Daily Mashriq


وقت کی حقیقت

وقت کی حقیقت

وقت بھی اکائی ہے ۔ کئی بار مڑ کر دیکھنے پر کتنی ہی ایسی باتیں سنائی دیتی ہیں جنہیں بھولے بھی ایک زمانہ ہوگیا ہوتا ہے ۔ کتنے چہرے دکھائی دیتے ہیں جنہیں بس ایک بار دو بارہ دیکھ لینے کی ہمک ایسی شدید ہوتی ہے کہ دل چاہتا ہے ایک لمحے میں وقت کی بساط سمیٹ دیں اور دوبارہ ان سے جاملیں ۔ ایک بار وہ شفقت بھرا ہاتھ اپنے سر پر محسوس کر سکیں ۔ ایک بار پھر وہ چمکتی آنکھیں اسی محبت سے ہمیں دیکھیں ۔ وہ دوست مل جائیں جو وقت کی دھول میں کھو گئے ۔ وہ منظر لوٹ آئیں جن سے دوری نے کتنی ہی ننھی معصوم خوشیاں ہم سے چھین لیں ۔ بالوں میں سفیدی پھر گئی ، مزاج میں ٹھہرائو آگیا ۔ اب ہم بچپن کی طرح ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ نہیں ہوتے ۔ اب کبھی ماں ،باپ کی ڈانٹ سنتے ہوئے نظریں جھکا کر نہیں بیٹھتے اور انتہائی سنجیدہ ماحول میں بے وجہ ہنسی آنی شروع نہیں ہوتی ، وہ بے فکر ہنسی جو کسی صورت نہ رکتی تھی ۔ دبائے نہ دبتی تھی ۔ جب یہ سمجھ ہی نہ آتا تھا کہ غم کیا ہوتے ہیں ، کبھی یہ نہ محسوس ہوتا تھا کہ باپ کے مضبوط کاندھے وقت کے کسی صفحے پر یاد بن کر رہ جائینگے ۔ جب شام کو لڑنے کے بعد اگلی صبح باتیں بھول کر ہم انہی بچوں کے دوست بن جایا کرتے تھے اور اب ویسی ہی ننھی ننھی باتوں پر لوگ سالوں ناراض رہتے ہیں ، کسی صورت نہیں مانتے اور انکے دل میں ایک دوسرے کے لیے اب کوئی ہڑک نہیں اُٹھتی بڑے ہوگئے ہیں ، وقت نے صبر سکھا دیا ہے اور اس میں ہمیں یہ ہی بھول گیا ہے کہ وقت کا یہ بوڑھا بابا جو ہمیں تھپک تھپک کر صبر کرنا سکھارہا ہے وہ یہ نہیں بتارہا کہ یہ صبر نہیں بے وجہ کی لا علمی ہے ۔ ہم جانتے بوجھتے ان لوگوں کو کھونے پر صبر کررہے ہیں جن کا وقت پہلے ہی ہمارے ساتھ کم ہوتا جارہا ہے جب ہم عمر کی کنوئیربیلٹ (Conveyer belt)پر سوارہیں کوئی نہیں جانتا کہ کون کس نمبر پر کھڑا ہے ۔ کس کی بار ی اس دنیا کے تاریک پر دے سے گزر کر اگلی دنیا میں پہنچ جانے کی پہلے آئیگی اور کون باری کے انتظار میں رہے گا ۔ اس سب کے باوجود ایسے سراب میں جو ہمیں سچ دیکھنے نہیں دیتے ۔ یہ سراب ہم پر مسلط بھی نہیں ۔ یہ ہماری اپنی ہی خواہش ہے ۔ اپنی پسند ہے اپنی ترجیحات میں شامل ہیں ۔ میں سوچتی ہوں کہ کیسے ہم اس خواب کی دھول میں حقیقت کی راہ گم کردیتے ہیں اور اس حقیقت میں ہمارے پیارے رشتے کھوجاتے ہیں ۔ ہم سب جانتے ہیں لیکن جانے کیسے یکدم ہر بات ہماری نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے ۔ کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ کجی تو ہم میں ہے ۔ ہم ہی اپنی راہ تلاش نہیں کر پاتے ۔ راہیں کیسے تلاش کریں ۔ یہ راہیں ہمارے ذہنوں سے مٹ گئی ہیں اور انہیں ہم نے خود ہی کھودیا ہے ۔ میں سوچتی ہوں کہ آخر جانے کیوں ہم نے کبھی یہ سوچا ہی نہیں دیکھا ہی نہیں پھر ذہن میں آواز گونجتی ہے ۔ 

دور سنسان سے ساحل کے قریب

اک جوان پیڑکے پاس

عمر کے درد لیے ، وقت کا مٹیالا دوشالا اوڑھے

بڈھا سا پام کا اک پیڑ ، کھڑا ہے کب سے

سینکڑوں سالوں کی تنہائی کے بعد

جھک کے کہتا ہے جوان پیڑ سے ’’یار‘‘

سرد سناٹا ہے

تنہائی ہے ! کچھ بات کرو

اس ایک نظم میں ایسی کتنی ہی باتیں ہیں جو ہم بھول گئے ہیں ۔ وقت کی اس گردش میں واقعی بڑی تنہائی ہے ۔ اور یہ تنہائی ختم نہیں ہوتی ۔ اس تنہائی کا عمر سے کوئی تعلق نہیں ۔ بڑھاپے کی تنہائی الگ ہے اور جوانی کی الگ ۔ ہم سوچتے ہی نہیں ۔ جب ماں باپ نہیں رہتے تو اس تنہائی کا سدباب کوئی نہیں کر سکتا ۔ باپ کی آواز میں کوئی یہ اعتماد نہیں دلاتا کہ فکر نہ کرو ، میں ابھی زندہ ہوں ۔ ماں کی طرح سر تھپتھپا کر کوئی نہیں کہتا کہ میں صدقے میرا بچہ بہت تھک گیا ہے ۔ کوئی چائے کی ، کھانے کی فکر نہیں کرتا ۔ یہ تنہائی کوئی دور نہیں کر سکتا ۔ کوئی کیسے یہ کہے کہ بوڑھے پیڑ کے ساتھ لگا یہ جوان پیڑ کیسی شدید دھوپ کا شکار ہوتا ہے جب بوڑھا پیڑ نہیں رہتا ۔ اس بوڑھے پیڑ کی یادمیں یہ جوان پیڑ کیسے جی سکتا ہے ۔ کون دیکھ سکتا ہے ۔ کون سمجھ سکتا ہے ۔ دھیرے دھیرے جب دن کی دھوپ ڈھلتی ہے ، شام کے سائے بڑھنے لگتے ہیں ، جوان پیڑ بوڑھا ہونے لگتا ہے اور اس کے ساتھ ایک اور ننھا پیڑ جوان ہورہا ہوتا ہے ، وقت ایسے ہی گزر جاتا ہے ۔

متعلقہ خبریں