کتنی حقیقت ہے؟

کتنی حقیقت ہے؟

2001ء میں ایک انگریزی فلم 4 Beautiful mindریلیز ہوئی۔ یہ فلم نوبل انعام یافتہ ریاضی دان جانیش (John Nash) کی زندگی کے بارے میں ہے۔ جانیش اپنی زندگی کے ابتدائی ایام میں ہی ایک نفسیاتی بیماری Multiple personality disorder کا شکار ہوگیا تھا۔ یہ فلم اگرچہ اس کی حقیقی زندگی کے مسائل اور اس کی بیماری کے اثرات کے گرد گھومتی ہے لیکن اس بیماری کے باعث جانیش اس وقت کے اخباروں کی سرخیوں میں خفیہ پیغامات دیکھتا ہے۔ سرخیوں' شہ سرخیوں حتیٰ کہ اخبار کی لکھائی میں اسے خفیہ پیغامات پوشیدہ دکھائی دیتے ہیں اور وہ اپنی اس کیفیت سے ساری زندگی آزاد نہیں ہو پاتا۔

آج کل اخبار کی سرخیوں شہ سرخیوں کو دیکھ کر جانے کیوں بار بار اس فلم کاخیال ذہن میں آتا ہے۔ اس فلم میں آخر تک یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ جو پیغامات جانیش کو ان اخباروں میں دکھائی دیتے ہیں وہ حقیقت میں دشمنوں کے پیغامات تھے جنہیں وہ دیکھ سکتا تھا یا پھر اس کے اپنے ذہن کے اختراع تھے۔ اس وقت پاکستان میں کچھ ایسی ہی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔ ہم ایک ایسے حیران کن دور سے گزر رہے ہیں جس میں ہر جملے کی باز گشت میں بھی کوئی ڈھکا چھپا پیغام سنائی دیتا ہے اور یہ پیغام دراصل ان جملوں میں موجود ہے بھی یا نہیں یہ جان نہیں پڑتا۔ عمران خان جب کہا کرتے تھے کہ ''تبدیلی آنہیں رہی' تبدیلی آچکی ہے'' تو ہم میں سے اکثر لوگ ہنس دیتے تھے۔ یہ جملہ ایک مذاق بن چکا تھا۔ لیکن اب حالات جس میں نہج پر چل نکلے ہیں۔ اس جملے کو کئی معنی پہنائے جاسکتے ہیں۔ تبدیلی تو واقعی آچکی تھی صرف ہمیں معلوم نہیں تھا۔ ورنہ یہ کب پہلے پاکستان میں ہوا تھا جو ہم آج کل ہوتا دیکھ رہے ہیں ۔ سوچتی ہوں تو ایک ایک جملے کے کئی کئی مطلب نگاہوں کے سامنے ناچنے لگتے ہیں۔
اس سے پہلے پاکستان میں صرف احتساب کی باتیں ہواکرتی تھیں۔ احتساب تو پہلی بار شروع ہوا ہے اور ایسا حیران کن ہے کہ اس کا شکار بڑے سیاستدان ہو رہے ہیں۔ یہ وہ کمال ہے جس کا ایک زمانے سے کسی کو خیال تک نہ آیا تھا کہ کبھی ایسا بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن ایسا ہو رہا ہے اور ہمیں لگتا ہے کہ شاید کوئی خواب ہے' کوئی جھوٹ ہے' شاید ابھی کوئی آواز سنائی دے گی اور سب اس نیند سے اٹھ بیٹھیں گے۔ پھر خیال آتا ہے کہ شاید یہ سب سچ ہے' کچھ جھوٹ نہیں اس میں ہم وہ ہوتا دیکھیں گے جس کی خواہش کرتے کرتے ہماری ایک نسل کے سر کے بال سفید ہوگئے۔ ان کے عماموں اور ان کی گردنوں کے درمیان جس خون کے دیکھنے کی آس لئے ہم ایک عرصے سے بیٹھے تھے اس کے سچ ہونے کا وقت اب آیا ہے۔ پھر اخباروں میں سرخیاں اور شہ سرخیاں دکھائی دیتی ہیں جن سے اور بھی یہ یقین ہونے لگتا ہے کہ عماموں اور گردنوں کے بیچ جو خون ہی خون دکھائی دیتا ہے وہ سچ ہے۔ وہ انہیں بھی دکھائی دیتا ہے جو اس سب میں ہمیشہ سب سے زیادہ محفوظ ہوا کرتے تھے۔ جب آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل )آصف غفور کہتے ہیں کہ جمہوریت کو پاک فوج سے کوئی خطرہ نہیں۔ جمہوریت کو خطرہ عوام کی امنگیں اور جمہوری تقاضوں کو پورا نہ کرنے سے ہوسکتا ہے۔ جب وہ یہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ آئین سے بالا کچھ نہ ہوگا اور کوئی ٹیکنو کریٹ حکومت نہیں آرہی۔ جب وہ کہتے ہیں کہ انہیں وزیر داخلہ کے بیان سے بطور شہری اور سپاہی مایوسی ہوئی۔ جب وہ ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ سیکورٹی اور معیشت کا براہ راست تعلق ہے اور انہوں نے کبھی نہیں کہا کہ معیشت غیر مستحکم ہے تو جانے کیوں یہ سنائی دیتا ہے کہ وہ کہنا چاہتے ہونگے کہ ملک کی سیکورٹی بھی غیر مستحکم نہیں کیونکہ پاک فوج مضبوط ہے ۔ جب وہ کہتے ہیں کہ ڈومور کی گنجائش باقی نہیں ۔ تو وہ ملک کی خارجہ پالیسی کی بات کر رہے ہیں اور جب وہ کہتے ہیں کہ بہت کر لیا ہے اور آگے جو بھی کرنا ہے اس ملک کے لیے کرنا ہے تو بھی کئی باتیں ذہن میں آتی ہیں ۔اس سب کے بعد موجودہ وزیر اعظم کا بیان اپنی صفائی میں بیان لگتا ہے جب وہ کہتے ہیں کہ جس حکومت نے کام نہیں کیا ، عوام نے اسے گھر بھیج دیا ۔ گویا نواز شریف کا جانا تو خود انکے اپنے اعمال کے باعث ٹھہرچکا تھا ۔ لیکن اس منظر نامے میں سب سے اہم اور دلچسپ بیان میاں نواز شریف کا محسوس ہوتا ہے ۔ وہ گفت و شنید جوان بیانات کے ذریعے کھلم کھلا اخبارات میں ہورہی ہے اس حوالے سے یہ بیان اہم ترین ہے شاید آنے والے وقتوں کی پیش گوئی بھی۔ بات صرف سمجھنے کی ہے کہ کون کیا کہہ رہا ہے ۔ کہنا چاہ رہا ہے یا کسی کو کیا سنا یا جارہا ہے ۔
میاں شہباز شریف کہتے ہیں کہ فوج اور عدلیہ کو نیب کے دائرے میں لانے کی ضرورت نہیں دونوں کا اپنا احتسابی نظام ہے ۔ اس بات میں وہ یقینا نہیں اور عدلیہ دونوں کو ہی پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں یا کم از کم محسوس یہ ہوتا ہے کہ فوج یا عدلیہ کو شہباز شریف کے عزائم سے محتاط ہونے کی ضرورت نہیں ،شہباز شریف اپنے کام کے باعث بھی لوگوں میں مقبولیت رکھتے ہیں ۔ اور وہ چیلنجز سے مثبت طور سے عہد ہ برآء ہونے کے عزم کا بھی اظہار کر رہے ہیں ۔ چوہدری نثار سے بھی ان کی ملاقاتیں جاری ہیں اور یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ فوج میں چوہدری نثار اپنا اثر و رسوخ رکھتے ہیں ۔ ان کے بارے میں عمومی رائے بھی مثبت ہے ۔ انہیں ایک ایمان دار لیکن سر پھرا سیاست دان سمجھا جاتا ہے ۔ اگر قارئین کو یاد ہو تو اس تبدیلی کے آغاز میں ہی میں نے ذکر کیا تھا کہ شاید میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار کی راہ ہموار ہو سکتی ہے ۔ان بیانات کی روشنی میں بھی کچھ ایسا ہی منظر تشکیل پانا دکھائی دیتا ہے ۔ اگر یہ سب وہم بھی ہے تو اس میں حقیقت کے رنگوں کی ایسی آمیزش ہے کہ یہ سب حقیقت ہی معلوم ہو رہا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ کب کونسی بات اسے اصل کی جانب لے کر اپنے سفر کا آغاز کرے گی ۔ اور سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ واقعی حقیقت ہو بھی سکتی ہے یا سب خواہش کارستانی ہے ۔ یہ ڈھکے چھپے پیغام ہیں یا پھر امید کے خواب کون جانے ؟ ۔

اداریہ