Daily Mashriq

ریلوے میں قرعہ اندازی سے بھرتیوں کی معطلی دیگر محکموں میں تعیناتیوں پر سوالیہ نشان

ریلوے میں قرعہ اندازی سے بھرتیوں کی معطلی دیگر محکموں میں تعیناتیوں پر سوالیہ نشان

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے پاکستان ریلوے میں قرعہ اندازی کے ذریعے ہونے والی تعیناتیاں معطل کرنے کے فیصلے سے دیگر وفاقی وزارتوں اور محکموں میں اس طریقہ کار کے تحت تعیناتیوں پر سوالیہ نشانہ لگادیا ہے۔

گزشتہ برس جب موجودہ حکومت آئی تو وفاقی اداروں میں ایک لاکھ 71 ہزار آسامیاں خالی تھیں۔ وفاقی کابینہ کے فیصلے کے بعد سٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 17 جون کو سول سرونٹ ( تعیناتی، پروموش اور منتقلی) سے متعلق قوانین، 1973 میں ترمیم متعارف کروائی تھی۔

ترمیم کے بعد رول نمبر 16 میں لفظ ’ بیسس‘ کو ’ بیلٹننگ‘(قرعہ اندازی) سے تبدیل کیا گیا تھا، یہ ترمیم گریڈ ایک سے 5 تک کی تعیناتی پر مرکوز تھی۔

لاہور ہائی کورٹ کی روالپنڈی اور بہاولپور بینچز نے پاکستان ریلویز ایمپلائیز ( پریم ) یونین اور سگنلز پوائنٹس مین کی تنظیم کی درخواستوں پر تعیناتی کے طریقہ کار کو معطل قرار دیا تھا۔

اس حوالے سے پاکستان ریلوے کی مرکزی یونین نے کہا کہ وہ دیگر صوبوں میں بھی قرعہ اندازی کے ذریعے تعیناتیوں کو چیلنج کریں گی۔

یونین کے صدر حافظ سلمان بٹ نے ڈان کو بتایا کہ ’ ہم اب اس ’ پرچی جوا‘ (قرعہ اندازی) کو سندھ اور دیگر صوبائی ہائی کورٹس اور بینچز میں چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ یہ بھی آئین کے خلاف ہے‘۔

قرعہ اندازی کے نئے طریقے کے تحت بھرتیوں کا آغاز گزشتہ ماہ ہوا تھا تاہم پاکستان ریلوے کے حکام نے اسے خفیہ ہی رکھا تھا۔

تاہم بعد ازاں پاکستان ریلوے کی ڈویژنل انتظامیہ نے آئندہ قرعہ اندازی کے لیے میڈیا کو بھی دعوت دینا شروع کی تھی۔

خیال رہے کہ 14 اکتوبر کو الاہور ہائی کورٹ نے پاکستان ریلوے میں قرعہ اندازی کے ذریعے 845 افراد کی تعیناتیاں معطل کرتے ہوئےدرخواست میں نامزد فریقین سے جواب طلب کیا تھا۔

عدالتی حکم میں کہا گیا کہ ’ قرعہ اندازی کے ذریعے بھرتیوں کا عمل آئندہ سماعت تک معطل رہے گا‘۔

درخواست کے مطابق ریلوے حکام نے اکتوبر 2018 میں بی ایس 1 سے بی ایس 5 تک کی 323 آسامیوں کے لیے اشتہار دیا تھا۔

جس کے صرف ایک ماہ بعد ایک اور اشتہار دیا گیا اور خالی آسامیوں کی تعداد 322 سے بڑھا کر 845 تک کردی گئی۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ان ملازمتوں کے لیے ہزاروں افراد نے اپلائی کیا لیکن تعیناتیاں میرٹ کے بجائے قرعہ اندازی کے ذریعے کی گئیں جبکہ ’قرعہ اندازیوں کے ذریعے تعیناتیاں ملکی قوانین کے برعکس' ہیں۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ ’ قرعہ اندازی کے ذریعے بھرتیوں کا تصور دنیا کا انتہائی عجیب قانون ہے، وہ امیدوار جنہوں نے مہارت اور تحریری امتحان میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے اور انٹرویو میں اپنی قابلیت ثابت کی ہو وہ میرٹ کی بنیاد پر تعیناتی کے مستحق تھے‘۔

اس میں مزید کہا گیا کہ ’ تاہم ریلوے حکام نے اس معیار کو تبدیل کرتے ہوئے کامیاب امیدواروں کو ایک ہی پلڑے میں ڈال کر ان کی قسمت کا فیصلہ قرعہ اندازی کے ذریعے کیا‘۔

قرعہ اندازی کو چینلج کرنے کے علاوی پریم یونین نے درخواست میں یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ’ ںصف سے زائد کامیاب امیدواروں کا تعلق وزیر ریلوے کے حلقے سے ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ روالپنڈی ڈویژن (پاکستان ریلوے ڈویژن) میں قومی اسمبلی کے تقریبا 29 حلقوں میں سے زیادہ تر امیدوار صرف شیخ رشید اور ان کے بھتیجے شیخ رشید شفیق کے حلقے سے کامیاب ہوئے‘۔

متعلقہ خبریں