Daily Mashriq

خواہ مخواہ کی بحث کا خاتمہ ، احسن اقدام

خواہ مخواہ کی بحث کا خاتمہ ، احسن اقدام

عسکری ترجمان اور وزیر داخلہ کے درمیان بیان بازی اور نوک جھونک جیسے لاحاصل بحث کا خاتمہ ہونا نیک شگون ہے ۔اس بحث میں پڑنے کی ضرورت ہی نہ تھی اور نہ ہی اس طرح کے جواب الجواب قسم کے معاملات سے کچھ حاصل ہو سکتا ہے ۔ ہمارے تئیں معیشت امن ، دفاع ،ملکی استحکام وغیرہ وغیرہ ایک دوسرے سے جڑے معاملات ہیں جبکہ پاکستان ایک اکائی ہے ایک مٹھی کی مانند مضبوط و متحد نگرانان مملکت کی متقاضی ہے ۔اگر یہی لوگ باہم عوامی سطح پر اختلاف رائے کا شکار رہیں گے اور بیان بازی پر اتر آئیں گے تو عوام معاملات سنبھالنے کیلئے کس طرف دیکھیں گے ۔ اس بارے دورائے نہیں کہ معیشت ہر ملک کی سب سے بڑی بنیادی ضرورت ہے جس کی مضبوطی سے باقی تمام امور اور معاملات وابستہ ہیں معیشت و تجارت واقتصا دیات کے فروغ کیلئے مناسب ماحول اور امن و امان درکا ر ہوتا ہے ۔ دہشت گردی کے ایام میں کتنے لوگ کتنی صنعتیں اور کتنا کاروبارمنتقل ہوا یہ کوئی راز کی بات نہیں۔ وطن عزیز میں ان ایام میں روز گار اور کاروبار جس بری طرح متاثر ہوا وہ ایک مجبوری اور لا ینحل معاملہ تھا مگر اب جبکہ وہ دن نہیں رہے تو کیا نئے تنازعات کھڑے کئے جائیں ہر گز نہیں ،تمام اداروں اور اراکین کو اپنے ا پنے دائرہ کار اور دائر ہ اختیار میں محتاط ہوتے ہوئے اپنے فرائض کی ادائیگی کیلئے سنجیدگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تضادات پر مبنی صورتحال سامنے نہ آئے کسی حکومت سے اس وقت ہی عوامی مسائل کے حل کی توقع وابستہ کی جا سکتی ہے جب اسے کام کرنے کا مناسب موقع ملے ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ نہ صرف یہ معاملہ مستقل طور پر حل ہوگا بلکہ ایسا طرز عمل اپنایا جائے گا کہ کسی جانب سے بھی اختلاف کی کوئی آواز یا تاثر باقی نہیں رہے گا ۔
جامعہ پشاور ،کانووکیشن کا نہ ہونا اور سیلف فنانس سکیم کا معاملہ
پشاور یونیورسٹی کی جانب سے خسارہ پورا کرنے کے لئے یونیورسٹی میں بی ایس سیلف فنانس میں پانچ سو طلبہ سے بھاری فیسوں کی وصولی کرکے داخلہ دیاجائے گا جبکہ 2015ء میں بی ایس کے طلبہ سے کانووکیشن کی مد میں رقم کی وصولی کے باوجود کانووکیشن کاانعقاد نہیں کر رہی ہے جس کی وجہ سے گزشتہ تین سالوں کے دوران کسی بھی طالب علم کو بی ایس کی ڈگری جاری نہیں ہوسکی ہے۔ ہر سال طالب علموں کو یقین دہانی کروائی جاتی ہے کہ امسال کانووکیشن کا انعقاد ہوگا مگر اے بسا آرزو کہ خاک شد۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں بی ایس سیلف فنانس متعارف کرانے کا مقصد نادار طالب علموں کو تعلیم سے یکسر محروم رکھنے کی دانستہ و نا دانستہ کوشش ہے جس کا کوئی جواز نہیں دوم یہ کہ اگر سرکاری تعلیمی اداروں میں بھی طالب علموں کو اپنے اخراجات خود برداشت کرکے پڑھنا ہے تو ان جامعات کو سرکاری جامعات قرار دینے کاکیا جواز ہے جس پر حکومت کا بھی کروڑوں روپے ماہوار خرچ ہوتا ہے اور طالب علموں سے رقم الگ بٹوری جاتی ہے۔ سرکاری جامعات میں اکثر پروگراموں اور مضامین کی داخلہ فیسوں اور نجی یونیورسٹیوں کی فیسوں میں زیادہ فرق نہیں بلکہ بعض اداروں کی یونیورسٹیوں کی فیس سرکاری جامعات سے کم کی بھی مثال موجود ہے۔ اس پر اکتفا کی بجائے اب سیلف فنانس سکیم متعارف کراکے تو رہی سہی کسر بھی پوری کردی گئی ہے۔ طالب علم اس امر کے منتظر ہوتے ہیں کہ کب امتحان میں کامیابی کے بعد ان کو سند مل جائے کہ وہ آگے کچھ کرسکیں۔ مگر یہاں عالم یہ ہے کہ پشاور یونیورسٹی جیسے معروف سرکاری تعلیمی ادارے میں کانووکیشن فیس بھی طالب علموں سے وصول کی گئی جو یقینا دو تین کروڑ روپے کے لگ بھگ ہوگی مگر طالب علم منتظر ہیں کہ کب کانووکیشن کا انعقادہوگا اور ان کو سند ملے گی۔ پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی اس دور میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ موجودہ وائس چانسلر کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے پر فوری توجہ دیں اور کانووکیشن کا فوری انعقاد کرائیں۔ اس امر کی بھی تحقیقات ہونی چاہئے کہ اتنے عرصے تک وہ رقم کہاں اور کس کے پاس پڑی رہی اور اس بد انتظامی کی وجوہات کیا تھیں۔ بہتر ہوگا کہ سیلف فنانس سکیم شروع کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے تاکہ سرکاری تعلیمی اداروں اور نجی یونیورسٹیوں میں فیسوں کا تھوڑا بہت تو فرق باقی رہ جائے۔ اگر ایسا ممکن نہیں تو حکومت سرکاری جامعات کی نجکاری پر سنجیدگی سے توجہ دے تاکہ اگر طالب علموں کو سہولت میسر نہیں تو کم از کم ملکی خزانے پر خواہ مخواہ کا بوجھ بھی نہ پڑے۔ گورنر خیبر پختونخوا انجینئر اقبال ظفر جھگڑا کو ان دونوں معاملات کا نوٹس لینا چاہئے تاکہ کانووکیشن کا فوری انعقاد کیا جاسکے جبکہ سیلف فنانس کے معاملے پر بھی ایچ ای سی حکام اور جامعہ پشاور کی اعلیٰ انتظامیہ سے بات چیت کرکے طالب علموں پر تعلیم کو مہنگی تر کرنے کے اقدام کو روکا جاسکے۔

اداریہ