Daily Mashriq


متحدہ مجلس عمل کی بحالی!

متحدہ مجلس عمل کی بحالی!

متحدہ مجلس عمل کی بحالی کی کوشش ہو رہی ہے اور میرے سامنے تین سوال ہیں۔ اول ' مذہبی جماعتوں کے اتحاد کو کیا عوام میں اب وہ پذیرائی مل سکے گی جو 2002ء کے انتخابات میں اسے حاصل ہوئی ۔ دوم ' پاکستانی سیاست میں اس وقت جو تین بڑے کھلاڑی موجود ہیں ان میں سے کس کو اس اتحاد کا فائدہ اور نقصان پہنچے گا۔سوم' مذہی جماعتوں کا اتحاد کیا اس ملک میں انقلابی تبدیلیاں لانے کا باعث بن سکتا ہے۔جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے تو یہ پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے کہ 2002ء کے انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کو جو تاریخی کامیابی حاصل ہوئی اس وقت کے وہ معروضی حالات کے تناظر میں تھی۔ ملی یکجہتی کونسل اور دفاع پاکستان و افغانستان کونسل کے بطن سے جنم لینے والے اس اتحاد کو ملی یگانگت ' فرقہ وارانہ کشیدگی کے خاتمے اور اینٹی امریکہ پالیسی کی وجہ سے بہت سراہا گیا۔ مسلم لیگ ن کی قیادت کی عدم موجودگی اور اس کے مختلف دھڑوں میں تقسیم کا فائدہ بھی متحدہ مجلس عمل کو پہنچا کہ مذہبی جماعتوں کا ووٹ بنک مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ن کا ووٹ باآسانی مذہبی جماعتوں کے حق میں پول ہوتا آیا ہے۔ علاوہ ازیں علامہ شاہ احمد نورانی کی قیادت کا بھی مجلس عمل کی پذیرائی میں بہت کلیدی کردار تھا۔ علامہ صاحب پاکستانی سیاست کی حرکیات اور رموز سے بخوبی واقف تھے چنانچہ ان کی فیصلہ سازی کمال کی تھی۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ 2002ء کے انتخابی نتائج کے تناظر میں ان دنوں میں راجہ ظفر الحق سے جب استفسار کیا کہ آپ نے مجلس عمل سے اتحاد کیوں نہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم تو ایسا کرنا چاہتے تھے لیکن علامہ شاہ احمد نورانی نہ مانے۔ دلیل ان کی یہ تھی کہ حکومت مسلم لیگ ن کی مخالف ہے اور جس کے خلاف حکومت کمربستہ ہو جائے اس کے بیس تیس فیصد ووٹ ویسے ہی جھڑ جاتے ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ ن کی قیادت کو ناراض کیے بغیر انہیں مشورہ دیا کہ اپنا اپنا الیکشن لڑیں۔ نتائج کے بعد مشترکہ لائحہ عمل اور پالیسی بنائیں گے۔ اور پھر ایسا ہی ہوا کہ مسلم لیگ ن نے اپوزیشن لیڈر کے لیے متحدہ مجلس عمل کے امیدوار مولانا فضل الرحمان کو ووٹ ڈالا۔ یہ علامہ صاحب کی قیادت کا کمال تھا حالانکہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اے آر ڈی کے تحت اکٹھی تھیں اور بعد ازاں یہ اشتراک ہمیں انتخابی حلقوں میں بھی دکھائی دیا جب ضمنی الیکشن میں اے آر ڈی کے مشترکہ امیدوار کھڑے کیے گئے۔ آج مذکورہ بالا تینوں عوامل کی غیر موجودگی میں متحدہ مجلس عمل کی عوامی پذیرائی ہونا میرے خیال میں بہت مشکل ہو گی۔ خیبر پختونخوا میں جہاں متحدہ مجلس عمل نے بے مثال کامیابی کے جھنڈے گاڑے تھے آج ایک نئی سیاسی قوت کا ظہور ہو چکا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی جڑیں گہری ہوتی جا رہی ہیں۔ حال ہی میں جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کے اراکین اسمبلی نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی ہے۔ انتخابی سال میں ہونے والی یہ سرگرمی اس بات کاپتا دے رہی ہے کہ جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے اراکین آئندہ عام انتخابات میں اپنی جماعتوں کی کامیابی کے بارے میں اتنے پریقین نہیں جتنا کہ انہیں تحریک انصاف کی کامیابی کا امکان دکھائی دے رہا ہے۔ اگر متحدہ مجلس عمل کو خیبرپختونخوا میں کامیابی نہ مل سکی جو اس کا بنیادی انتخابی اکھاڑہ ہے تو باقی پاکستان میں اس کے امیدواروں کی کامیابی کے امکانات ویسے ہی نہایت معدوم ہیں۔ پنجاب کی حد تک جن دو نئی مذہبی قوتوں کو پذیرائی ملنے کے امکانات دکھائی دیتے ہیں وہ متحدہ مجلس عمل کا حصہ شاید نہ بن سکیں۔تحریک لبیک پاکستان اور ملی مسلم لیگ کا کوئی نمائندہ اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں شریک نہ ہوا۔ مولانا فضل الرحمان اس اجلاس کے میزبان تھے۔ اب دیکھتے ہیں کہ 9نومبر کو منصورہ میں ہونے والے اجلاس میں کون کون شریک ہوتا ہے۔ جماعت اسلامی کی حالیہ الیکشن میں کارکردگی بہت مایوس کن رہی ہے اور یوں لگ رہا ہے کہ پنجاب میں پیپلزپارٹی کی طرح جماعت اسلامی کا صفایا ہو چکا ہے۔ دریں حالات یہ کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ تمام حالات میں متحدہ مجلس عمل کا کردار انتہائی محدود ہو گا اور بڑے پیمانے پر اس کی انتخابی کامیابی خارج از امکان ہے۔اب آئیے دوسرے سوال کی طرف۔ متحدہ مجلس عمل کو جو تھوڑی بہت انتخابی کامیابی ملنے کا امکان ہے وہ خیبر پختونخوا سے ہے۔ اس اعتبار سے تحریک انصاف کو اس اتحاد کے بننے کا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مذہبی جماعتوں کے مقابلے میں تحریک انصاف کی عوامی پذیرائی خیبر پختونخوا میں زیادہ ہے مگر جب یہ جماعتیں اپنے مشترکہ امیدوار میدان میں اُتاریں گی تو تحریک انصاف کو ایک مشکل صورت حال سے دوچار ہونا پڑے گا۔ مولانا فضل الرحمن کا ہوم ورک کافی بہتر ہے چنانچہ وہ جماعت اسلامی کے تعاون سے جن امیدواروں کو فائنل کریں گے وہ تحریک انصاف کو ہر حلقے میں ٹف ٹائم دیں گے۔ قومی اسمبلی کے 35جب کہ صوبائی اسمبلی کے 99حلقوں میں اگر کوئی جماعت تحریک انصاف کا مقابلہ کرے گی تو وہ متحدہ مجلس عمل ہو گی۔ مسلم لیگ ن نے گزشتہ انتخابات میں بارہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اب اگر متحدہ مجلس عمل اور ن لیگ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا فیصلہ کرتی ہیں تو یہ صورت حال تحریک انصاف کے لیے اور بھی پیچیدہ اور مشکل ہو گی۔ یہ طے ہے کہ مولانا فضل الرحمن متحدہ مجلس عمل کی بحالی کے لیے آخری حد تک جائیں گے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ متحدہ مجلس عمل اپنی پرانی شکل میں بحال ہو جائے گی (بقیہ 3صفحہ 7)

متعلقہ خبریں