Daily Mashriq


پانی زندگی ہے

پانی زندگی ہے

کچھ عرصہ سے عالمی ادارے انتباہ کر رہے تھے کہ پاکستان 2025ء کے لگ بھگ شدید خشک سالی کا شکار ہونے والا ہے۔ پاکستان کے شہروں اور دیہات میں بسنے والے دیکھ رہے تھے کہ زیرِ زمین پانی کی سطح نیچی ہو رہی ہے۔ جہاں 80 فٹ گہرائی میں پانی مل جاتا تھا وہاں 200سے 600فٹ تک کھدائی کے بعد پانی دستیاب ہوتا ہے۔ حکومتیں جن پانیوں پر پاکستان کا حق تھا ان کے بارے میں خاموشی اختیار کیے ہوئے تھیں۔ سرکاری ادارے ان کے ماہرین بھی پانی کی کمی پر لب کشائی سے غافل تھے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار پاکستان کے وہ محسن ہیں جنہوں نے اس طرف قوم کی توجہ دلائی اور دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کی خاطر اس کے لیے فنڈز فراہم کرنے کی دعوت دی۔ لیکن بعض ایسے لوگ ہیں جو کسی نہ کسی بہانے اس پر اعتراض کر رہے ہیں جب کہ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ بھارت اس ڈیم کی تعمیر رکوانے کے لیے اقوام متحدہ میں مقدمہ دائر کرنے والا ہے۔ بھارت کا استدلال یہ ہے کہ یہ ڈیم متنازعہ علاقے پر بنایا جا رہا ہے حالانکہ مقبوضہ کشمیر میں جو متنازع علاقہ ہے بھارت خود وہاں ڈیم تعمیر کر رہا ہے لیکن یہ پاکستانیوں کو کیا ہوا کہ وہ پاکستان کے لیے پانی کی اس امید پر اعتراض کرنے لگے ہیں جب کہ کون نہیں جانتا کہ پانی زندگی ہے۔ جو شخص پاکستان کو پانی سے محروم کرنے کی طرف بڑھے گا وہ پاکستان سے غداری پر کمربستہ ہو گا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایسے لوگوںکو انتباہ کیا ہے کہ ان پر آئین کی دفعہ چھ کے تحت غداری کے الزام میں مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ پانی کا مسئلہ نہایت گمبھیر ‘ فوری اور ملک گیر ہے۔ 2025ء کے آتے آتے سات سال یونہی گزر جائیں گے جس طرح گزشتہ ستر سال گزر گئے پاکستان پانی کی کمی کا شکار ہو تا گیا۔ اور 2025ء میں خشک سالی در آئے گی۔ پانی زندگی ہے۔ پانی ہو گا تو زندگی ہو گی ‘ سیاست ہو گی‘ زراعت ہو گی ‘ صنعت اور خوشحالی کا خواب ہو گا۔ پانی نہ ہو گا تو کچھ بھی نہیں ہو گا۔ ہمارے ملک میں 80فیصد پانی سال کے تین مہینے میں آتا اور برستا ہے۔ باقی نو ماہ صرف بیس فیصد پانی ہوتا ہے جس سے جو بہت کم ڈیم ہیں وہ بھی نہیں بھرتے ۔ پرویز مشرف کے ابتدائی دور میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا معاملہ اٹھایا گیا تو یہ سیاست کی نذر ہو گیا اور اس کے بعد کسی حکومت نے یہ نہ سوچا کہ جو پانی سمندر میں گر جاتا ہے اسے ذخیرہ کر لینا چاہیے۔ کالا باغ ڈیم کے امکان کو ختم کرنے کے لیے دیامر بھاشا ڈیم کو متبادل کے طور پر پیش کیا گیا لیکن اس پر بھی کام نہ ہوا۔ حالانکہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کہتے رہے کہ ہم پاکستان کو پانی کی بوند بوند کے لیے ترسنے پر مجبور کر دیں گے۔ دیامر بھاشا ڈیم اگرچہ پاکستان کے پانی کے مسئلے کا مکمل حل نہیں ہے تاہم اس پر توجہ ہوتے ہی اس کے خلاف اعتراض آنے شروع ہو گئے ہیں۔ سابقہ مسلم لیگ کی حکومت کے وزیر احسن اقبال کہتے ہیں کہ اس پر 8ہزار ملین ڈالر لاگت آئے گی اس لیے موجودہ وسائل سے اس کی تعمیر ممکن نہیں۔ ان کی پارٹی کے حمزہ شہباز شریف کہتے ہیں کہ اس پر بارہ ہزار ملین ڈالر لگیں گے اور پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ یہ رقم 16ہزار ملین ڈالر بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عطیات سے یہ ڈیم نہیں بن سکے گا۔ وہ کوئی متبادل طریقہ بھی نہیں بتاتے۔ احسن اقبال اور خورشید شاہ دونوں کی پارٹیاں گزشتہ دس سال حکمران رہیں اور اس بارے میں خاموش رہیں۔ تو کیا اب بھی ہم پانی کی بوند بوند کو ترسنے کے لیے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں؟ ایک ٹی وی مبصر نے کہا کہ پاکستان میں اسی فیصد پانی انسانوں کے پینے کے لائق نہیں۔ پہلے اس پانی کو صاف کریں پھر ڈیم بنائیں۔ لیکن جو پانی ہے وہ بھی تو ناپید ہو رہا ہے۔ پانی ہو گا تو اسے صاف کیا جائے گا۔ خشک سالی در آئی تو کون سا پانی ‘ کون سی اس کی صفائی اور کس کے لیے؟ پانی کی بوند بوند ترسنے والوں کے لیے؟ پانی کا بحران گمبھیر ہے ۔ اس کے لیے ڈیم بننے چاہئیں‘ ان پر بہت لاگت آئے گی جو پاکستان کی موجودہ نسل کو ادا کرنا ہو گی اور اسے ادا کرنی چاہیے کہ اس نے اپنے سابقہ حکمرانوں سے یہ سوال نہیںکیا کہ پانی نہ ہو گا تو کیا ہوگا؟ پاکستان غریب اور اس کی زمینیں پیاسی ہوتی گئیں تو ان کے اثاثے کیوں بڑھتے رہے؟ بیرون ملک پاکستانیوں کو یہ بتانا ہو گا کہ اپنے جن پیاروں کے لیے وہ کماتے ہیں ان کا وطن پانی کی کمی کی وجہ سے اجڑ رہا ہے۔ یہی نہیں ایک نئی طرز زندگی اختیار کرنا ہو گی جس میں پانی کا بے جا استعمال نہ ہو ‘ جس میں پانی کو ری سائیکل کر کے استعمال میںلایا جا سکے۔ مساجد میں وضو کا جو پانی نالیوں میں بہہ جاتا ہے اسے صاف کر کے پودوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جو امیر لوگ پینے کے لیے پانی خریدتے ہیں ان کے گھروں میں بھی پانی قیمتاً جانا چاہیے۔ پانی کی ری سائیکلنگ اس کی ذخیرہ کاری کے بعد اسے زراعت کے لیے استعمال کرنے کے لیے اکادمیہ کو آگے آنا چاہیے۔ بارشوں اور دریاؤں کے قدرتی پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیم بنانا ضروری ہے۔ ان پر بہت لاگت آتی ہے لیکن اس کے لیے جو تنگ دستی سہنی پڑے گی اس کی قیمت زندگی سے زیادہ نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں