Daily Mashriq


بارش کے بعد شفاف منظر

بارش کے بعد شفاف منظر

بارش کا پانی دو دن تک خوب برسا، بس اتنا کہ جتنی زمین کی پیاس تھی ۔ خشکی کو اپنے ساتھ بہالے گیابارش کا پانی ۔فضا میں چار سو چھائی دھند بھی چھٹ گئی ۔ درختوں پر پڑی گرد نے درختوں اور پودوں کے چہروں کو گدلاکررکھا تھا ،بارش نے ان کا منہ بھی دھو دیا اور سارسا منظر ایک بار پھر بصارتوں کے لیے شفاف ہوگیاہے ۔بارش اس برس آئی بھی دیر سے ، تبھی تو پنجاب کو سموگ نے اپنی گرفت میں لے رکھا تھا اور کیسی کیسی بیماریاں پھوٹ رہی تھی ۔ اسی بارش کے نہ ہونے سے موسم بھی راستے میں کہیں رکے ہوئے تھے ، سردی کو موسم کی خشکی نے جو روک رکھا تھا بارش نے وہ ناکہ بھی توڑ دیا ہے اور سردی اپنے پورے جوبن کے ساتھ جسموں کو گرم کپڑوں سے ڈھانپنے کے لیے آمادہ کرچکی ہے ۔ گرمی کے کپڑے الماریوں میں سنبھال دیئے گئے ہیں ۔ موسم بدلے تو مزاج بھی بدلتے ہیں اور طرز زندگی بھی خود بخود بدل جاتا ہے ۔

سردیوں کے موسم میں جسم اب حرارت مانگتا ہے سو گرم لباس ہی اس کا علاج ہیں ، اب جہاں بھی جائیں گرم کپڑوں کی منڈیاں سج گئی ہیں ۔ یہاں بھی کوئی مہنگی دکانوں میں جاکر گرم لباس خریدتا ہے تو کوئی لنڈا بازار جاکر جسم کی حرارت خرید لاتا ہے ۔سٹیٹس کا فرق تو پرانا ہے ، کسی نے برانڈڈ لباس خریدنا ہے تو دوسرے کے لیے یہ بالکل بے معنی ہے ۔ اس نے تو بس کام ہی چلانا ہے ۔ گوروں کی چیریٹی کا بھلا ہو کہ اسی سے تیسری دنیا کے غریبوں کا کام چل جاتا ہے ۔ان کی چیریٹی سے بہت سا گرم لباس غریب ملکوں کو پہنچ جاتا ہے اور کم داموں پر لوگوں کے بدن گرم ہوجاتے ہیں اوریوں جاڑے کا موسم نکل جاتا ہے ۔

چند سو روپوں میں بہت کچھ آجاتا ہے اور سردیوں کے یخ بستہ دن کٹ ہی جاتے ہیں ۔اب تو سردی کا دورانیہ کم ہوگیا ہے ، میدانی علاقوں میں چند ہفتے ہی سردی پڑتی ہے ، اس بار بھی نومبر کے بیچ میں کہیں جاکر سردی کوداخلے کا موقع ملا ،سردی کی حکمرانی کی زیاد ہ سے زیادہ فروری تک بات جائے گی اور پھر وقت کی سوئیاں گھوم کر گرمی کی سوغاتیں ساتھ لے آئے گی ۔ سردی کی اپنی اور گرمی کی اپنی سوغاتیں ہیں ۔ سردی عام طور پر گرمی سے شدید مہینہ ہے لیکن عام اور روٹین زندگی میں سردی کو لباس کی حرارت سے قابل برداشت بنالیا جاتا ہے ۔ہاں اگر سردی سے بچنے کا سازوسامان نہ ہو تو یہ موسم ہلاکت خیز ہوسکتا ہے ،خاص طور پر سرد ترین علاقوں میں تو زندگی معطل ہوکر رہ جاتی ہے ۔اللہ نے بھی ایک عذاب سردی کا بھی رکھ چھوڑا ہے کہ جسے زمہریر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور بہت شدید عذاب ہوگا کہ جس میں سردی کی شدت بے انتہا ہوگی ۔ دنیا کے وہ علاقے کہ جہاں سارا سال برف ہی جمی رہتی ہے وہ علاقے زندگی گزارنے کے لیے انتہائی نامساعد حالات رکھتے ہیں ۔ خاص طور پر جب مسلسل کئی مہینوں تک منفی60ڈگری سنٹی گریڈ درجہ حرارت رہے تو سوچئے معمولات زندگی کیسے چلائے جاتے ہوں گے ۔ کیسے آگ کے لیے لکڑی اکٹھی کی جاتی ہوگی اور کیسے برف کو پگھلا کر پانی بنایا جاتا ہوگا ۔

کیسے گھرہستی چلائی جاتی ہوگی اور کیسے لوگ روزگار کرتے ہوں گے ۔ اللہ نے اپنی مخلوق کو موسموں سے نبٹنے کے لیے بہرحال بے پناہ صلاحیت دے رکھی ہے اور خاص طور پر انسان تو اس ذات باری تعالی کی بلاشبہ سپر مشین ہے ۔ اللہ نے ہر موسم کے مطابق جانداروں کو ان موسموں سے نبٹنے کے لیے بائیولاجیکلی تیار کیا ہوتا ہے ۔جیسے سائبیریا کا بھالو(پولر بیئر) اپنی کھال کے نیچے بہت ساری چربی رکھتا ہے جس کی بدولت منفی درجہ حرارت میں آرام سے زندگی گزارتا ہے ۔ سہارا اور تھر جیسے گرم صحراؤں میں رہنے والے جانوروں کو اللہ نے اس شدید گرمی میں زندہ رہنے کی بیالوجی عطا کی ہے ۔اونٹ ہی کو لے لیجئے کہ وہ صحراؤں میں بلاخوف سفر کرسکتا ہے کہ اس کے پاس اضافی پانی سٹور کرنے کی بائیولاجیکل صلاحیت ہوتی ہے ۔

اللہ نے انسان کو موسمی و دیگر حالات سے نبردآزما ہونے کے لیے ایسی کوئی بیالوجی عطا نہیں کی ، یعنی سائبیریا اور تھر کے انسان کا جسم وغیرہ ایک جیسا ہی ہوگا ۔ اور تھر کے انسان کو سائبیریا میں اور سائبیریا کے انسان کو تھر میں بسا دیا جائے تو دونوں زندہ رہیں گے جبکہ پولر بیئر کے ساتھ ایسا کیا جائے تو وہ ہلاک ہوجائے گا کیونکہ اس کے اندر کی چربی ہی اس کی موت کا باعث ہوگی مگر انسا ن تو احسن تقویم سے بناہوا ہے ،سو اپنی عقل اور اپنے شعور سے وہ موسموں کو اپنے اختیار میں کرلیتا ہے ۔ چاہے سردی کو آگ سے زیر کرے یا گرمی کو پانی بہرحال وہ اپنی بیالوجی سے زیادہ اپنی عقل پر انحصار کرسکتا ہے ۔ موسم سارے اللہ کی قدرت کے اشارے ہیں ۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ایک ہی جگہ سے سارے موسم دیکھ سکتے ہیں ان میں جی سکتے ہیں ۔ ہمارے موسم بھی یک رنگی کا شکار نہیں ہیں نہ ہی ہمارے شب و روز ،ہم گرمیوں کے آم بھی خوب کھاتے ہیں اور سردیوں میں ہماری زمین مالٹاا گاتی ہے ۔

بے تحاشہ نعمتیں ہیں جو اللہ کی شان ہیں اور ہم پر فراوان ہیں تبھی تو اللہ کہتا ہے تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤگے ۔ چار سو پھیلے موسموں کے رنگ اور اس کی نعمتوں کا ایک ہی جواب ہے اور وہ ہے سجدہ شکر ۔۔

متعلقہ خبریں