Daily Mashriq

کھڑا ہوں آج بھی ' روٹی ' کے چار حرف لئے

کھڑا ہوں آج بھی ' روٹی ' کے چار حرف لئے

آج اکتوبر کے مہینے کی 17تاریخ ہے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سال 1993ء کے دوران منظور کی جانے والی قرار داد کی روشنی میں پاکستان سمیت ساری دنیا میں غربت کے خاتمہ کا دن منایا جارہا ہے، غربت نام ہے محرومی کا ، غربت کہتے ہیں تنگدستی کو ، لاچاری کو، بے کسی اور ناداری کو، لیکن اس کی لاتعداد اقسام ہیں ہم غریب الوطنی کو بھی غربت گردانتے ہیں ، ہم اخلاقی گراوٹ کو بھی غربت کہتے ہیں ، حرص و ہوس کو بھی غربت ہی کا نام دیتے ہیں ، بغض و عناد کو بھی غربت کہہ کر پکارتے ہیں ، اور جب ساری برائیوں کی جڑ غربت اور صرف غربت میں دیکھتے ہیں تو پھر دنیا بھر کے دانشوروں اوردانشمندوں کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے غربت کو' ام الجرائم' ماننے پر مجبور ہوجاتے ہیں ، چوری ڈکیتی نقب زنی ملاوٹ ذخیرہ اندوزی مصنوعی مہنگائی رشوت ، سفارش ، حق تلفی ، لوٹ مار حتی کہ قتل مقاتلے تک اور اس قبیل کے جتنے بھی جرا ئم ہیں وہ غربت ہی کی وجہ سے جنم لیتے ہیں۔ لمبی لمبی گاڑیوں میں پھرنے والے، عالی شان کوٹھیوں میں ر ہنے والے، منہ میں سونے اور چاندی کا چمچ لیکر پیدا ہونے والے ، عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والے بھلا کب اور کیسے غریب کہلا سکتے ہیں ، غریب تو وہ ہیں جن کو ایک وقت کا کھانا میسر نہیں، غریب وہ ہیں جو اپنے تن پر ڈھنگ کا کپڑا نہیں پہن سکتے ان کو اپنا سر چھپانے اور عزت بچانے کے لئے چھت اور چار دیواری تک میسر نہیں ہے ، جی جی کر مرتے اور مرمر کر جیتے رہتے ہیں ایسے لوگ، مگر زبان پر گلہ ، شکوہ یا شکایت نہیں لاتے ، ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں ، جب ہم ان کو اس حال میں دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں، نہیں نہیں یہ لوگ غریب نہیں ہوسکتے ، کیونکہ یہ صبر اور شکر کرنا جانتے ہیں ، اور جو لوگ صابر ہوتے ہیں وہ شاکر بھی ہوتے ہیں ، اور بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے ، اور جو لوگ صابر شاکر نہیں ہوتے ، دولت کے انبار رکھنے کے باوجود بھی بھوکے رہتے ہیں بے چارے ، کرسی اور اقتدار پر قبضہ جمانے کی بھوک ان سے ہر وہ کام کرواتی ہے جو ان کو زیب نہیں دیتا ، سنہرے خواب بیچتے ہیں ، سبز باغ دکھاتے ہیںاور کیش کرنے لگتے ہیں غریبوں لاچاروںقسمت ماروں کی غربت تک کو، '' میں ختم کرکے رکھ دوں گا غربت، رہنے کو مکان دوں گا، کھانے کو روٹی اور پہننے کو کپڑا '' لیکن جب وہ اقتدار میں آکر با اختیار ہوجاتے ہیںتو اس وقت کتنے غریب نظر آتے ہیں جب وہ نہ غربت ختم کر سکتے ہیں ، نہ بیروزگاری ، اور وہ ، وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوکے مصداق

وعدے قسمیں پیار وفا سب

باتیں ہیں باتوں کا کیا

کے صورت گر بن جاتے ہیں ،وقت ان کی اس حالت زار پر ہنستا ہے ، ان کو اپنی کرسی کے پائے لرزتے محسوس ہوتے ہیں اور ان کی حالت اس غریب سے بدتر ہوکر رہ جاتی ہے ، جو پانچ وقت سجدہ شکر بجا لانے کیلئے باوضو رہتا ہے ، سردیوں کی یخ بستہ رات فٹ پاتھ پر لیٹے ہوئے بچے کو شدائد موسم سے بچانے کے لئے اس کی ماں اس چیتھڑے پہنے جسم پر گتے کے ٹکڑے رکھ رہی تھی، بچے نے ماں کی طرف تشکر بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا، ''ماں جن کے پاس گتے کے ٹکڑے نہیں ہوتے ہونگے ، کیسے بچاتے ہونگے وہ اپنے آپ کو ایسی شدید سردی سے ''، چپ کرکے سوجا ، ماں نے بچے کو دو گھونٹ ڈانٹ پلائی اور وہ دوسرے ہی لمحے

فرشتے آکر ان کے جسم پر خشبو لگاتے ہیں

وہ بچے ریل کے ڈبوں میں جو جھاڑو لگاتے ہیں

کے مصداق نیند کی پر سکون آغوش میں جاکر خراٹے بھرنے لگا،اور دوسری طرف قیصر و کسریٰ جیسے محل میں رہنے والا فوم کے کشن اور گدوں پر لیٹ کر نیند کی گولیوں پر گولیاں کھاتا رہا اورکسی قیمت بھی چین کی نیند سونے سے محروم رہا ، آپ خود ہی سوچیں ، ہم غریب کسے کہیں ، ویسے فیصلہ کرنا میرے لئے بھی مشکل ہے ، اور ان لوگوں کے لئے بھی جو آج 17 اکتوبر کو غربت کے خاتمہ کا عالمی دن منا کر غربت کو کیش کر رہے ہیں ، ارے غربت کے خاتمہ کا دن منانے والو، لوٹ جاؤ آج سے کم و بیش ساڑھے چودہ سو برس کے اس دور میں جب داعی نور اسلام نے صدقہ ، خیرات ، فطرانہ ، اور زکوٰة کا ایسا نظام متعارف کرایا کہ

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز

نہ کوئی بندہ رہا ، نہ کوئی بندہ نواز

کے مصداق عمر بن عبدالعزیز کے دور خلافت کے آتے آتے ریاست مدینہ کے صدقے غربت نام کا ہر پودا جڑ سے اکھڑ کر رہ گیا ، زکوٰة دینے والے پکار پکار کر صدقہ خیرات اور زکوٰ ة کے حق داروں کو تلاش کرتے رہے ، لیکن زکوٰ ة یا خیرات وصول کرنے والے ناپید ہوگئے

سلام اس پرکہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی

سلام اس پر کہ جس نے بے کسو ں کی دستگیری کی

اگر سچ پوچھئے تو آج غربت کے خاتمہ کا عالمی دن نہیں ، اس موضوع پر خالی خولی باتیں کرنے کا عالمی دن ہے ، کیونکہ آج کے دن بھی ایسی ماؤں کی کمی نہیں جن کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ

بھوکے بچوں کی تسلی کے لئے

ماں نے پھر پانی پکایا دیر تک

میرے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر کھاجانے والے آج بھی اتنے ہی غریب ہیں ، جتنا امیر ہوکر بھی مجھ جیسا ہر سوچکار کہتا رہتا ہے

کھڑا ہوں آج بھی 'روٹی' کے چار حرف لئے

سوال یہ ہے کتابوں نے کیا دیا مجھ کو

متعلقہ خبریں