Daily Mashriq


ترجیحات میں تبدیلی ضروری

ترجیحات میں تبدیلی ضروری

جادو کی چھڑی گھمائے جانے کی خواہش تو برسوں سے ہمارے دلوں میں پل رہی تھی ، امید اب جاگنے لگی ہے ۔ اب لگتا ہے کہ شاید کچھ سالوں کی محنت کا کوئی نتیجہ نکل آئے ۔ ہم سمجھ دار نظر آنے کی خواہش میں سالوں کی بات ضرور کرتے ہیں لیکن ہمارے دل و دماغ ان سالوں کو پلک جھپکنے کے عرصے میں گزرنے کے منتظر ہیں ۔ بہرحال یہ وہ کشمکش ہے جو ابھی مسلسل حقیقت اور خواہش کے درمیان تنائو کا باعث بنی رہے گی ۔ خواہشات کے پانی میں بار بار امید کے کنول کھلتے ہیں اور مرجھا جاتے ہیں ان پھولوں کی زندگی ہمارے لیے بہت کم ہے ۔ شاید چند ثانیے یا اس سے بھی کچھ کم ۔ ہم واقعی پلک جھپکتے میں سب سے چاہتے ہیں جو ظاہر ہے ممکن نہیں ۔ ہم وہ لوگ ہیں جو کبھی چند ماہ کی منصوبہ بندی نہیں کرتے لیکن چاہتے ہیں کہ ہمارے لیے ایک سو سال کی یقینی منصوبہ بندی ہو جائے اور گزشتہ پچاس سال کی برائیوں کا صدباب چند دنوں میں ہو جائے ۔ ہماری خواہشات بھی عجیب ہیں ۔ حالانکہ خواہشات ہمیشہ ہی منہ زور ہوتی ہیں ، لیکن کئی بار خواہش کی منطق اور حقیقت سے مطابقت ہو جاتی ہے۔ ایسی مطابقت جس سے اس خواہش کا انجام اور وقت صاف دکھائی دینے لگتا ہے ۔ مگر یہ فی الحال اس قوم کے حوالے سے ممکن نہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ سب اچھا ہوجائے لیکن یہ نہیں سمجھتے کہ بگاڑ پیدا کرنے میں وقت کم درکار ہوتا ہے اورسدھار کے لیے کئی گنا زیادہ ہم بڑی محنت کر کے ، جمہوریت کی گزشتہ تین دہائیوں سے کچھ زائد عرصے میں بگڑے ہیں ، سدھرنے میں تین ماہ بھی ہم دینے کے لیے تیا رنہیں۔

یہ ساری باتیں اپنی جگہ لیکن اس وقت ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تھوڑے صبر اور ہمت سے یہ وقت گزارنا ہوگا ۔ پاکستان کو بھی اپنی راہ متعین کرنی ہوگی ۔ پاکستان کو اس وقت اپنے لیے سمت تلاش کرنی ہوگی ۔ یہ ممکن نہیں کہ پاکستان صرف خواب دیکھے اور اپنے لیے محنت سے احتراز کرے ، منصوبہ بندی کی طرف رُخ نہ کرے پھر بھی اچھائی کی امید رکھے ۔ پاکستان کو سمجھنا ہوگا کہ اسے اپنی حیثیت سمجھنی ہوگی ۔ پاکستان جغرافیائی طور پر ایک ایسی جگہ پر واقع ہے جہاں وسط ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے ملکوں کے درمیان وہ راہداری کا کام کرسکتا ہے ۔ ایک ایسی راہداری جو ان کے سفر کو کئی گنا کم کر سکتی ہے ۔ ایک ایسی راہداری جو راستے کی کئی مشکلات اور کٹھنائیوں کو کم کر سکتی ہے ۔ پاکستان کو اب اپنی اس حیثیت کو سمجھنا ہوگا اور یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہم مسلسل اپنے ہمسائیوں کے شر کے خطرے ے بلبلے میں خود کو مبحوس نہیں رکھ سکتے۔ ہمیں خود کو مضبوط کرنا ہوگا ۔ اپنے آُ کو اب اس مقابلے کے لیے تیار کرنا ہوگا ۔ معیشت کے استحکام کو ہر خطرے سے زیادہ اہم سمجھتے ہوئے ، اس کی تیاری کرنا ہوگی ۔ جمہوریت کو جس خطرے کی گھنٹی بار بار لوگوں نے اپنی حکومت کے گرنے کے خوف سے وابستہ کر کے بجائی ہے ، اس کا اصل خطرہ تو یہ ہے کہ ہم نے معیشت کے استحکام کے برعکس ، خوف کے حصار کے سودے کئے ہیں اور سمجھا ہے کہ ہماری ہر پالیسی کی تعمیر ، پرداخت اور بڑھوتری میں اولین اہمیت اس خوف کی ہے ۔ یہ نہیں سمجھا کہ جب لوگوں کے مفادات ہمارے ساتھ وابستہ ہو جائینگے تو ہم اس کے نتیجے میں ان کے شر سے خود بخود محفوظ ہوجائینگے ، چین سے ہماری بہت اچھی دوستی ہے ۔ اور ہم نے یہ سبق ا ن کی دوستی سے بھی نہیں سیکھا ۔ ہم نے نہیں سیکھا کہ تجارت کے مفادات کو دیگر دشمنوں سے علیحدہ بھی رکھا جا سکتا ہے ۔ ہم نے کبھی غور سے چین اور امریکہ کے تعلقات کو نہیں دیکھا ۔ ہم نے یہ نہیں دیکھا کہ چین اپنے تمام تر اختلافات کے باوجود کس طور تجارت میں بھارت سے وابستہ ہے یہ باتیں اب سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ ہم چھوٹے بچے نہیں کہ بس دوست ہی سے تعلق رکھنا ٹھیک ہے اور اس دوست کی ذرا سی کوتاہی ہمیں اس سے متنفر کر دیتی ہے۔ ہم ایک قوم ہیں ، ایک سات دہائیوں پرانا ملک ، آمریت اور جمہوریت کے کئی سورج دیکھا ہو ا ملک ، دوسیاسی قوتوں کی رسہ کشی سے حال ہی میں آزاد ہوا ، ایک تیسری سیاسی قوت سنبھالتا ملک ۔ اب اپنی ترجیحات کا بھی تعین کرنا ضروری ہے ۔ ہم خوش ہیں کہ ہمارا وزیرخارجہ اردو میںبات کرتا ہے اور وزیراعظم شلوار قمیض پہنتا ہے لوگوں سے بات کرتے سیاست دان ، لوگوں کے درمیان نظر آتے ہیں ۔ یہ سب ہماری نفسیاتی کیفیت کے لیے بہت اچھا ہے لیکن اس سب سے اچھا ہے کہ ہمیں احساس ہو ہماری ترجیحات میںکیا تبدیلی ضروری ہے ۔ ہمیں احساس ہو کہ ہمیں اپنا کردار ، جغرافیائی اعتبار سے اپنی حیثیت سمجھنی ہوگی ۔ اب وہ وقت ہے کہ ہمیں اپنی سمت کا تعین کرنا ہوگا ورنہ ہم دوبارہ صرف خوابوں کے دھویں میں کھو جائینگے ۔ ہم دوبارہ اسی گھٹن کا شکار ہونے لگیں گے ۔ یہ وقت ہے کہ ہم خوف دور کرلیں اور دنیا کو گلے لگانے کے لئے بانہیں پھیلا لیں کیونکہ یہ وقت بہترین ہے ۔ گرہم نے اس وقت کی قدر نہ کی تو یہ وقت بھی کھو جائے گا اور راہیں بھی دوبارہ کھو جائینگی۔

متعلقہ خبریں