Daily Mashriq


بینکنگ نظام میں اسقام

بینکنگ نظام میں اسقام

اس وقت تقریباً 95لاکھ قانونی پاکستانی سمندرپار ہیں جس میں 55لاکھ کے قریب پختون ہیں۔ یہ سمندرپار پاکستانی وطن عزیز کو 20ارب ڈالر بھیجتے ہیں جو ہمارے وفاقی بجٹ کا آدھا ہے اور یہ لوگ ہماری دھرتی کا بڑا اثا ثہ ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ان کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔ یہ انتہائی افسوس کی بات ہے، ہمارے حکمران ہمیشہ ایسی پالیسیاں بناتے ہیں جن میں غریب عوام کے مفادات کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا اور ان کو مزید ٹیکسوں تلے دبایا جاتا ہے۔ حکومت نے کچھ عرصہ پہلے ایک ظالمانہ ٹیکس لگایا ہے جو پسے ہوئے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ جو لوگ بینکوں میں رقوم جمع کرائیں یا بینک سے پیسے نکالیں گے یا چیکس کے ذریعے ایک بینک سے رقم دوسرے بینکوں میں ٹرانسفر کریں گے تو تمام اسم پر عمل صارف 0.6ٹیکس ادا کرے گا یا اگر ایک بینک سے اُسی بینک کے دوسرے برانچ کو پیسے ٹرانسفر کریں گے تو اس صورت میں صارف کو 0.4 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

مثال کے طور اگر بینک صارف بینک سے ایک لاکھ روپے نکالے گا تو اس صورت میں صارف کو 600 روپے ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ اگر وہ ان پیسوں کو بار بار اپنے اکاؤنٹس سے نکالے اور جمع کرتا رہے گا تو باربار صرف اس پر ٹیکس دینا پڑے گا اور یہی وجہ ہے کہ عام صارفین نے بینکوں سے پیسے نکالنا شروع کر دیئے ہیں اور وہ اپنے پیسے کسی صورت بینکوں میں نہیں رکھتے اور اسی وجہ سے بینکوں کا کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بینکوں کے ذریعے سالانہ 7ٹریلین یعنی7ہزار ارب روپے کا کاروبار ہوتا ہے اور اس قسم کے کا روبار اور 0.6 فیصد ٹیکس سے 40ارب روپے فائدہ ہوتا ہے مگر اس کا منفی اثر یہ ہوا کہ اب عام صارفین بینک میں پیسے نہیں رکھتے کیونکہ اس طرح سے عام صارفین فضول ٹیکس اداکرتے ہیں حالانکہ انہی پیسوں پر صارفین مختلف شکلوں میں پہلے سے ٹیکس ادا کرتے رہتے ہیں۔

یہاں یہ بات اہم ہے کہ بینکوں کے 0.6فیصد ٹیکس کی وجہ سے سمندر پار پاکستانی اپنی رقوم بینکوں کے بجائے ہنڈی کے ذریعے بھیجتے ہیں۔ سیکورٹی ایکسچینج کے سربراہ کے مطابق سمندر پار پاکستانی تقریباً 17ارب ڈالر ہنڈی کے ذریعے پاکستان بھیجتے ہیں۔ جس سے ملک کی معیشت کو نقصان پہنچتا ہے۔ اگر حکومت اور بینکوں نے 0.6فیصد ٹیکس ختم کیا اور سمندر پار پاکستانیوں کیلئے آسانیاں پیدا کی گئیں تو وہ بینکوں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ رقوم پاکستان بھیجیں گے جس سے پاکستان کی معیشت کو زیادہ فائدہ ہوگا۔

یہاں یہ بات اہم ہے کہ اب عام لوگ بینکوں میں پیسے نہیں رکھتے اور کاروبار کیلئے بڑی بڑی رقوم ایک شہر سے دوسرے شہر تجارت اور کاروبار کیلئے ذاتی طور پر لے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ڈاکہ زنی اور راہ زنی میں اضافہ ہوا اور گزشتہ دنوں جب کاروباری حضرات ایک جگہ سے دوسری جگہ پیسے منتقل کر رہے تھے تو اُن پر ڈاکہ پڑا جس سے وہ ایک بُہت بڑی رقم سے محروم ہو گئے۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ اس وقت مختلف ممالک میں95لاکھ سمندر پار پاکستانی ہیں جس میں خیبر پختونخوا سے 55لاکھ اور پنجاب سے 22لاکھ پاکستانی بیرون ممالک میں ہیں۔ اگر بینکوں نے ٹیکس ختم کر دیا تو یہ لوگ بینکوں کے ذریعے رقوم بھیجیں گے جس سے وطن عزیز کو بے تحاشا فائدہ ہوگا۔ آج کل بینکوں کے ملازمین ہاتھ پہ ہاتھ دھرے مکھیاں ما رہے ہیں کیونکہ ان کا کوئی کام نہیں۔

لہٰذا اس کالم کی توسط سے وزیراعظم پاکستان اور وزیرخزانہ سے استدعا کرتا ہوں کہ وہ یہ ٹیکس جلدی ختم کریں۔ ہم تھوڑے سے فائدے کی خاطر بڑا نقصان کر رہے ہیں۔

اگر دیکھیں توعالمی سطح پر ہنڈی کا کاروبار ممنوع ہے کیونکہ ہنڈی کے کاروبار کے بارے میں زیادہ تصور کیا جاتا ہے کہ یہ عالمی دہشتگردی میں بروئے کار لایا جاتا ہے اور ہنڈی کے ذریعے رقوم کی ترسیل ایک بین الاقومی جرم سمجھا جاتا ہے۔ بین الاقومی ادارہ برائے روک تھام جرائم اور منشیات کے کاروبار، منشیات، انسانوں کی سمگلنگ، غیرقانونی طور پر لڑکیوں کی سمگلنگ، اغوا برائے تاوان کو بین الاقومی جرم گردانتا ہے۔

ہنڈی کے ذریعے لوگ اس لئے رقوم بھیجتے ہیں کیونکہ اس کا طریقہ بینکوں کے ذریعے آسان ہے۔ لہذا حکومت کو چاہئے کہ0.6فیصد ٹیکس ختم کرنے کیساتھ ساتھ بینکنگ کے نظام کو مزید آسان، سہل بنایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ صارفین اور سمندر پار پاکستانی بینکوں کے ذریعے رقوم جمع کریں اور بیرونی ممالک سے بینکوں کے ذریعے رقم بھیجیں۔ جہاں تک ہنڈی کاروبار ختم کرنے کا تعلق ہے تو ان لوگوں کو متبادل روزگار دیا جائے تاکہ وہ بیروزگار نہ ہوں۔ ان کو حکومت کی طرف سے قرضہ حسنہ دیا جائے تاکہ یہ لوگ ہنڈی کے متبادل کسی اور کاروبار شروع کر سکیں۔

کیونکہ یہ ہنڈی کاروبار بھی ایک غیرقانونی صنعت ہے اگر اس غیرقانونی صنعت کیساتھ بھی بڑے لوگوں کا رزق اور کاروبار وابستہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو چاہئے کہ وہ ملکی بینکنگ سسٹم کو ٹھیک کرنے پر توجہ دیں۔

متعلقہ خبریں