اک عجب شہر مدارات میں ٹھہرے ہوئے ہیں

اک عجب شہر مدارات میں ٹھہرے ہوئے ہیں

کبھی کبھار ایک چھوٹی سی بات یا واقعہ انسان کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیتا ہے ۔کل ہم دوستوں کی محفل میں بیٹھے گپ شپ لگار ہے تھے ایک دوست کہنے لگے کہ ہماری ریٹائرمنٹ میں بس چند مہینے باقی رہ گئے ہیں زندگی نے ہمیں کچھ بھی نہیں دیا ساری عمر کوئلوں کی سوداگری کرتے رہے ہیں۔ اب ہاتھ اور منہ دونوں کالے ہیں جن لوگوں کے لیے دن رات محنت کی اب وہی ہمیں کہتے ہیں کہ آپ نے ہمارے لیے کیا کیا؟یہ جانتا تو لٹاتا نہ گھر کو میں!اب صبح سویرے گھر سے نکلتے ہیں اور رات گئے گھر داخل ہوتے ہیں صرف سونے کے لیے !ان کی بات نے ہمیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ صورتحال تو انتہائی اذیت ناک ہے ! ہم سوچ کی بھول بھلیوں میں بھٹکتے چلے گئے دراصل زندگی کے رنگوں کا آپ کے اردگرد موجود مخلوق سے گہرا تعلق ہوتاہے۔ بہن بھائی ، دوست رشتہ دار، پڑوسی آپ کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں یوں کہیے آپ کی زندگی میں رنگ بھرتے ہیں ان کے رویے آپ پر اثر انداز ہوتے ہیں محبت بھرے رویے خوشیاں دیتے ہیں اور نفرتیں زندگی میں زہر گھول دیتی ہیں طنز و تذلیل سے ہوتی ہے تواضع اپنی 

اک عجب شہر مدارات میں ٹھہرے ہوئے ہیں
نشیب و فراز زندگی کا حصہ ہیں اچھے برے دنوں کی آنکھ مچولی زندگی بھر چلتی رہتی ہے۔ آدمی کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ تکلیف میں وہ اکیلا نہیں ہے غم و فکر سے کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ پیچیدہ صورتحال اور مشکل حالات ہر فرد کو پیش آتے رہتے ہیں۔دنیا ابتلا و آزمائش ، رنج و غم اور کدورتوں کی جگہ ہے اسی لیے اسے اسی طرح قبول کر لینے ہی میں مصلحت ہے۔ دنیا والوں کی بے رخی ان کے دیے ہوئے دکھوں پر صبر نہ کیا جائے تو زندگی مزید مشکل ہوجاتی ہے جس طرح کھولتے ہوئے پانی میں انسان کا عکس دکھائی نہیں دیتا۔ اس طرح انسان غصے میں یہ نہیں سمجھ سکتا کہ اس کی بھلائی کس چیز میں ہے جان لو کہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے کرب کے ساتھ کشادگی ہے۔ ایک حالت ہمیشہ نہیں رہتی زمانہ الٹتا پلٹتا رہتا ہے اس کے مطابق اپنی طبیعت ڈھال لی جائے تو پریشانیوں کے بادل چھٹ جاتے ہیں اور پھر سارا کھیل برداشت اور صرف برداشت کا ہے مسائل کہاں نہیں ہوتے؟بس اپنے ارد گرد دیکھتے رہنا چاہیے۔ دوسروںکے مسائل دیکھ کر اپنا غم بھول جاتا ہے دل کو ڈھارس ملتی ہے کہ مشکلات کا شکار میں اکیلا نہیں ہوں سمندر میں کشتی چلانے والوں کو سمندر کی لہروں سے لڑنا پڑتا ہے ملاح طوفانوں کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرنا نہ جانتا ہو تو کبھی بھی منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتا انسانی معاشرے کی بھی کچھ یہی صور ت ہے۔ زندگی میں طرح طرح کے انسانوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ ہمارے ارد گرد ہر قسم کے لوگ آباد ہیںمفادات کی جنگ چلتی رہتی ہے ان کے مفادات آپس میں ٹکراتے ہیںایسی صورتحال پیش آتی رہتی ہے کہ انسانوں کے درمیان تلخیاں بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں۔ انسان کا انسان سے ٹکرانا ناگزیر ہوجاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جب ہوش و حواس قائم رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ برداشت کا کھیل اسی وقت شروع ہوتا ہے غصے سے گریز کا یہی مقام ہوتا ہے۔اسی ایک لمحے کے حوالے سے سیانے کہتے ہیں کہ جو ایک لمحے کے لیے اپنے غصے پر قابو پالیتا ہے وہ سو دنوں کی مصیبت سے بچ جاتا ہے یہاں تو صرف سو دنوں کی بات کی گئی ہے ہم تو کہتے ہیں کہ ایک لمحے کا غصہ انسان کی پوری زندگی کو تباہ کر کے رکھ دیتا ہے ! اس لمحے سے بچنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ زندگی کے کانٹوں سے بچ کر چلا جائے جو لوگ اس حوالے سے احتیاط نہیں کرتے وہ ان کانٹوں میں الجھ کر اپنی منزل کھو دیتے ہیں ان کا وقت بھی ضائع ہوتا ہے اور ذہنی سکون سے بھی محروم ہوجاتے ہیں اپنے آپ کو یہ نکتہ سمجھانا بہت ضروری ہے کہ دنیا میں دکھ دینے والے انسانوں کی کمی نہیں ہے سمجھداری کا تقاضا یہ ہے کہ ان سے بچ کر چلا جائے فارسی میں کہتے ہیں براہ راست برو گرچہ دور باشد(ہمیشہ سیدھی راہ پر چلو اگرچہ طویل ہی کیوں نہ ہو)یہ بات یاد رکھنے والی ہے کہ جو کچھ ہم دیتے ہیں وہ ہمیں لوٹا دیا جاتا ہے۔ پرانی بات ہے جب ایران کے پارسی پہلی بار ہندوستان آئے تو وہ ہندوستان کے مغربی ساحل پر اترے پارسی جماعت کا پیشوا ہندوستان کے راجہ سے ملا اور اس سے درخواست کی کہ وہ انہیں اپنی سرزمین پر رہنے کی اجازت دے راجہ نے اس کے جواب میں دودھ کا بھرا ہوا ایک گلاس پارسی پیشوا کے ہاتھ پر رکھ دیا پیشوا راجہ کا اشارہ سمجھ گیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ہماری ریاست کی آبادی پہلے ہی بہت زیاد ہ ہے اور آپ لوگوں کی رہائش کے لیے مزید گنجائش پیدا کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔ پارسی پیشوا بھی خاموش رہا اور اس نے زبان سے ایک لفظ کہے بغیر دودھ کے گلاس میںشکر کا ایک چمچ ملاکر گلاس راجہ کو واپس لوٹا دیا۔ یہ اشاروں کی زبان میں اس بات کا اظہار تھا کہ ہم لوگ آپ کے دودھ پر قبضہ کرنے کے بجائے اس کو میٹھا بنائیں گے ہم آپ کی ریاست کی زندگی میں شہد گھول دیں گے اس کی شیرینی میں اضافہ کریں گے اس کے بعد راجہ نے انہیں ریاست میں رہنے کی اجازت دے دی!یہ واقعات ہمیں یہی سکھاتے ہیں کہ مشکلات تو زندگی کا اٹوٹ انگ ہیں صرف مثبت سوچ، حوصلے ، صبر اور دانائی کا ہونا ضروری ہے۔زندگی میں جوش سے زیادہ ہوش کی ضرورت پڑتی ہے انسان کے راستے کی سب سے اونچی دیوار اس کی انا ہے اگر وہ اپنی انا کی دیوار کو پھلانگنے میں کامیاب ہوجائے تو منزل اس کی طرف دوڑ کر آتی ہے !۔

اداریہ