Daily Mashriq


سوشلائزیشن

سوشلائزیشن

ٹیکنالوجی بڑی عجیب چیز ہے۔ اس کے کرشمے تو ہم دیکھ ہی چکے ہیں۔ پوری دنیا کو ٹیکنالوجی قریب لے آئی ہے اور جناب اس قریب آئی ہوئی دنیا کو قریب تر لانے کی سعی کی جا رہی ہے۔ سب سے زیادہ تبدیلیاں جو کمپیوٹر کی وجہ سے کسی میدان میں واقع ہوئی ہیں تو وہ ٹیلی کمیونیکیشن کا فیلڈ ہے۔ سیل فون کی ابتدا کو ذہن میں رکھا جائے تو یہ ڈیوائس مخصوص لوگوں کی دسترس واستعمال کی ایک چیز تھی۔ جس کو خاص لوگ ہی افورڈ کر سکتے تھے بلکہ سیل فون ضرورت سے زیادہ ایک لگژری تصور کی جاتی تھی، یا پھر سٹیٹس سمبل۔ کارپوریٹ کلچر میں شامل ملٹی نیشنل کمپنیاں جدید دور کی جادوگر سمجھی جا سکتی ہیں کہ اپنے کرشموں سے انسانی سوچ کو تبدیل کر دیتی ہیں۔ لگژری کو بنیادی ضرورت میں تبدیل کر دیتی ہیں۔ آج سے صرف بیس بائس برس پہلے سیل فون ایک لگژری تھی لیکن آج موبائل فون کے بغیر زندگی کا تصور ہی محال ہے۔ جب کبھی کسی مجبوری کے تحت موبائل نیٹ ورک بند کر دیا جائے تو پورا ملک کیسی کوفت کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسی ضرورت کو آپ محسوس کر سکتے ہیں کہ ایک ٹیکسی والے کو، ایک ٹریکٹر والے کو، کسی ڈاکٹرکو، کسی فیملی ممبر کو یا کسی دوسری ضرورت کے تحت کسی سے بھی کام ہو آپ اسے موبائل فون پر بلاسکتے ہیں۔ کسی کی خیریت دریافت کر سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جدید الیکٹرانکس نے ہماری زندگیوں میں نفوذ کر لیا ہے لیکن یہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کا کرشمہ ہی ہے کہ وہ تحقیق اور مارکیٹنگ سے کسی لگژری کو ضرورت کا روپ دے دیتی ہیں۔ ان جدید اشیاء نے جہاں ہماری زندگیوں کو آسان کر دیا ہے وہیں ایک خطرناک معاملہ یہ ہوا ہے کہ ہماری حیرتیں ختم ہوگئی ہیں۔ بچپن کے دنوں میں جب والد صاحب حج سے واپس آئے تو ساتھ ٹیپ ریکارڈر لے کر آئے۔ جب میرے کزن نے مجھے اس ریکارڈر سے میری ہی آواز ٹیپ کر کے سنائی تو میں شاک ہو گیا تھا۔ 2018 میں بچہ اب کسی حیرت کا شکار نہیں ہوتا چاہے کتنی بڑی ایجاد اس کے سامنے نہ رکھ دی جائے۔ اس نسل کو حیرت کے امکانات سے گزرنا ہی نہیں پڑتا کیونکہ وہ تو اسی جدیدAPS کے دور کے پروردہ ہیں۔ انسان نے جتنی بھی ایجادیں کی ہیں وہ سب کی سب اس کی اجتماعی فینٹسی کی پیداوار ہیں۔ انسانی فینٹسی کا سب سے بڑا اظہار فکشن میں ہوا ہے۔ ہماری داستانین اس کی اعلیٰ مثالیں ہیں جو قدیم انسان کی فینٹسی کو بیان کرتی تھیں۔ اب سائنس فکشن کے ذریعے جدید انسان کی فینٹسی کو بیان کرتی ہیں۔ مشہور امریکی سائنس فکشن ٹی وی سیریز ’’سٹار ٹریک‘‘ نے 70کی دھائی میں جو جو فینٹسی دکھائیں وہ تمام کی تمام آج ہماری زندگیوں کا حصہ ہیں۔ موبائل فون یا سیٹلائٹ فون کا تصور بھی اسی سٹار ٹریک نے دیا تھا، خداجانے ابھی انسان کی کتنی فینٹسی باقی ہیں کہ جو عملی شکل میں ہمارے سامنے آنے والی ہیں اور ان کے آنے کے بعد مزید کتنی فینٹسی جنم لیں گی۔ ہماری فینٹسی کو ملٹی نیشنل کمپنیاں زندگی عطا کرتی ہیں اور خود بھی ملین اور بلین کما لیتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ دنیا جو تھوڑی بہت نزدیک آئی ہے اس کے اثرات ہم دیکھ رہے ہیں کہ زندگی میں ایک شور اور طلاطم برپا ہو گیا ہے۔ بہت سی باتیں نہ جاننا بھی ایک نعمت ہے مگر اس گلوبلائزیشن سے میں اور آپ ہر چیز اور ہر بات سے باخبر ہوتے جاتے ہیں، آگہی بذات خود ایک عذاب ہے اور اس عذاب سے آج کا انسان خوب متاثر ہے۔ کسی کھیت کھلیان، کسی جنگل، کسی دورافتادہ گاؤں، کسی تاریک گلی، کسی صحرا اور رات کے پہر کسی قبرستان میں ہونے والی چھوٹی سے چھوٹی بات، واردات اور حادثے سے ہم لمحوں میں باخبر ہو جاتے ہیں۔ کیا انسان کو سوشل میڈیا کسی ایک لڑی میں پرونا چاہتا ہے، ایک ایسی لڑی جو رنگ ونسل، مذہب وعقیدے سے ماورا ہو۔ اگر ایسا ہے تو ان جغرافیائی حدوں کا کیا ہوگا جو دیوار برلن کی طرح انسانوں کو تقسیم کر دیتی ہیں۔ بہرحال ہم نتائج ابھی سے اخذ نہیں کر سکتے کیونکہ بنانے والے کسی خاص سوچ کے تحت کسی چیز کو بناتے ہیں لیکن استعمال کرنے والے اپنی سوچ اور ضرورت کے تحت اسے استعمال کرتے ہیں۔ ہم بھی دیکھتے ہیں کہ دنیا کے وسیع پیمانے پر آن لائن آنے کے کیا اثرات آتے ہیں۔ یہ بات تو طے ہے کہ ہماری قدیم سماجی زندگی اب مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ وہ حجرے، بیٹھکیں اور چوپالیں ویسی آباد نہیں رہیں جیسی کبھی ایک بھرپور انداز میں آباد تھیں۔ اب یہ حجرے، بیٹھکیں اور چوپالیں سمارٹ فون میں سما چکی ہیں۔ گویا آج کا انسان ایک جدید سماج میں سانس لینے لگا ہے لیکن سوالات یہاں بہت سارے جنم لیتے ہیں کہ ہم جس سوشلائزیشن میں جی رہے ہیں اس سے ہمارے رویوں، مزاجوں، رسوم ورواج اور زندگی کے دیگر حوالوں میں کیا کیا تبدیلیاں آسکتی ہیں اور کیا وہ تبدیلیاں انسانی سماج کیلئے بہتر ہوں گی یا اس کے نقصانات بھی ہمیں جھیلنا پڑیں گے۔ ان سوالوں کی بڑی وجہ سوشل میڈیا کا کوئی مستقل ضابطہ اخلاق کا نہ ہونا ہے کہ یہاں جو جس کا دل کرے کہے جو جس کا دل کرے وہ ٹیگ کرے جو بھی ہے بہرحال یہ حقیقت ہے کہ آج کا انسان ماضی کے تمام ادوار کے انسانوں سے مختلف زندگی جی رہا ہے۔ سو یہ بھی طے ہے کہ انسان اپنی زندگی کیلئے بہترین سماج مرتب کر ہی لیتا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ آ ئی ٹی کے برپا کردہ اس سوشل ماحول سے نیا انسان کیسے سمجھوتے کرتا ہے۔