا تھا کہ تمام ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹ کو تجدید نکاح کر لینی چاہیے۔ یعنی وہ بھی اسے اجتماعی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔اس بل کی منظوری پر شرمندگی سینیٹ اور قومی اسمبلی کے سبھی ارکان اور ساری قوم کو ہونی چاہیے۔ اور اس پر توبہ استغفار کیا جانا چاہیے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس پر قومی شرمندگی کے اظہار کی بجائے احتجاج صرف قوم کے ایک حصہ کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ شرمندگی کے اظہار اور معذرت طلبی میں ساری قوم کو شامل ہونا چاہیے تھا۔ اور احتجاج کرنے والوں کو چاہیے تھا کہ وہ ساری قوم کو اظہارِ شرمندگی پر مائل کرتے۔ اس صورت حال میں کہ ایک طبقہ احتجاج کر رہا ہے اور باقی لوگ ٹریفک کے مسائل پیدا ہونے کی شکایت کر رہے ہیں پاکستان کی مسلمان قوم کے اندر اس مؤقف کے بارے میں جس پر سب دل و جان سے یقین رکھتے ہیں ایسا اختلاف نظر آ رہا ہے جو دراصل ہے نہیں۔ جس کاز کے لیے احتجاج کیا جا رہا ہے وہ کاز اختلافی نقطہ ہائے نظر کے باوجود عظیم تر ہے۔ اس سے کسی کو اختلاف نہیں۔ اس لیے اس پر اجتماعی اتفاق ہی نظر آنا چاہیے۔ حکومت اگر احتجاج کرنے والوں کو تھکا دینے کا ارادہ رکھتی ہے تو اس سے باز آنا چاہیے کہ اس طرح اس عظیم کاز کو نقصان پہنچے گا جو حکومت‘ اپوزیشن اور عوام سب کا کاز ہے۔ اس لیے فوری طور پر حکومت کو دھرنے والوں سے افہام و تفہیم تک پہنچنے کی کوشش کی بہرصورت کامیاب کوشش کرنی چاہیے۔

متعلقہ خبریں