Daily Mashriq


بلوچستان۔۔۔ پمفلٹ تقسیم۔۔۔ میڈیا کو دھمکی

بلوچستان۔۔۔ پمفلٹ تقسیم۔۔۔ میڈیا کو دھمکی

شر اگر محدود بھی ہو توخیر کے ماحول میں ارتعاش ضرور پیدا کرتا ہے۔ اس کی مثال گنتی کے چند دہشت گرد ہیںجنہوں نے پاکستان کے بیس کروڑپُر امن عوام کو پریشان کر رکھا ہے۔ایسے ہی گنتی کے کچھ لوگ بلوچستان میں بھی سر گرم ہیں اور خود کو بلوچوں کا نمائندہ کہتے ہیں یہ لوگ بلوچستان کی ایسی مخدوش اور ہولناک تصویر پیش کرتے ہیںجیسے یہاں خدا نخواستہ قتل عام ہو رہا ہو اور جیسے بلوچوں کی نسل کشی کی جارہی ہو اور صوبے میں خانہ جنگی کی صورت حال ہوجب کہ اس کے برعکس یہاں تمام معمولات زندگی مسلسل جاری ہیں،دفتروں کا کام بھی چل رہا ہے ،سکولوںکی حاضری بھی ویسی ہے اور تجارتی سرگرمیاں بھی رواں دواں ہیں لیکن یہ شدت پسند تنظیمیں جنہیں بھاری بیرونی امداد مسلسل میسر ہے یہاں کے پرامن عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتی ہیں کہ ان کی نسل کشی ہورہی ہے، وہ غلام ہیں، اُن کے اوپر ظلم ہو رہا ہے ان کے وسائل دوسروں کے قبضے میں ہیں اور ایسے ہی دوسرے فرضی جرائم اور الزامات لگا کر ان کو ورغلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اس کارقبہ پاکستان کے کل رقبے کے نصف سے کچھ کم ہے اور معدنیات سے بھر پور ہے لیکن پانی کی قلت آبادی کم ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ یہاں ترقی کی رفتار دوسرے صوبوں کے مقابلے میں کم اور سست ہے جس میں دوسری وجوہات کے ساتھ یہاں کے سخت قسم کے سرداری نظام کا بھی ہاتھ ہے، ملکیت چند لوگوں اور قبیلوں کے ہاتھ میں ہے جو اسے دوسروں تک کسی صورت منتقل کرنے کو تیار نہیں ، خود امریکہ اور برطانیہ کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں سے پڑھے ہوئے سردار اپنی ''رعایا''کو اپنے ہی صوبے میں مٹی گارے کے چند کمرے بھی بطور سکول بنا کر دینے کوتیار نہیں۔قومی سطح پر 58%خواندگی کے تناسب کے مقابلے میں بلوچستان 43%خواندگی کے ساتھ چاروں صوبوں میں سب سے نچلے درجے پر ہے، یہ تناسب بھی چند بڑے شہروں کی وجہ سے ہے ورنہ دور دراز کے شہر اور علاقے اس سے بھی محروم ہیں اور اسی لیے ان کو غیر صحتمندانہ سرگرمیوں میں الجھانا بہت آسان ہے اور ان کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر انہیں یہ روزگار فراہم کر دیا جاتا ہے انہیں پیسے بھی ملتے ہیں ، روزی بھی ملتی ہے اور علاقے میں اپنی مجرمانہ کارروائیوں سے اپنی دھاک بٹھانے کا موقع بھی۔یہ سب کچھ بغیر پیسے کے ممکن نہیںاور پہاڑوں اور دشتوں میں روپوش رہنے والے اِن لوگوں کو آخر اسلحے کے لیے کون رقم دیتا ہے، کیا یہ بیرونی امداد کے بغیر ممکن ہے؟ اگر نہیں تو پھر بیرونی امداد لینے والے اِن لوگوں کو کیسے بلوچوں کا ترجمان کہا جا سکتا ہے۔ ان کے اس دعوے کی حقیقت کتنی ہے یقینا کچھ بھی نہیں۔ہاںاِن گمراہ نوجوانوں کی ہدایت ضروری ہے۔یہ اگر آزادی کا مطالبہ کرتے بھی ہیں تو آخر کس بنیاد پر۔بلوچستان، پنجاب، خیبر پختونخوااور سندھ کی طرح پاکستان کا ایک صوبہ ہے ،اس کی وسعت نے اس میں کئی طرح کے جغرافیائی حالات سمودیے ہیںجس کی وجہ سے اس کے تمام علاقے ترقی کے منازل طے نہیں کر سکے ہیںلیکن اس بات کو بنیاد بنا کر یہ لوگ ملک دشمن پراپیگنڈہ کرتے ہیں ۔بلوچستان لیبریشن فرنٹ ایسی ہی ایک تنظیم ہے جو بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کرنے میں پیش پیش ہے اس تنظیم نے حال ہی میں ایک پمفلٹ تقسیم کیا جس میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو دھمکی دی گئی ہے اور اُسے بند کرنے کا فیصلہ سنایا گیا ہے ۔ اس پمفلٹ میں تمام اخبارات ،ڈسٹری بیوٹر، سر کولیشن ذمہ داران، ہاکرز،کیبل نیٹ ورک مالکان اور ٹرانسپورٹرز سے کہا گیا ہے کہ اپنی اپنی سروسز بند کردیں جس کے لیے آخری تاریخ 22 اکتوبر دی گئی ہے اور بند نہ کرنے کی صورت میں سخت نتائج کی دھمکی دی گئی ہے۔بی ایل ایف ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور بلوچستان میں اب تک کئی دہشت گرد کارروائیاں کر چکی ہے جن میں ریلوے لائن پر حملہ، مارکیٹوں میں دھماکے اور2013 میں کوسٹ گارڈز پر حملہ اور اُن کی شہادت جیسے واقعات بھی شامل ہیں۔یہ تنظیم دوست ملک چین سے تعلق رکھنے والے تین ماہرین کو2004 میںقتل کر کے ملک کی بدنامی کا باعث بنی ، اس نے ایک ڈیم کے20تعمیراتی غریب مزدوروںکو 2015میں شہید کر کے جس بے دردی کا ثبوت دیا اُس کی مثال نہیں ملتی لیکن اب یہی تنظیم بلوچ نسل کشی کا الزام لگا رہی ہے اور اس پمفلٹ میں حیرت انگیز طور پر یہ انکشاف بھی کر رہی ہے کہ بلوچستان میں آبادی پر زمینی کے ساتھ فضائی حملے بھی کیے جا رہے ہیں حیرت ہے کہ یہ فضائی حملے صرف بی ایل ایف کو نظر آرہے ہیں فضائی حملے میں تو بم ہی گرائے جا ئیںگے تو کیا بم کی آواز کو بھی چھپایا جا رہا ہے اور ابھی تک توعالمی میڈیا نے بھی کوئی ایسا حملہ رپورٹ نہیں کیا جو اللہ نذر بلوچ اور اُس کی تنظیم کو نظر آرہا ہے۔ یہ لوگ اِن حملوں میں سنگین اضافے کا بھی الزام لگا رہے ہیں۔یہ تنظیم صحافیوں کو دھمکی دے رہی ہے اور انہیں اپنے فرائضِ منصبی ادا کرنے سے روک رہی ہے لیکن ساتھ ہی وہ صحافیوں کو موردالزام ٹھہرا رہی ہے کہ وہ بلوچستان کے حالات کی رپورٹنگ نہیں کر رہے یعنی اِن کے خیال میں صحافی بھی جب تک فرضی فضائی اور زمینی حملوں کی کہانیاں نہ گھڑیں تو تب تک انہیں کام نہیں کرنے دیا جائے گا۔بی ایل ایف مرکز سے علیحدگی کی تحریک چلا رہی ہے لیکن چاہتی یہ ہے کہ حکومت اسے پھولوں کے ہار پہنائے،کالج اور یونیورسٹیوں تک پہنچے ہوئے یہ بلوچ نوجوان اس تنظیم کے لیڈر بن کر ناخواندہ اور کم پڑھے لکھے بلوچ عوام میں سے صرف چند ایک کو اپنے ساتھ ملا کر پورے بلوچستان کو مظلوم بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں(بقیہ 1صفحہ 7)

متعلقہ خبریں