Daily Mashriq

فضائی حدود کی بندش کی کہانی (آخری حصہ)

فضائی حدود کی بندش کی کہانی (آخری حصہ)

طیارے اغواء‘ اسے لاہور میں اتارنے اور بعد ازاں جلائے جانے سے پاکستان نے جو نتائج بھگتے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ گوگل پر دستیاب معلومات کے حوالے سے پہلے بھی یہ بات لکھ دی ہے کہ اس طیارے کے اغواء کو سازش کے طور پر استعمال کرنے کا ایک بہت بڑا ثبوت یہ ہے کہ یہ طیارہ اڑان کے لئے ناکارہ ہونے کی وجہ سے فضائی بیڑ ے سے نکال کر گرائونڈ کردیاگیا تھا۔ مگر پرواز سے صرف دو تین روز پہلے اس کا پھر فضائی سفر کے لئے استعمال کرنے کا مقصد ہی یہ تھا کہ اس کو پرزے پرزے کرنے سے بہتر ہے کہ اس کو پاکستان میں جلاکر سازش کو کامیاب بنایا جائے کہ طیارہ تو ویسے بھی ناکارہ تھا اور اسی بہانے پاکستان کے لئے بھارت کی فضائی حدود بند کرکے مشرقی اور مغربی پاکستان کا فضائی رابطہ منقطع کرکے مشرقی پاکستان میں موجود فوج کے لئے کمک کا راستہ بند کردیا جائے تاکہ آگے چل کر پاکستان کو دو لخت کرنے کی سازش کو کامیاب کیا جاسکے۔ اس موقع پر پاکستان کے ذہین قرار دئیے جانے والے سیاسی رہنماء ذوالفقار علی بھٹو کے کردار پر بھی بعض سوال اٹھتے ہیں‘ اگرچہ پاکستان کو دو لخت کرنے والے اہم کرداروں میں اندرا گاندھی اور شیخ مجیب الرحمن کے ساتھ ساتھ بعض حلقے بھٹو مرحوم کو بھی شامل کرتے ہیں تاہم اگر اس الزام کو ان کے خلاف سیاسی مخالفین کا منفی پروپیگنڈہ قرار دے بھی دیا جائے تو اس بات پر حیرت کا اظہار نہیں کیا جانا چاہئے کہ گنگا کے اغواء کاروں اشرف قریشی‘ ہاشم قریشی کے اس ’’ کارنامے‘‘ کی تحسین کرتے ہوئے شدت جذبات میں بھٹو مرحوم نے ان کاجلوس نکال کر لاہور میں گھمایا تو انہیں اس وقت یہ احساس کیوں نہ ہوسکا کہ طیارے کا اغواء سوچی سمجھی سازش بھی ہوسکتی ہے اور یہ مکار بنئیے کی چال ہے بلکہ اس سے وہ ضرب المثل بھی بالکل درست ثابت ہوئی کہ بنیئے کا بیٹا کچھ دیکھ کر ہی گرتا ہے۔ گویا بھٹو جیسا زیرک شخص بھی بھارت کی چال سمجھنے سے قاصر رہا۔ بھٹو مرحوم نے بعد میں بھی کبھی اپنی اس غلطی کا اعتراف نہیں کیا کہ وہ بھی بھارتی سازش کو بھانپنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ بقول شکیب جلالی

ضرور دھوکے میں منزل سے دور آپہنچے

جھجک رہا ہے بہت راہبر بتانے میں

دوسرا کردار جیسا کہ پہلے بھی اشارۃً عرض کر چکا ہوں‘ مقبول بٹ کا ہے‘ اس شخص کی سرگرمیاں بھی اسرار کے دبیز پردوں میں پڑی ہیں۔ دہلی کی تہاڑ جیل کے بارے میں یہ بات ایک اٹل حقیقت کے طور پر تسلیم شدہ ہے کہ وہاں سے بھاگ نکلنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس میں قطعاً شک نہیں کہ موصوف نے ابتداء میں مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے خلوص دل سے کوششیں کیں اور اس حوالے سے وہ خفیہ طور پر مقبوضہ وادی میں روابط کی وجہ سے بھارت کو مطلوب تھا اور بالآخر وہ بھارتی سیکورٹی ایجنسیوں کے ہتھے چڑھ کر بے پناہ مظالم سہتا ہوا تہاڑ جیل کی ناقابل تسخیر بلند دیواروں کے پیچھے پہنچ گیا مگر پھر اچانک وہ بھاگ نکلنے میں ’’ کامیاب‘‘ ہوگیا‘ مگر کیسے؟ ظاہر ہے بھارتی ایجنسیوں نے اسے کسی مقصد کے لئے ہی ’’ مواقع‘‘ فراہم کئے ہوں گے کہ وہ نہ صرف وہاں سے بھاگ نکلے بلکہ سرحد پار کرکے واپس پاکستان پہنچ سکے مگر جب گنگا طیارے کا اغواء ہوا تو وہ اچانک سامنے آگیا جبکہ بعد میں اس کو سازش قرار دئیے جانے کے بعد دیگر ڈیڑھ سو افراد کے ساتھ مقدمہ بھگتنے‘ جیل کی ہوا کھانے کے بعد بالآخر عدالت سے ریلیف ملنے کے بعد کچھ عرصے بعد وہ ایک بار پھر خاموشی کے ساتھ مقبوضہ وادی چلاگیا مگر اب کی بار بھارتی سیکورٹی ایجنسیوں نے اسے گرفتار کیا تو اسی تہاڑ جیل میں اسے پھانسی لگا کر اس کے کردار کی پراسراریت کو مزید پر اسرار بنا دیا کہ اب کی بار اس پر پاکستان کے لئے جاسوسی کا الزام لگا کر موت کی سزا دی گئی اور تہاڑ جیل ہی کے احاطے میں خاموشی کے ساتھ زمین کا رزق بنا دیا۔ البتہ اس کے کردار کے حوالے سے جو سوال اٹھ رہے ہیں ان کاجواب شاید تاریخ کسی وقت ڈھونڈ سکے۔

بے وجہ تو نہیں ہیں چمن کی تباہیاں

کچھ باغباں ہیں برق و شرر سے ملے ہوئے

گنگا طیارے کے بعد بھارت کا ایک اور طیارہ 24اگست 1984ء کو جو چندی گڑھ سے سری نگر کے لئے پرواز پر تھا اور جس میں 100مسافر سوار تھے اسے مبینہ طور پر خالصتان کے حامیوں نے اغواء کیا تاہم منزل مقصود کی بجائے اسے لاہور میں اتارا گیا جہاں سے پہلے اسے کراچی اور پھر متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت دوبئی میں اترنے پر مجبور کردیاگیا ‘ چونکہ پاکستان کو اس سے پہلے گنگا طیارے کے اغواء کا انتہائی تلخ تجربہ ہوچکا تھا اس لئے اغواء کاروں کو لاہور سے کراچی اور پھر دوبئی جانے پر آمادہ کرکے اس مصیبت سے جان چھڑائی گئی۔ یہ ایک الگ داستان ہے مگر گنگا نے پاکستان کو دو لخت کرنے میں جو بنیادی کردار اداکیا اس کے بعد پاکستان کی حکومت اور سیکورٹی حکام بہت چوکنا چکے ہیں اور وہ ایسے معاملات میں پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہیں جبکہ تازہ صورتحال بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں اٹھائے جانے والے اقدامات اور پلوامہ واقعے کے بعد بالا کوٹ میں بھارتی فضائیہ کے حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے تحت پاکستان کی جانب سے بھارتی طیاروں کے لئے پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے لئے اقدامات اٹھانے کی سوچ ہے جسے کسی اور تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ یعنی حال ہی میں بھارت کے صدر کو آئس لینڈ جانے کے لئے پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت تو نہیں دی گئی البتہ بھارتی طیاروں کے لئے مکمل بندش کو یہ کہہ کر فی الحال التواء میں رکھا جا رہا ہے کہ اس سے پاکستان کے اقتصادی مفادات وابستہ ہیں اوریہ معاملہ کیس ٹو کیس کے حوالے سے دیکھا جائے گا۔ اگر اس منطق کو تسلیم کرلیا جائے تو پھر جو مسلمان ممالک بھارت کے وزیر اعظم کو اعلیٰ سول ایوارڈز سے نواز چکے ہیں ان سے گلہ کیوں؟ کہ ان کے بھی تو بھارت کے ساتھ اقتصادی مفادات وابستہ ہیں‘ بقول عبدالرحمن فاروقی

اوروں کا احتساب تو کرتے ہیں روز روز

آئو کہ آج اپنے گریباں میں جھانک لیں

متعلقہ خبریں