فکر کی روشنی اور روحانی علاج

فکر کی روشنی اور روحانی علاج

بات عطائیوں تک محدود ہو تو پھر بھی بندہ برداشت کرلے کہ بعض عطائی بھی کبھی نہ کبھی درست تشخیص کرکے آپ کا مسئلہ حل کردیتے ہیں مگر اسے کیاکہئے کہ ہمارے ارد گرد لاکھوں بلکہ کروڑوں کی تعداد میں ایسے لوگ بستے ہیں جو آپ کی بیماری کا سن کر فوراً کسی نہ کسی آزمودہ نسخے کے استعمال کا مفت مشورہ آپ کو دے دیں گے۔ خصوصاً ہماری خواتین تو اس قسم کے مفت مشوروں کی پٹاری لئے ہر جگہ نظر آجاتی ہیں اور جب وہ کسی بیمار کی تیمار داری کے لئے تشریف لے جائیں تو انواع و اقسا م کے نسخے بھی زنبیل میں ساتھ لئے مفت بانٹنے کے لئے بے چین رہتی ہیں۔ آپ لاکھ کہیں کہ ابھی تو ڈاکٹر سے مشورے کے بعد اس کی تجویز کردہ دوائیں آپ لے رہے ہیں مگر ان کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ آپ کو نسی دوا استعمال کر رہے ہیں وہ ساتھ میں اپنے آزمودہ نسخوں کو بھی آزمانے پر زور دیں گی اور جب سے یہ سوشل میڈیا فعال ہواہے اس قسم کے ہزاروں نسخے آپ کی ایک کلک پر ان اشتہارات کی مانند جو محبوب آپ کے قدموں میں جیسی خوشخبریاں لئے ہوتے ہیں۔ ایک ہی لمحے میں آپ کے سکرین پر جگمگا رہے ہوتے ہیں۔ جب تک فیس بک' وٹس ایپ نہیںتھے تو یار لوگ ایس ایم ایس سے کام چلاتے ہوئے زبیدہ آپا کے ٹوٹکے بھیج دیاکرتے تھے جن میں سر سے لے کر پائوں تک جسم کے مختلف اعضاء کے بارے میں بشمول فطری تقاضوں کے بیش بہا نسخے موجود ہوتے حالانکہ ان میں سے ایسے نسخے بھی ہوتے جنہیں پڑھ کر خود زبیدہ آپا بے چاری اس ادھیڑپنے میں بھی شرم سے دوہری ہو کر رہ جاتی ہوں گی اور مجبوراً ان کے برخوردار نے پوری پاکستانی قوم سے دست بستہ گزارش کی کہ اس قسم کے ''تیر بہدف'' نسخے آپا کے نام سے وائرل کرنے والوں کو اگر زبیدہ آپا کا کوئی لحاظ پاس نہیں تو کم از کم وہ اپنے گھروں میں بیٹھی ہوئی خواتین کا ہی احترام ملحوظ رکھتے ہوئے اپنی حرکتوں سے باز آجائیں مگر کہاں صاحب۔ ایس ایم ایس کے بعد تو یہ سلسلہ وٹس ایپ' انسٹا گرام' فیس بک اور نہ جانے اور کتنے نامی اور بے نامی ایپس پر لمحوں میں وائرل ہو جاتا ہے اور بھیجنے والے آپ کو لاحق ہونے والے امراض کے بارے میں آ پ کے سراپا کایوں احاطہ کرنے کا دعویٰ کردیتے ہیں کہ

ز فرق تابہ قدم ہر کجا کہ می نگرم
کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا ایں جاست
بات کچھ ضرورت سے زیادہ ''مگر تمہید طولانی'' کی سرحدوں کو چھونے لگی ہے مگر کیاکیا جائے کہ بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر' غالباً ستر کی دہائی کے نصف اواخر کی بات ہے جب آتش جوان بھی تھا اور ریڈیو پاکستان سے وابستہ بھی تھا۔ یہ دور تھا ذوالفقار علی بھٹو کا' خدا جانے انہیں کس نے یہ پٹی پڑھائی کہ ملک میں عوام کے لئے دوائیں سستی ہونی چاہئیں کیونکہ دوا ساز کمپنیاں برانڈ ناموں کے ذریعے عوام کا استحصال کر رہی ہیں۔ اس کے لئے نسخہ یہ تجویز کیا گیا کہ برانڈ ناموں کو ختم کرکے جنرک ناموں سے تمام دوائیں مارکیٹ کی جائیں۔ قانون سازی کے بعد اس پر عملدرآمد کے لئے ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی پر ایک Campaign لانچ کردی گئی اور جنرک ناموں کے ذریعے سستی ادویات کے فوائد سے عوام کی آگہی کی مہم شروع کی گئی۔ خود ہم ریڈیو اور ٹی وی والوں کو اس حوالے سے ککھ پتہ نہیں تھا۔ سو ماہر ڈاکٹروں سے رجوع کرکے ان کے خیالات عوام تک پہنچانے کی کوششیں شروع کردی گئیں مگر بڑی دوا ساز کمپنیوں نے اس کے خلاف کمر کس لی۔ بعض بہت اہم کمپنیاں تو اپنا بوریا بستر گول کرکے چلی گئیں جو رہ گئیں انہوں نے دوائوں کی کوالٹی پر سمجھوتہ کرکے گزارہ کیا جبکہ جنرک کے نام پر ناقص دوائیں بنانے والے بہت سے لوگ لائسنس حاصل کرکے میدان میں آگئے۔ ان میں سرکاری جماعت کے بہت سے اکابرین کے ساتھ عام ممبران بھی تھے جنہوں نے گھروں ہی میں کارخانے قائم کرکے دھڑا دھڑدوائیں بنانا شروع کردیں۔ اس کے نتیجے میں عوام کی صحت کاکیا حال ہوا یہ ایک الگ داستان ہے جبکہ ڈاکٹر حضرات تو دوائیں تجویز کرتے ہوئے بہ امر مجبوری جنرک نام ہی استعمال کرتے تھے جس کا زیادہ فائدہ کیمسٹوں کو یوں ہوا کہ راتوں رات کھمبیوں کی طرح اگنے والی گھریلو فیکٹریوں سے خام مال نہایت سستے داموں دکانداروں کو مختلف سکیموں کے ذریعے، مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے کے مصداق مل جاتا اور اس کے نتیجے میں ماہر سے ماہر ڈاکٹر سر پکڑ کر بیٹھ جاتا کیونکہ ان کے نسخے مسلسل ناکامی سے دو چار ہو رہے تھے۔ اگرچہ پھر ڈاکٹر صاحبان نے یہ ضرور کہا کہ اچھی ساکھ والی کمپنیوں کی دوائیں مریضوں سے منگوا کر تشفی کرلیتے تھے کہ اب مرض سے چھٹکارے کی صورت پیدا ہو جائے گی۔ تاہم ایسے کتنے ماہر معالج تھے جو اس قدر اہتمام کرکے خود بھی مطمئن ہو جاتے اور مریضوں کا بھی بھلا چاہتے۔ ایسے ہی نیک بخت لوگوں میں زیر نظر کتاب بیماریوں کی حقیقت کے تخلیق کار پروفیسر ڈاکٹر انتخاب عالم بھی شامل کئے جاسکتے ہیں جن کے بارے میں ایک عرصے سے بہت اچھی باتیں سننے کو مل رہی ہیں اور بقول غالب ان کے بارے میں یہی کہا جاسکتاہے کہ مریض ان کے پاس پہنچ کر یہی محسوس کرتے ہیں کہ
ان کے دیکھے سے جو آجاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
یعنی یہ شعر دراصل مریض کی کیفیت پر منطبق ہو تا ہے۔ ان کی چہرہ نمائی کے ساتھ ساتھ ان کی کتاب کی رونمائی بھی ہو رہی ہے۔ (بقیہ 2 صفحہ 7)

اداریہ