Daily Mashriq

سب سچ نہیں تو سارا جھوٹ بھی نہیں

سب سچ نہیں تو سارا جھوٹ بھی نہیں

عام آدمی کہتے کہتے تھک گیا کہ ملک میں سب سے بڑا مسئلہ آٹے کا ہے نہ بجلی کا' چینی کے ناپید ہونے سے نہ پٹرول کے مہنگے سستے ہونے سے کوئی قیامت ٹوٹے گی مگر اگر ملک میں بدعنوانی یا کرپشن کے اژدھا کو نہ روکا گیا تو یہ سارے ملک کو کھاجائے گا۔ کیونکہ اس سے جو تباہی آئی ہے جو سنبھالے نہیں سنبھل رہی، ایٹم بم سے تباہی بھی شاید اس سے کم ہو۔اور اگر یہی حالات رہے تو پھر نہ کسی کی حکومت بچے گی نہ کسی کی کرسی کو دوام پہنچے گا بلکہ سب کچھ دھڑن تختہ ہوجائے گا۔عام آدمی یا صحافی اور پریس والوں کے چیخنے چلانے سے تو ایوان اقتدار میں کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی پھرہوا یوں کہ تاجروں نے جی ایچ کیو کا دروازہ کھٹکھٹادیا اور آرمی چیف سے اپنی ساری داستان سناکر انصاف کی بھیک مانگ لی۔ آرمی چیف جنرل باجوہ صاحب نے کیا جواب دیا وہ ٹھیک سے ابھی ہم تک نہیں پہنچا۔تاہم جومعلومات پہنچی ہے اس میں سب سے زیادہ قومی احتساب بیورو جسے عرف عام میں نیب کہا جاتا ہے کی بات ہوئی بلکہ بھرپور شکایت ہوئی ۔ تاجر برادری نے سپاہ سالار سے التجا کی کہ نیب کچھ سمجھتا ہے اور نہ ہی سمجھنا چاہتا ہے لیکن سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ تاجروں کو بھی بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے اندر کرنے یا حراساں کرنے کی روش اپنائے ہوئے ہے جس سے تاجروں کو کام کرنے سے روکا جارہا ہے یا اوچھے ہتھکنڈوں سے گاہے بگاہے کام سے روکا جارہاہے۔ پاکستان کے معاشی حالات پہلے سے دگر گوں ہیں اور بقول شخصے معیشت انتہائی نگہداشت کے وارڈآئی سی یو میں ہے یہاں سے واپس آنا قسمت کی بات ہے اور اوپر سے اس پر نیب کی تلوار لٹکتی رہے تو نہ تو معیشت ٹھیک ہوگی اور نہ ہی ملک کے حالات کسی نہج پر آسکیں گے۔

میڈیا تو ابھی پور ی طرح سے آگاہ نہیں ہوسکا لیکن نیب کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال صاحب نے میڈیا کو اپنی پوزیشن کلیئر کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے ان کا کہنا ہے جولوگ آرمی چیف باجوہ صاحب کے پاس گئے ہیں اور میری شکایتیں لگائی ہیں انہی میں سے ایک تاجر نے کچھ دن پہلے مدح سرائی کی اور نیب کی کارکردگی کو خوب سراہا ۔ اگر شکایت ہی لگانی تھی تو پھر اس مدح سرائی کی کیا ضرورت پیش آئی۔ ہماری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ چیئرمین نیب اگر غلط نہیں کررہے تو پھر بار بار صفائیا ں کیوں پیش کررہے ہیںایک اور بات کہ وہ کس کو جواب دہ ہیں کم از کم آرمی چیف کو تو نہیں،نیب کے تمام مقدمات کو بالآخر سپریم کورٹ آف پاکستان جانا ہوتا ہے تو پھر وہاں جاکر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا جو سچا ہوگا وہ باعزت بری ہوجائے گاورنہ اپنے کئے کی سزا بھگتے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہے جیسا کہ نیب کے چیئرمین کہہ رہے ہیں ورنہ تاجر کبھی بھی جمہوری حکومت ہوتے ہوئے وفد بن کر سپہ سالار سے مداخلت کی درخواست نہ کرتے۔ تاجروں کے التجاء میں اگر سب سچ نہیں تو ساراجھوٹ بھی نہیں۔

ابھی چند برس قبل کی بات ہے ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل پاکستان کے سربراہ نے پرہجوم پریس کانفرنس میں اپنی جائزہ رپورٹ جاری کی تھی جس کے مطابق پاکستان میں کرپشن ماضی کی مقابلے میں 13%بڑھی ہے اور یوں پاکستان ایک بار پھر ترقی کرکے کرپشن کی عالمی رینکینگ میں 47سے 42نمبر پر آگیا ۔پہلے تو یہ ہندسے دیکھ ہمارے دل میں بھی آیا کہ بھئی ملک نے ترقی کی ہے مگر حقیقت میں یہ ترقی نہیں تنزلی ہے کہ ہم کرپشن کی دلدل میں پانچ درجے مزید نیچے چلے گئے ہیں۔ اب ہم دنیا کے کرپٹ ترین لوگوں میں بیالیسویں نمبر پر آگئے ہیں۔ ایک دہائی تک باری باری پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے حکومت کی۔ اس سے قبل آمر کی حکومت تھی کہ جسے کہا جاتا تھا اور فرد واحد کی من مانیوں کی وجہ سے رشوت ستانی عام تھی اقرباء پروری کو فروغ مل رہا تھا اور اپنوںکو نوازنے اور لوگوں کو اپنی راہ پر لانے کے لئے کرپشن کا بازار گرم تھا مگر اب اس جمہوری حکومت نے اس آمر کے ریکارڈ بھی توڑدیئے ہیں۔پہلے ایک شخص برسراقتدار تھااب درجن بھر ہیں تو کرپشن بھی اتنی ہی زیادہ ہوگئی ہے۔صرف چہرے بدل گئے ہیں نظام جوں کا توں ہے۔جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں2008 سے2013ء تک براجمان رہنے والوں کے دورحکومت میں 225ارب روپے کی کرپشن ہوئی اور اس کرپشن میں صوبوں کا اگر چارٹ بنایا جائے تو حال ہی میں نیا نام پانے والا صوبہ کرپشن میں پہلے نمبر پر رہا۔ خیبر پختونخوا کی حکومت نے نام تولے لیا مگر اے کرپشن کی اُس دلدل میں دھکیل دیا گیاکہ اب اِس سے نکلنے کے لئے مزید قربانیاں دینی پڑیں گی۔ امن پسندی کا دعویٰ کرنے والی حکومت کے دور میں امن کے حصول کے لئے سینکڑوں انسانی جانوں کا نذرانہ دیا گیااس کے بدلے میں کروڑوں روپے کی امداد بھی آئی مگر اس امداد کو حقداروں تک پہنچانے کی بجائے اپنی جیبوں کو بھراگیا۔ آفت زدہ صوبہ کا بجٹ اربوں روپے کے خسارے کا بجٹ قرار دیاجاچکاہے۔ دہشت گردی کی اس جنگ میں عوام کی جان و مال کا تو نقصان تھا ہی اب عوام کو مزید قربانی کا بکرا بنایا جائے گااب اگلے کئی سالوں تک وہ اس خسارے کے بجٹ کو بھی برداشت کریں گے۔

متعلقہ خبریں