مشرقیات

مشرقیات

ایک شامی آدمی کہتا ہے کہ میں ایک مرتبہ مدینہ منورہ گیا ، میں نے وہا ں ایک ایسے حسین وجمیل آدمی کو دیکھا کہ اس سے زیادہ خوبصورت اور خاموش شخص میںنے اب تک کہیں نہیں دیکھا تھا اور نہ اس جیسا عمدہ لباس اور نہ اس جیسی کسی کی سواری دیکھی تھی۔ میں نے اس آدمی کے متعلق لوگوں سے پو چھا یہ کون ہے؟ تو مجھے بتایا گیا یہ حضرت علی بن حسین بن علی بن ابی طالب ہیں ۔ میں ان کے پاس آیا ، حالانکہ میں ان سے بغض رکھتا تھا ، میں نے ان سے کہاکہ آپ ابو طالب کے بیٹے ہیں ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، میںابو طالب کا پوتا ہوں ، میں نے کہا : میں آپ کو اور آپ کے والد کو اور آپ کے دادا علی بن ابی طالب کو برا بھلا کہتا ہوں ، پس جب میری گفتگو ختم ہو گئی تو انہوں نے مجھ سے فرمایا : کیا تم مسافر ہو ؟ میں نے کہا : جی ہاں ، پھر انہوں نے کہا آپ ہمارے ساتھ آئیں ۔اگر آپ کو کسی اقامت گاہ کی تلاش ہو تو ہم آپ کے لئے رہائش کا بندوبست کریں گے ، اگر مال کی ضرورت ہو تو ہم مدد کریں گے یا کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو ہم آپ سے تعاون کریں گے ۔ پس میں تھوڑی دیر کے بعد ان کے پاس چلا آیا ، انہوں نے میرے ساتھ عمدہ سلو ک کیا کہ ان کے اخلاق کریما نہ کا میں دلدادہ ہوگیا ۔ اس کے بعد زمین پر مجھے ان سے زیادہ کوئی محبوب نہ تھا ۔ شیطان کی عیاری ومکاری بڑی خطرناک ہوتی ہے ، وہ کسی کو بھی نہیں چھوڑتا ، حتیٰ کہ حضرت انبیا کو بھی نہیں چھوڑتا ۔ ایک دفعہ شیطان حضرت عیسیٰ کے پاس آیا اور آکر کہنے لگا : آپ تو وہ ہیں کہ اپنی ربوبیت سے شیر خوار گی میں آپ نے کلام کیا جب کہ کوئی اور ایسا نہیں کر سکتا ۔ حضرت عیسیٰ نے فرمایا کہ ربو بیت والوہیت تو اس اللہ کے لئے ہے ، جس نے مجھے قوت گویائی دی ۔ پھر کہنے لگا کہ اے وہ ذات کہ جس نے اپنی الوہیت سے مردوں کو زندہ کیا ہے ، اے وہ ذات جس نے اپنی الوہیت پر ندوں کو بنا کر زندہ چھوڑا ۔ حضرت عیسیٰ کہنے لگے : لا حول والا قوة الا بااللہ ، میں کہاں کا خدا ، میرے اندر کہا ں الوہیت ؟ الوہیت تو اس اللہ کے اندر ہے ، جو مجھے بھی زندگی اور موت دیتا ہے ۔ دراصل شیطان ان باتوں سے ان کو بہکا نے کے لیئے آیا تھاتاکہ انکے ذہن میں یہ ڈال دے کہ جیسے لوگ سمجھتے ہیں ، اسی طرح یہ الوہیت کے حامل ہیں ، یعنی خدائی صفات ان کے اندر ہیں ، تو خدا ئی صفات کا حامل بتایا اور ان کے ذہن میں یہ بات ڈالنی چاہی تاکہ نعوذباللہ حضرت عیسیٰ گمراہ ہو جائیں ،لیکن اللہ تعالیٰ تو انبیاء کرام کی حفاظت کرتا ہے اور اپنی عصمت سے ان کو نوازتا ہے ، اس لیے حضرت عیسیٰ نے فورا! جواب دیا ۔ حضرت حفص سے روایت ہے کہ : میں نے خواب میں امام ابوزر کو دیکھا کہ وہ آسمانوں پر فرشتوں کے ساتھ نماز پڑھنے میں مشغول ہیں ، میں نے پوچھا کہ آپ کو یہ مقام کس طرح ملا، آپ نے فرمایا کہ میں نے اپنے ہاتھ سے ایک لاکھ حدیث نبوی ۖ لکھیں اور ہر حدیث میں نبی کریم ۖ کا مکمل درود پاک لکھا ، سرکار دوجہاں ۖ نے فرمایا کہ جس نے ایک مرتبہ مجھ پر درود پاک پڑھا اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرما تا ہے ۔

اداریہ