Daily Mashriq

آٹے کی قلت کا خدشہ

آٹے کی قلت کا خدشہ

پشاور کے نانبائیوں نے پورے صوبے میں آٹے کی قلت کے خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں اس وقت گندم کے ذخیرے کا نصف باقی ہے تاہم ضرورت پوری کرنے کے لئے اگر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو خیبر پختونخوا کو آٹے کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ گزشتہ روز انجمن نانبائیان ایسوسی ایشن حقیقی گروپ نے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ محمود خان سے اپیل کی کہ وہ گندم کے ذخیرہ کی کمی دور کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ڈیڑھ کروڑ ٹن گندم ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے تاہم اس وقت صرف 75لاکھ ٹن گندم باقی ہے۔ اگر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جہاں تک صوبے میں گندم کی کمی کے خدشات کا تعلق ہے یہ بات بہت حد تک درست اس لئے قرار دی جاسکتی ہے کہ ہفتہ 14ستمبر کے اخبارات میں اسی حوالے سے ایک خبر شائع ہوئی تھی جس کے مطابق افغانستان اور وسط ایشیاء ریاستوں کے لئے گندم کی برآمد پر پابندی عائد کردی گئی اور اس کی وجہ گندم کے سرکاری ذخائر میں نمایاں کمی کی اطلاعات ہیں۔ اس ضمن میں وزارت تجارت نے بھی خیبر پختونخوا حکومت کو آگاہ کردیا ہے۔ ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ملک بھر میں مختلف سیکٹرز میں ایسی مافیا موجود ہیں جو یا تو حکومت کو غلط اعداد و شمار پیش کرکے متعلقہ شعبوں میں بڑے پیمانے پر برآمدات کی اجازت حاصل کرلیتی ہیں یا پھر جہاں تک افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کا تعلق ہے تو ان اطراف میں ہر سال آٹے اور گندم کی سمگلنگ سے ملکی ضروریات کو دبائو میں لایا جاتا ہے۔ ماضی میں سستے داموں چینی کی برآمد اور ازاں بعد ملک میں چینی کی قلت پیدا ہونے سے انتہائی مہنگے نرخوں چینی کی درآمد سے عوام کو مہنگائی کا عذاب بھگتنے کی داستان اب بھی لوگوں کو یاد ہے۔ اب جو یہ خدشہ نانبائی ایسوسی ایشن نے ظاہر کیا ہے اسے اگر وزارت تجارت کی تنبیہہ کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کی حقانیت پر کسی شک کا گمان گزرنے کاسوال ہی نہیں اٹھتا‘ اس لئے صوبائی حکومت کے ذمہ دار حلقوں کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہئے اور صوبے میں گندم کی مبینہ کمی کا تدارک کرنے کے لئے ضروری اقدام اٹھانے پر فوری توجہ دینی چاہئے تاکہ آٹے کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس سلسلے میں گندم اور آٹے کی افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لئے ہونے والی سمگلنگ پر توجہ دینا ضروری ہے۔ اب تو قبائلی علاقے صوبے میں ضم ہوچکے ہیں اس لئے صوبائی حکومت کے متعلقہ اداروں کے پاس یہ جواز بھی باقی نہیں رہا کہ ہم کیا کریں پرمٹ تو مرکز سے جاری ہوتے ہیں۔ اس لئے اگر سمگلنگ کو سختی سے روکا جائے تو مسئلہ بڑی حد تک ختم ہوسکتا ہے اور امید ہے کہ صوبے میں آٹے کی قلت پیدا نہیں ہوگی۔

نانبائیوں کی بھی خبر لیجئے!

اب تک تو تندوری روٹی کی قیمت میں اضافہ اور وزن میں کمی کی بڑی وجہ نانبائیوں کی طرف سے یہ شکایت تھی کہ تندوروں کے لئے گیس کے نرخ باوجود حکومتی اعلان کے کم نہیں کئے جاسکے اس لئے وہ روٹی کی قیمت میں اضافے پر مجبور ہیں۔ اس دوران میں ضلعی انتظامیہ اور نانبائی ایسوسی ایشن کے مابین وزن میں کمی بیشی اور قیمت میں رد و بدل کے حوالے سے جو آنکھ مچولی کھیلی جاتی رہی اور جس پر عوامی حلقوں نے شدید احتجاج بھی کیا جبکہ یہ معاملہ عدالت تک بھی جا پہنچا مگر بالآخر تصفیہ ہوجانے کے بعد صورتحال کسی حد تک معمول پر آتو گئی البتہ بعض علاقوں میں اب بھی حالات نارمل نہیں ہوئے اب جبکہ حکومت نے تندوروں کے لئے گیس کے کمرشل نرخوں میں اضافہ واپس لیا ہے مگر نانبائیوں نے روٹی کی قیمت کم کرنے اور وزن بڑھانے سے انکار کردیا ہے اور شہر کے کئی علاقوں میں اب بھی کم وزن کی روٹی کھلے عام دھڑلے سے فروخت کئے جانے کی اطلاعات ہیں جو عوام کا استحصال کرنے کے مترادف ہے۔ اس صورتحال میں محولہ نانبائیوں کے غلط موقف کی تائید ہر گز نہیں کی جاسکتی کہ آٹے کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے مقررہ وزن کی روٹی دس روپے میں فروخت نہیں کرسکتے۔ انتظامیہ کو اس صورتحال کا سخت نوٹس لینا چاہئے اور نانبائیوں کے ہاتھوں عوام کا استحصال بند کرانا چاہئے۔

بجلی کا طویل بریک ڈائون

اخباری اطلاعات کے مطابق پشاور کے مضافاتی علاقے ارمڑ کے قریب تربیلا سے بجلی کی سپلائی لائن ٹوٹنے کی وجہ سے پشاور سمیت چار اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈائون رہا جس کے نتیجے میں لا تعداد گھروں کی بجلی معطل رہی یا پھر لوڈشیڈنگ کی بدترین صورتحال سے عوام دوچار رہے۔ اگرچہ متبادل ذرائع سے برقی رو بحال رکھنے کی کوشش کی گئی مگر ہر آدھے گھنٹے بعد ایک ایک گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نے عوام کو عذاب سے دوچار کئے رکھا اور عوام احتجاج پر بھی مجبور ہوئے۔ یہاں تک کہ لوگ پانی کی بوند بوند کو ترستے رہے اس لئے کہ ہر آدھے گھنٹے بعد بجلی معطل کئے جانے سے ٹیوب ویل بھی بند رہے اور صورتحال کی وضاحت اس وقت کی گئی جب معاملہ حل ہوگیا۔ حالانکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ جیسے یہ مسئلہ پیدا ہوا تھا اسی وقت الیکٹرانک میڈیا‘ سوشل میڈیا پر اعلانات کئے جاتے اور اگلے روز کے اخبارات میں خبریں لگوائی جاتیں تو کم از کم میونسپل ادارے متاثرہ علاقوں کو پانی کے ٹینکر روانہ کرکے پانی کی قلت پر قابو پانے کی کوشش تو کرتے اور عوام بھی احتجاج کرنے کی بجائے درستی کا انتظار کرتی۔

متعلقہ خبریں