Daily Mashriq

چند خبریں اور ایک وضاحت

چند خبریں اور ایک وضاحت

وزیراعظم عمران خان نے ''معیشت مستحکم بنانے پر اپنی معاشی ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور یہ بھی بتایا کہ روپیہ مضبوط ہوا ہے''۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ''اقتصادی ترقی فورسز کی کوششوں سے ممکن ہوئی ہے''۔ لگے ہاتھوں یہ بھی جان لیجئے کہ بجلی کے فی یونٹ قیمت میں 17پیسے کا اضافہ کرکے مستحکم معیشت کو14ارب 20 کروڑ روپے ماہانہ فراہم کرنے کا بندوبست کردیاگیا ہے۔ بجلی' گیس اور پیٹرولیم کی قیمتیں اس طرح بڑھتی رہیں توانشاء اللہ معیشت آسمان کو چھونے لگے گی اور غریب غربا زمین کی سطح سے تین سے پانچ فٹ نیچے اڑھائی گز کے دائمی مکانوں کے مکین بننے لگیں گے۔ اس طرح بڑھتی ہوئی آبادی کا بوجھ بھی ہلکا ہوگا۔ معیشت مزید ترقی کرکے دوسرے اور تیسرے آسمان کی سمت کا سفر کرنے لگے گی۔ فقیر راحموں جمعہ کے روز ایک دوست کی ہمشیرہ کی وفات پرتعزیت کیلئے ان کے پاس حاضر ہوئے۔ بڑی بہن ماں کی طرح رحمت الٰہی کاعملی نمونہ ہوتی ہے۔ دوست غم میں نڈھال تھے' فاتحہ خوانی کے بعد رسمی گفتگو میں دوست نے بتایا ''چند دن کی بیماری' تدفین و سوئم وغیرہ نے صرف ڈیڑھ لاکھ روپے کا مقروض بنا دیا ہے۔ دوست کہنے لگے' فقیر جی! مرنا وی اوکھا ہوگیا وے (مرنا بھی اب مشکل ہوگیا ہے) مہنگائی سے عوام الناس بلک رہے ہیں۔ ہمارے محبوب وزیراعظم نے جمعہ کے روز فرمایا ہے! مہنگائی ایک سازش ہے، ان کے دیوانے کہتے ہیں منڈیوں پر نون لیگ کا قبضہ ہے اسلئے مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہوسکتا ہے یہ بات درست ہو لیکن انسداد مہنگائی والی کمیٹیاں کدھر گئیں اوریہ پیٹرولیم' گیس اور بجلی کی قیمتیں بھی کیا نون لیگ کی مرکزی مجلس عاملہ بڑھاتی ہے؟۔ معیشت کو مزید چار چاند لگانے کیلئے پی آئی اے کے اثاثوں کی فوری نجکاری کی خاطر خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دیدی گئی۔ ایس ایم ای بنک سمیت متعدد اداروں کی نجکاری ہوگی۔ پچھلے دور میں نجکاری کو حرام کہتی تحریک انصاف اب خلوص نیت سے یہ سمجھتی ہے کہ لگ بھگ 37 ادارے معیشت پر بوجھ ہیں، پی آئی اے اور ریلوے بھی ان میں شامل ہیں۔ معاف کیجئے گا تمہیدی سطور کچھ زیادہ ہوگئیں لیکن کیا کریں پیاز 120 روپے اور ٹماٹر 240 روپے مل رہے ہوں تو تھوڑا بہت صدمہ ہوتا ہے۔ ہم آگے بڑھتے ہیں اور بھی غم ہیں زمانے میں معیشت ونجکاری اور مہنگائی کے سوا۔

قومی اسمبلی کے سپیکر کی کوششوں اور وزیردفاع پرویزخٹک کی عملیت پسندی سے ڈپٹی سپیکر کیخلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کا معاملہ بند گلی سے نکال کر بہتر انداز میں حل کرلیاگیا ہے۔ حکومت نے 7نومبر کو 60منٹ میں منظور ہونے والے بلکہ کروائے جانے والے 9عدد آرڈیننس واپس لے لئے جبکہ اپوزیشن نے قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کیخلاف تحریک عدم اعتماد واپس لے لی ہے۔ 7نومبر کی پھرتیلی قانون سازی پارلیمانی روایات کے منہ پر کالک تھی اچھا کیا حکومت نے اس کالک کو دھو لیا؟۔ سوا چھ منٹ میں ایک آرڈیننس کی منظوری سے ہم جیسے طالب علموں کو یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی کہ 2018ء کا الیکشن کیسے ہوا تھا۔

آزادی مارچ کے حوالے سے پچھلے کالم میں جن امور پر گزارشات کی تھیں ان کی بنیاد پر چند دوستوں نے کچھ سوالات کئے ہیں ان کا جواب قرض رہا البتہ بعض دوستوں کی طرف سے دریافت کیاگیا کہ میں نے یہ کیوں لکھا ہے کہ مولانا فضل الرحمن اپنے مسلک کے دستیاب علماء میں سب سے زیادہ صاحب مطالعہ ہیں؟۔ ان مہربان دوستوں کی خدمت میں عرض ہے طالب علم جو محسوس کرتا ہے وہی ان سطور اور عام زندگی میں عرض کرتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن سے پچھلے چالیس برسوں کے دوران انگنت ملاقاتیں ہوئیں۔ رسمی' غیررسمی کبھی انٹرویو کیلئے اور کبھی ان کی طرف سے یاد کئے جانے پر' ہر ملاقات میں عصری سیاست' تاریخ' تقابل ادیان سمیت دیگر موضوعات پر سیرحاصل گفتگو رہی۔ تحمل اور دلیل کیساتھ کڑوے کسیلے سوالات کا جس طرح انہوں نے ہمیشہ جواب دیا وہ مطالعہ کاحسن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی حالیہ تقاریر کے چند نکات باعث حیرانی ہوئے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قطعاً ایسا نہیں ہے کہ ان کے خاندان سے تین نسلوں کے احترام بھرے تعلق پر رعایتی نمبر دئیے، جو درست ہے وہی عرض کیا۔

حرف آخر یہ ہے کہ جمعہ کو لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ چونکہ میاں نواز شریف اور شہباز شریف لاہور کے شہری ہیں اسلئے حکومتی اعتراضات مسترد کرکے نواز شریف کے حوالے سے دائر درخواست کی عدالت سماعت کرنے کی مجاز ہے۔ اس فیصلے کے آتے ہی فقیر راحموں نے یاد کروایا کہ اپنے ڈیموں والے بابا جی ان لندن قبلہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے اپنی عدالت میں ارشاد فرمایا تھا' آصف زرداری سندھ کے باشندے ہیں سندھ میں ان کی پارٹی کی حکومت ہے، وہ نیب کی تفتیش اور مقدمے پر اثرانداز ہوسکتے ہیں اسلئے جعلی اکائونٹس کی تحقیقات بھی اسلام آباد میں ہوگی اور ریفرنس کی سماعت بھی۔ اس معاملے کے حوالے سے ایک گزشتہ کالم میں تفصیل کیساتھ عرض کرچکا فی الوقت یہی عرض کرنا ہے کہ اس ملک کے دستیاب ''بڑوں'' کو کسی دن مینال ریسٹورنٹ کے پُرفضا مقام پر بیٹھ کر یہ ضرورسوچنا چاہئے کہ غیر پنجابی اقدام کی پنجاب کی بالادستی والے اداروں سے شکایات میں مسلسل اضافہ کیوں ہورہا ہے۔

متعلقہ خبریں