Daily Mashriq


ایک پائو قیمہ

ایک پائو قیمہ

خوف اور حضرت انسان کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ یہ ساری زندگی انسان کے ساتھ چلتا رہتا ہے بچپن میں ہمیں اندھیرے سے ڈر لگتا ہے اور بڑے ہو کر ہم روشنی سے ڈرتے ہیں سچائی سے ڈرتے ہیں کبھی کبھی ہمیں انصاف بھی ڈراتا رہتا ہے۔افلاطون نے اس حوالے سے بڑی پتے کی بات کی ہے ٌ ہم بڑی آسانی سے اس بچے کو معاف کرسکتے ہیں جسے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے۔ زندگی کا حقیقی المیہ اس وقت سامنے آتا ہے جب بڑے روشنی سے ڈرنے لگتے ہیں۔ ہم غربت سے ڈرتے ہیں فاقہ ہمیں خوفزدہ کرتا ہے۔ رزق حلال میں برکت کی دعائیں مانگتے ہیںہم جب مخیر حضرات کے حوالے سے واقعات سنتے ہیں ان کی سخاوت کے قصے سنتے ہیں تو دل خوش ہوجاتا ہے اور بے اختیار پکار اٹھتے ہیں کہ دنیا ابھی اچھے لوگوں سے خالی نہیں ہوئی اور یہی وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے دنیا آباد ہے۔ آج بھی ہمیں حاتم طائی کی سخاوت کے قصے متاثر کرتے ہیںایک شخص حاتم طائی سے ملنے آیا رات کا وقت تھا حاتم طائی نے اس کی خوب آئو بھگت کی اس وقت اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا لیکن اپنے مہمان کی تواضع کسے منظور نہیں کے مصداق حاتم طائی نے اس کے لیے اپنا قیمتی گھوڑا حلال کر کے اس کا گوشت اسے کھلادیا جب صبح حاتم طائی نے مہمان سے آنے کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگا کہ میں آپ کے خوبصورت گھوڑے کو بہت پسند کرتا ہوں اور آپ سے وہی گھوڑا مانگنے آیا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ کسی کا سوال رد نہیں کرتے! حاتم طائی اپنے مہمان کی بات سن کر بہت سٹپٹایا اور افسوس کرتے ہوئے اسے کہا کہ کاش آپ رات کو مجھے اپنی طلب سے آگاہ کردیتے رات کو گھر میں کچھ بھی نہیں تھا اس لیے میں نے وہی گھوڑا پکا کر اس کا گوشت آپ کو کھلادیا !یقینا یہ سخاوت کی بہت بڑی مثال ہے !سخاوت ایک بہت بڑی خوبی ہے انسانی کردار کا ایک شاندار وصف ہے بزرگوں کا کہنا ہے کہ سخاوت کا مرتبہ بہادری سے بڑھ کر ہے۔ اس کا اندازہ آپ اس واقعے سے لگا سکتے ہیں کہ جب حاتم طائی کی بیٹی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے اس کے لیے اپنی چادر مبارک بچھاکر عزت بخشی۔ یہ مقام و مرتبہ اس کے باپ حاتم طائی کی سخاوت کی وجہ سے اسے ملا!آج وطن عزیز میں بھی اللہ پاک کے نام پر عطا کرنے والے بہت ہیں عبد الستار ایدھی مرحوم کہا کرتے تھے کہ راستہ چلتے ہوئے لوگ میرے ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھیلے میں روپے ڈال جاتے ہیں میں جب گھر جاکر دیکھتا ہوںلاکھوں روپے کی رقم ہوتی ہے۔ نواز شریف نے جب قرض اتارو ملک سنوارو کی مہم شروع کی تو لوگوں نے اپنی حیثیت کے مطابق عطیات کی انتہا کردی۔ اسی طرح عمران خان جب شوکت خانم میموریل ہسپتال کے لیے چندہ مانگنے نکلے تو پاکستان کے غیور عوام نے انہیں مایوس نہیں کیا خواتین نے ان دونوں سیاستدانوں کو اپنے زیور اتار کر بخش دئیے سکول کے بچے بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے بچوں نے گھر سے ملنے والی پاکٹ منی عطیہ کردی ! اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستانی عوام بڑے دل والے ہیںجو دولت کمانے کا ہنر جانتے ہیں انہیں بانٹنے کا فن بھی آتا ہے جو غریب ہیںوہ بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں سب اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اپنا حصہ ڈالتے رہتے ہیں۔اب آتے ہیں اپنے کالم کے عنوان کی طرف’’ ایک پائو قیمہ‘‘ چھوٹی چھوٹی چیزوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہی ہوتی ہیں جن کا انعام بہت بڑا ہواکرتا ہے۔ ہم سب تھوڑی تھوڑی روزمرہ کی اشیائے خوردنی تو اپنے ارد گرد موجود مستحق لوگوں کو مہیا کرسکتے ہیںکبھی بھی کسی بڑے کارنامے کا انتظار مت کیجیے جو چھوٹی موٹی نیکی کی استطاعت ہے اسے ہی سرانجام دے ڈالیے اللہ پاک نیتوں کا مالک ہے وہ تعداد کو نہیں دیکھتا اخلاص کو دیکھتا ہے ۔یہ واقعہ ہمیں ایک مہربان دوست نے سنایا اسی کی زبانی سن لیجیے! ٌ’’ میں بازار میں قیمے کی دکان کے قریب کھڑا ایک دوست کے ساتھ باتیں کررہا تھا کہ اچانک میری نظر ایک سفید پوش شخص پر پڑی ایک معزز شخص جس کا لباس زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ بیچارہ گردش دوراں کا مارا ہوا ہے ۔اس کے ساتھ کالے برقعے میں ملبوس ایک معزز خاتون اوردو چھوٹی چھوٹی بچیاں تھیںجو سڑک کنار ے کچھ دور خاموشی سے کھڑی تھیں۔وہ قیمہ فروش کے پاس آیا اور پوچھا ایک پائو قیمے کی کیا قیمت ہے؟ دکاندار نے80 روپے قیمت بتائی وہ قیمت سن کر واپس اپنی بیوی کے پاس گیا دونوں نے کچھ دیر مذاکرات کیے پھر اس نے واپس آکر دکاندار سے کہا پچاس روپے کا قیمہ دے دو! دکاندار نے کہا پچاس روپے کا قیمہ نہیں ہوتا وہ بے بسی سے دکاندار کی طرف دیکھ کر واپس چلا گیا ایک مرتبہ پھر مذاکرات شروع ہوگئے۔ اس دوران میں نے دکاندار سے کہا ایک کلو قیمہ تول دو! تھوڑی دیر بعد وہ واپس آکر دکاندار سے کہنے لگا ایک پائو قیمہ تول دو اس کے بعد وہ جیب سے دس دس روپے کے مڑے تڑے نوٹ نکال کر گننے لگا وہ 80روپے پورے کر رہا تھا ۔میں نے آگے بڑھ کر ایک کلو قیمے کا شاپر اس کے ہاتھ پر رکھا تو وہ حیران ہو کر کہنے لگا یہ کیا ہے جناب ؟ میں نے تو ایک پائو قیمہ خریدنا ہے میں نے نظریں جھکا کر کہا یہ آپ لے جائیں آپ کے بچے بھی ہمارے بچے ہیں۔ اس شریف آدمی کی آنکھوں میں آنسو آگئے لیکن میرے چہرے پر پھیلے ہوئے اخلاص کو دیکھ کر وہ خاموشی سے مڑا اور اپنی بیوی کو ساری بات بتا دی جب میں نے ان کی طرف اچٹتی ہوئی نگاہ ڈالی تو بچیاں ایک کلو قیمے کا شاپر دیکھ کر خوش ہورہی تھیںمیری آنکھیں بھی پر نم ہوگئیں۔

متعلقہ خبریں