Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

نخلہ کے مقام پر پہنچ کر صحابہ کرام قریش کے حالات معلوم کرنے کے لئے مختلف راستوں پر چکر لگانے لگے۔ اس تلاش و جستجو کے دوران ان کی نظر دور سے آتے ہوئے قریش کے ایک تجارتی قافلے پر پڑی جو چار آدمیوں( عمرو بن حضرمی' عمرو بن کیسان' عثمان بن عبداللہ اور اس کے بھائی مغیرہ بن عبداللہ) پر مشتمل تھا۔ ان لوگوں کے پاس قریش کا سامان تجارت تھا جس میں کھال' کشمش اور کھانے پینے کی دوسری چیزیں تھیں جن کی وہ تجارت کرتے تھے۔

وہ تاریخ ماہ حرام( رجب) کی آخری تاریخ تھی لیکن صحابہ کرام نے یہ خیال کیا کہ یہ ماہ شعبان کی کم تاریخ ہے اور ماہ رجب جوکہ حرمت کا مہینہ ہے وہ ختم ہوگیا ہے' لہٰذا وہ اس غلط فہمی کی بناء پر ان کے اوپر حملہ کرنے' انہیں قتل کرنے اور ان کے مال و اسباب کو بطور غنیمت لے جانے پر سب متفق ہوگئے اور پھر تھوڑی دیر میں وہ ان میں سے ایک کو قتل اور دو کو گرفتار کرچکے تھے البتہ چوتھا شخص بھاگ کر اپنی جان بچا لینے میں کامیاب ہوگیا۔

حضرت عبداللہ بن جحش اور ان کے ساتھی دونوں قیدیوں اور سامان تجارت سے لدے ہوئے اونٹوں کو لئے ہوئے مدینے روانہ ہوئے۔ جب یہ لوگ رسول اقدسۖ کی خدمت میں پہنچے اور آپۖ کو اس واقعے کے بارے میں عرض کیا تو آپۖ نے ان کے اس فعل پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:

ترجمہ: '' خدا کی قسم! میں نے تمہیں جنگ کی اجازت نہیں دی تھی۔ میں نے تو تم کو صرف قریش کے حالات معلوم کرنے کا حکم دیا تھا اور یہ ہدایت کی تھی کہ ان کی نقل و حرکت پر چھپ کر نظر رکھو۔''

آپۖ نے نہ مال غنیمت کی طرف توجہ فرمائی اور نہ اس میں کچھ کیا۔ رسول اقدسۖ کے اس طرز عمل سے حضرت عبداللہ بن جحش اور ان کے ساتھیوں کو سخت صدمہ پہنچا اور انہیں اس بات کا یقین ہوگیا کہ وہ رسول اقدسۖ کے حکم کی خلاف ورزی کی وجہ سے مکمل طور پر تباہی و بربادی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کو یہ بات بھی بری لگی کہ ان کے مسلمان بھائی انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگے۔ جب بھی ان کا گزر مسلمانوں کی کسی جماعت پر ہوتا تو وہ یہ کہتے ہوئے ان کی طرف سے منہ پھیر لیتے۔ '' یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے رسول اقدسۖ کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔'' اور انہیں اس وقت اور زیادہ صدمہ پہنچا جب ان کو یہ بات معلوم ہوئی کہ قریش نے ان کی اس حرکت کو رسول اقدسۖ پر اعتراض کرنے' ان سے بدلہ لینے اور ان کو قبائل میں بدنام کرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ مشرکین مکہ یہ کہہ کر رسول اقدسۖ کو بدنام کرتے پھرتے رہے تھے۔

''محمدۖ نے حرام مہینے کو حلال کیا' اس میں خونریزی کی' مال لوٹا اور آدمیوں کو گرفتار کرلیا۔''

پھر نہ پوچھئے کہ حضرت عبداللہ بن جحش اور ان کے ساتھیوں کو اپنی اس غلطی پر کتنا گہرا رنج اور صدمہ ہوا اور ان کو رسول اقدسۖ سے کتنی ندامت ہوئی کیونکہ ان کی اس کارروائی کی وجہ سے آپۖ سخت ذہنی تکلیف واذیت میں مبتلا ہوگئے تھے۔

متعلقہ خبریں