Daily Mashriq

اٹھارویں ترمیم اور وسائل کی تقسیم

اٹھارویں ترمیم اور وسائل کی تقسیم

اپریل2010 میں آئین پاکستان میں اٹھارہویں ترمیم کی ترویج کو صوبائی خود مختاری کی طرف ایک جامع اور اہم دستاویز گرداناجاتا ہے جِسے معاشرہ کی اکثریت نے سراہا۔ گو کہ ترمیم نے صوبائی اکائیوں کے انتظامی اور مالی اختیارات کو بڑھایا لیکن صوبوں کو ترمیم کے حوالے سے اب بھی بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ترمیم کے منظور ہوتے ہی اس کے مصنفین نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ مخالف قوتیں اسے ناکام بنانے کی پوری کوششیں کریں گی۔ جب سے یہ ترمیم منظور ہونے کے باوجود صوبوں کو مالی معاملات میں اپنا جائز حصہ لینے میں سخت دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ اگرچہ ترمیم نے مالیاتی وفاقیت(Fiscal Federalism) کا جائز مسئلہ حل کر دیا ہے لیکن مرکزی حکومت وسائل کی تقسیم میں پس و پیش کر رہی ہے۔ اس تناطر میں ساتویں این ایف سی ایوارڈ کو بھی مالیاتی وفاقیت کی طرف ایک سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔ اس ایوارڈ کے تحت قابل تقسیم محاصل میں صوبوں کا حصہ47.5فیصدسے بڑھا کر 57.51فیصد کر دیاگیا ہے۔ اس سے صوبوں کے حصے میں دس فیصد اضافہ ہواہے۔ اہم بات یہ ہے کہ خیبر پختونخوا پن بجلی کے منافع کے بقایا جات اور بلوچستان کو گیس ڈویلپمنٹ سرچارج کے بقایا جات کی ادائیگی پر مرکزی حکومت نے آمادگی ظاہر کی تھی، اس کی وجہ یہ تھی کہ چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی پیدا نہ ہو۔آئین پاکستان کے آرٹیکل 160کے تحت صدر ِپاکستان اس بات کے پابند ہیں کہ نیشنل فنانس کمیشن کا پانچ سالوں کے لئے اعلان کریں جو طے شدہ فارمولے کے تحت وسائل کی تقسیم کرے لیکن صد افسوس کہ ساتویں ایوارڈ کے بعد آٹھویں اور نویں ایوارڈ کا اعلان اب تک نہیں ہوسکا۔

اٹھارہویں ترمیم کی وجہ سے ترقی کے نئے دروازے کھلنے کی امیدیں اور امنگیں پیدا ہوئیں اور حقیقتاً عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کو یہ صِلہ جاتا ہے کہ انہوں نے پن بجلی کے منافع میں صوبے کے لئے 100بلین روپے کے بقایاجات وصول کر کے پن بجلی پراجکٹس، کا لجز ، یونیورسٹیز ، ہسپتال اور دیگر ادارے بنائے۔ موجودہ وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار میں آتے ہی صوبائی حکومت کو یقین دہانی کرائی کہ پن بجلی میں اے جی این قاضی فارمولے کے تحت خیبر پختونخوا کو اسکا حصہ دیا جائے گا۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل (2)161 وفاقی حکومت کو پابند بناتا ہے کہ پن بجلی کا پیداواری منافع اس صوبے کو دے جہاں پر ہائیڈرو الیکٹرک سٹیشن واقع ہو۔ حکومت خیبر پختونخوا کے2019 2020/کے بجٹ کے وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان ایک یاداشتی معاہدے کہ تحت پن بجلی کے منافع کے مسئلہ کو حل کردیا جائے گا اس یاداشت کے تحت پن بجلی کا خالص منافع غیر منجمد کردیا جائے گا جس کا نیپرا نے 1.15روپے فی کلو واٹ کے تناسب سے تعین کیا ہے اورصوبے کو اس کے تحت حصہ ملے گا۔ وائٹ پیپر کے مطابق 70ن میں سے اب تک صوبے کو 58.1 بلین روپے مل چکے ہیں۔ جبکہ 11.9بلین کی ادائیگی باقی ہے۔ جبکہ صوبائی اسمبلی میں اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبے کو اس مد میں نہ صرف 500ارب روپے کے بقایا جات دینے ہیں بلکہ گیس انفراسٹرکچر کے مد میں 300ارب روپے بھی واجب الادا ہیں۔ جسے وفاقی حکومت نے خود ہی معاف کر دیا ہے۔ حکومت خیبر پختونخوا کا اصرار ہے کہ اے جی این قاضی فارمولے کے طریقہ کار پر عمل کیا جائے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ واپڈا اور وفاقی حکومت دونوں اس پر عمل درآمد کرنے سے گریز کر رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں حکومت خیبر پختونخوا کو اس وقت زچ پہنچی اور عوامی امنگوں پر بھی اوس پڑی جب وزیرا عظم عمران خان نے برملا اعلان کیا کہ صوبے کو پن بجلی کے خالص منافع کی ادائیگی میں مالی مشکلات درپیش ہیں اور اس کیلئے بجلی کی قیمتیں بڑھانا پڑیں گی جبکہ موجودہ حکومت عوام پر مزید بوجھ ڈالنا نہیں چاہتی جس کا مطلب یہ ہوا کہ صوبے کو اس ضمن میں ادائیگی کا کوئی فوری امکان نہیں ۔ اس صورت ِ حال میں اگر وفاق کی طرف سے صوبے کو اپنا جائز حصہ نہ ملے تو نہ صرف صوبے بلکہ ضم شدہ علاقوں میں بھی ترقیاتی عمل رْک جائے گا۔ جسکے بہت برے معاشرتی اور معاشی اثرات مرتب ہونگے۔ اور ان علاقوں میں احساس محرومی کو مزید تقویت ملے گی۔ اس لئے وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے مالی معاملات کو ٹھیک کرتے ہوئے صوبے کو اسکا جائز حصہ دے۔

متعلقہ خبریں