Daily Mashriq


ایک اہم منصوبے کاآغاز

ایک اہم منصوبے کاآغاز

اہالیان پشاور کے لئے اس سے اطمینان بخش لمحہ شاید ہی کوئی ہو جب صوبائی دارالحکومت میں ریپڈ ٹرانزٹ بس منصوبے کے لئے سڑک اور فلائی اوورز کی تعمیر کے کام کا افتتاح ہوگا جس کا وزیر اعلیٰ پرویز خٹک انیس تاریخ ماہ حال کو افتتاح کرنے جا رہے ہیں۔ اہالیان پشاور کے لئے یقینا اس مقصد کے لئے پشاور پہنچائی گئی مشینری کو دیکھنا ایک خوشگوار لمحہ اس لئے ہونا فطری امر ہے کہ وہ اس کے بعد دن گن گن کر ٹرانسپورٹ کے اس اذیت ناک اور اہانت آمیز بندوبست سے چھٹکارا پائیں گے۔ اس منصوبے پر بھاری لاگت پر شاید کچھ معترضین سامنے آئیں لیکن ہمارے تئیں یہ اعتراض اس لئے بلا وجہ ہوگا کہ مہنگی سہی مگر عوام کو نہ صرف ایک تکلیف دہ صورتحال سے نجات ملے گی بلکہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں ٹریفک جام کی صورتحال سے بھی عوام کو نجات ملے گی۔ با سہولت اور با عزت اور سبک رفتار ٹرانسپورٹ ملنے پر شہریوں کا اس کو اپنے ذاتی ٹرانسپورٹ پر ترجیح نہ دینے کی کوئی وجہ نہیں۔ سستے ٹرانسپورٹ کی سہولت میسر آنے کے بعد شہریوں کی ایک بڑی تعداد ذاتی سواری سے چھٹکارا کی بھی سعی کرسکتی ہے کیونکہ گاڑی خریدنا' اس کا فیول اس کی مرمت' پارکنگ کے مسائل غرض بیسوں قسم کی قباحتوں کو شہری اس لئے پا لنے پر مجبور تھے کہ ان کے پاس کوئی متبادل نہ تھا۔ ممکن ہے پشاور ریپڈ بس منصوبے میں اگر کچھ خامیاں اور خرابیاں بھی سامنے آئیں جو منصوبے کی تیاری کے وقت توجہ دینے سے رہ گئی ہوں اس کا امکان رکھنا اور منصوبے کو مزید بہتر اور با سہولت بنانے پر توجہ حکومت کا مطمح نظر ہونا چاہئے۔ بہرحال اس منصوبے کی تحسین کی تو بڑی گنجائش ہے لیکن تنقید کی گنجائش کم ہے سوائے اس کے کہ صوبائی حکومت نے اس منصوبے کو روبہ عمل لانے میں بہت تاخیر کی اور بہت وقت صرف کیا۔ اگر جنگلہ بس گردان کراس پر تنقید اور بیزاری کا اظہار کرنے کی بجائے حکومت اس نتیجے پر اس وقت پہنچتی جس نتیجے پر تاخیر سے پہنچی تو اب تک لوگ میٹرو بس میں سفر کر رہے ہوتے اور اسے موجودہ حکومت اور حکمران جماعتوں کا کارنامہ گردانتے۔ بہر حال دیر آید درست آید کے مصداق اس منصوبے پرکام کا آغاز عوام کے لئے سہولت کا باعث ہوگا تو یہ موجودہ حکومت اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کا مدتوں یاد رکھا جانے والا کارنامہ جانا جائے گا۔ موٹر وے پر تنقیدبہت ہوتی رہی لیکن حقیقت یہ ہے کہ موٹر وے پر سفر کرنے والے ہر مسافر خواہ وہ بدترین سیاسی مخالف ہی کیوں نہ ہو ایک لمحے کو تو سابق وزیر اعظم نواز شریف اور مسلم لیگ ن کی خدمت کا قا ئل ہونا پڑتا ہے۔ باوجود اس کے کہ اس منصوبے میں بد عنوانی کی بھی شنید ہے اور اس منصوبے کے ذریعے زمین کے حصول سے لے کر ٹھیکوں کے تفویض کرنے اور اس منصوبے کے لئے خام مال اور ضروری ساز و سامان کی سپلائی تک غرض ہر مرحلے میں کم یا زیادہ حصول منفعت ہوئی ہوگی لیکن جب یہ منصوبہ مکمل ہوچکا اور اس سے لوگ استفادہ کرنے لگے ہیں تو یہ سب اعتراضات و الزامات ثانوی لگتے ہیں لیکن بہر حال اس امر کی پوری توقع کی جانی چاہئے کہ صوبائی حکومت حتی المقدور اس امر کی سعی کرے گی کہ منصوبے کو شفاف طریقے سے اور عالمی معیار کے مطابق مکمل کرکے عوام کے سامنے سر خرو ہوا جائے۔ ہمارے تئیں یہ صرف سرکاری خزانے سے یا عوام کے پیسوں سے عوام کے لئے وضع ایک منصوبہ تک ہی نہ رہے گا بلکہ اس کی تکمیل سے خیبر پختونخوا میں عوام کی پاکستان تحریک انصاف سے ہمدردی میں اضافہ فطری امر ہوگا۔ اس منصوبے سے استفادہ کرنے والے سیاسی مخالفین کا بھی اس کی افادیت اور حکمران جماعت کی ترجیح کا قائل ہونا عجب نہ ہوگا۔ سہولت اور تکلیف دونوں ہی تادیر رہنے والی چیزیں ہیں۔ یہ منصوبہ روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کے لئے باسہولت اور نافع ہوگا ا س لئے عوام میں تشکر کے جذبات فطری ہوں گے۔ کم از کم وہ نسل جس کو موجودہ بسوں میں دھکے کھانے اور کنڈیکٹروں و ڈرائیوروں کے مہیب رویے کا سامنا رہا ہے وہ خصوصی طور پر اس سہولت کے قائل ہوں گے۔ منصوبے کے افتتاح کے ساتھ ہی صوبائی دارالحکومت میں ٹرانسپورٹ اور ٹریفک کے نظام میں اچانک تکلیف دہ منصوبہ بندی اور روزانہ بلکہ گھنٹہ وار بنیادوں پر ہنگامی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے ٹریفک پولیس اور متعلقہ عملہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ وہاں عوام کو بھی ایک مرتبہ پھر ایک سخت صورتحال کے لئے خود کو تیار کرنا ہوگا جو شہری اپنے سفری معمولات میں تبدیلی کرسکتے ہوں ان کو ایسا ضرور کرنا چاہئے تاکہ رش میں کمی لانے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ چونکہ لوکل ٹرانسپورٹ متاثر ہونے جا رہی ہے وہ پشاور میں اپنی سروس کااختتام دیکھ کر اور کچھ رد عمل اور کچھ رش سے بچنے کے لئے ٹرانسپورٹ گاڑیوں میں کمی لاسکتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے صوبائی حکومت کو چاہئے کہ سوزوکیوں اور ٹیکسیوں کو متبادل روٹ پر عارضی طور پر چلنے کی اجازت دے تاکہ شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

متعلقہ خبریں