Daily Mashriq


مسئلہ افغانستان، نئی صورتحال

مسئلہ افغانستان، نئی صورتحال

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا افغانستان کا ایک روزہ دورہ اللہ کرے کہ دو برادر اسلامی ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں رفع کرنے اور اُخوت ومحبت کے رشتے استوار کرنے کی مضبوط بنیاد ثابت ہو۔ لیکن اگرکوئی اس کو بدشگونی پر محمول نہ کرے تو ایسا لگتا نہیں ہے کہ اس دورے سے حالت فوراً معمول پر آنا شروع ہو جائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ بہادر کی یہ خواہش اب تو ساری دنیا کو معلوم ہو چکی ہے کہ وہ افغان طالبان سے مذاکرات کے ذریعے افغان مسئلے کا حل نکالنے کا خواہاں ہے کیونکہ سترہ سالہ جنگ سے وہ نتائج برآمد نہ ہو سکے جو امریکہ اور نیٹو افواج کی خواہش تھی، امریکہ اور طالبان کے درمیان قطر میں مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں لیکن اُن میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔ افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے امریکہ مسلمان ملکوں میں سعودی عرب اور پاکستان کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان پر مختلف قسم کے دباؤ ڈال کر اور سعودی عرب کو اپنے اتحادی اور دوست کی حیثیت سے طالبان کو مذاکرات کیلئے راضی کرنے کیلئے اپنے مذہبی احترام ومقام کو استعمال کروانا چاہتا ہے۔اسی تناظر میں جولائی میں سعودی عرب میں او آئی سی کے زیر اہتمام مسلمان علماء اور دانشوروں کی ایک کانفرنس کا انعقاد بھی ہوا جس سے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلیمان بن عبدالعزیز نے خطاب کرتے ہوئے افغانستان میں جتنا جلد ممکن ہو، امن کے قیام کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس مقصد کیلئے انہوں نے افغان حکومت اور طالبان سے پُرزور اپیل کی کہ جتنا جلد ممکن ہو افغان مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے۔ افغانستان میں امن سعودی عرب کی ترجیحات میں شامل ہے۔ یہ بات بہت خوش آئند ہے کہ سعودی عرب کو افغانستان میں قیام امن کی فکر پڑ ہی گئی ہے حالانکہ ایسے ہی موقع پر کہا جاتا ہے کہ بہت دیر کی مہرباں آتے آتے۔ سعودی عرب کے حکمرانوں کے مذہبی تقدس اور وقار واحترام سے عالم اسلام میں بہت کم لوگوں کو اختلاف ہوگا اگرچہ مشرق وسطیٰ میں سیاسی امور ومعاملات اور قضیوں کے سبب سعودی عرب کے کردار سے بعض لوگوں کو شدید اختلاف بھی ہے لیکن اس کے باوجود بقول شاعر

تہمت ہی سہی دامن یوسف پہ مگر

مصر میں اب بھی زلیخا کی سنی جاتی ہے

لہٰذا پاکستان، ترکی، افغانستان، بنگلہ دیش اور مصر جیسے ملکوں میں اب بھی خادم الحرمین الشریفین کی بات پر لوگ کان دھرتے ہیں اور عالم اسلام امت کے اہم معاملات میں مرکز اسلام اور حرمین الشریفین کے سبب ان سے عدل وانصاف کے مطابق ایک حکم (جج) اور ہمدرد ثالث کی توقعات رکھتی ہے۔عالم اسلام کے اہم قضیوں (ایشوز) مسئلہ فلسطین‘ مسئلہ کشمیر اور مسئلہ افغانستان کے گمبھیر ہونے کا سبب یہ ہے کہ او آئی سی کی سطح پر امت واحدہ کی حیثیت سے صحیح موقع پر آواز بلند نہیں ہوئی اور نہ ہی ان مسائل کے راز سمجھنے کی کوشش ہوئی۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں دنیا بھر کی اقوام نے فلسطین میں دو ریاستوں کی بات تسلیم کی لیکن اسرائیل ’’میں نہ مانوں‘‘ کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔ اسی طرح مقبوضہ جموں وکشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ میں کشمیریوں کی حق خودارادیت کی اکثریت سے پاس کی ہوئی قراردادوں پر عمل درآمد کیلئے امت مسلمہ نے متحد ہو کر امریکہ‘ اقوام متحدہ اور بھارت پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا۔ اسرائیل اور بھارت کے عالم اسلام کے کئی ملکوں کیساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات جاری وساری ہیں اور ان دونوں خطوں کے بے گناہ مسلمانوں کے خون سے ان کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں۔اسی طرح اس وقت افغان طالبان پر مذاکرات کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور اس کی سزا پاکستان کو بھی ’’ ڈو مور‘‘ کی صورت میں مل رہی ہے۔ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے سے کسی باشعور اور ذمہ دار شخص کو انکار نہیں ہو سکتا اور طویل جنگوں کے بعد دنیا بھر کے مسائل مذاکرات کی میز پر ہی حل ہوئے ہیں لیکن مذاکرات تب کامیاب ہوتے ہیں جب فریقین ایک دوسرے کی معقول یا اصول اور قانون وعرف و رواج پر پورے اترنے والے مؤقف کو اس نیت سے سنے کہ مسئلہ حل کرنا ہے۔افغانستان کے مسئلے کے حل کیلئے اس بات کو اہمیت دینا ہوگی کہ افغانستان میں طالبان اس وقت تقریباً 60فیصد حصے پر اپنی عملداری رکھتے ہیں اور وہ افغانستان میں قائم موجودہ حکومت کو لیگل نہیں سمجھتے بلکہ اس کو بیرونی قوت کے سہارے قائم ایک کٹھ پتلی حکومت کا درجہ دیتے ہیں۔ اس لئے وہ کہتے ہیں کہ ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں لیکن اصل فریق امریکہ کیساتھ نہ کہ کابل حکومت کیساتھ اور امریکہ کیساتھ بامقصد مذاکرات کی ایک ہی شرط ہے کہ افغانستان سے اتحادی افواج کا اخراج وانخلا ہوگا جبکہ امریکہ انخلا کے بغیر مذاکرات کے ذریعے طالبان میں قیادت کا متلاشی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ فریقین دو انتہاؤں پر ہیں اور ایسے میں مذاکرات کامیاب ہونے کی امیدیں بہت کم رہ جاتی ہیں۔یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ طاقت کے زور پر اور فوجی قوت کے دباؤ کے تحت کئے گئے معاہدے کبھی دیرپا نہیں ہوتے اور امریکہ کیلئے تو ویت نام جنگ کی مثال بھی موجود ہے۔ جنگیں بعض اوقات مخالف قوتوں کو مذاکرات کیلئے تیار کرنے تک ہی کافی ہوتی ہیں۔ لہٰذا کامیاب اور بامقصد مذاکرات کیلئے امریکہ کو اب افغانستان سے فوجیں نہ نکالنے کے مؤقف پر غور کرنے کی ضرورت ہوگی اور ساتھ ہی طالبان کو مذاکرات کے ذریعے اس بات پر آمادہ کرنا کہ امریکہ افغانستان کی تعمیرنو کیلئے مدد دے گا اور افغانستان میں قیام امن ممکن ہوسکے گا اور سعودی عرب وپاکستان اور ساری دنیا سکھ کا سانس لے سکے گی ورنہ جنگیں تباہی وبربادی ہی کا سبب ہوتی ہیں۔

متعلقہ خبریں