Daily Mashriq

کمبخت مال کی محبت

کمبخت مال کی محبت

گرمی طرح طرح کے چولے بدلتی ہے پہلے ہماراخیال تھا کہ گرمی تو بس گرمی ہے اب پتہ چلا کہ نہیں جناب گرمی بھی گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی ہے ۔ ہاڑ ، ساون اور بھادوں انہیں گرمی کا عروج کہاجاتا ہے ان سے بندہ بچ جائے تو زندگی کی امید پیدا ہوجاتی ہے نئی نسل کی آسانی کے لیے ہم انہیںجون ، جولائی ، اگست ہی لکھ دیتے ہیں ہاڑ میں دھوپ بڑی تیز ہوتی ہے اور sunstrokeکا خطرہ ہمیشہ رہتا ہے اسے عرف عام میں تائو پڑنا کہتے ہیںگرمی کے حملے سے بچنے کے لیے لوگ سرپر رومال رکھ کر یا ٹوپی پہن کر گھر سے نکلتے ہیں کچھ وضع دار باقاعدہ اپنے سر پر چھتری تانے دھوپ میں چلتے پھرتے دیکھے جاسکتے ہیںتائو پڑجائے تو جان کے لالے پڑجاتے ہیں ایک دم سے پسینہ نکلنا بند ہوجاتا ہے شدید بخار حملہ کردیتا ہے اس میں بندہ ادھ موا ہوجاتا ہے اگر حملہ زیادہ شدید ہو تو بندہ بیہوش ہوجاتا ہے ہاڑ کے بعد اس کے چھوٹے بھائی ساون کی آمد ہوتی ہے ہمارے بہت سے مہربان اسے ہندوستان یا پنجاب والا ساون سمجھتے ہیں باغوں میں پڑے جھولے ۔ تم بھول گئے ہم کو ہم تم کو نہیں بھولے۔ موسلادھار بارشیں برستی ہیں مزے مزے کے پکوان پکائے جاتے ہیں یوں کہیے وہ ساون کو گرمی کہتے ہی نہیں بس ساون کہتے ہیں جس پر شاعروں نے بڑے خوبصورت گیت لکھے ہیں اور گلوکاروں نے انہیں بڑی خوبصورتی کے ساتھ گایا ہے : ساون آئے ساون جائے ۔ تجھ کو پکاریں گیت ہمارے ۔کتنی بہاریں بیت چکی ہیں تیرے ملن کی آس لگائے۔ہمارے یہاں ساون بہت ہی مختلف ہوتا ہے اسے ہندکو میں سونڑ اور پشتو میں پشہ کال کہتے ہیںایک آدھ بار بارش ہوجائے تو ہوجائے ورنہ سارا ساون پسینے میں تر بتر ہی گزرتا ہے نمی بہت زیادہ ہوتی ہے اب بھادوں کا چل چلائو ہے یہ جاتے جاتے اپنا زور دکھا رہا ہے دو چار دنوں کا مہمان ہے اس کے بعد اسو کی آمد آمد ہے اسو میں رات ٹھنڈی ہوتی ہے اور دھوپ بڑی تیز ہوجاتی ہے کہتے ہیں اسو کی دھوپ سے گدھا بھی بھاگا ہوا ہے راتیں ٹھنڈی اور دن گرم یہ بخار کے دن ہوتے ہیں۔ دراصل یہ اتنی بہت سی باتیں جو موسموں کے حوالے سے حضرت انسان نے ایجاد کر رکھی ہیں یہ اس بات کی علامت ہیں کہ موسموں کے اثرات انسانی مزاج پر بہت زیادہ ہوتے ہیںپہلے لوگ موسموں کو اپنی اپنی خصوصیات کے حوالے سے دیکھتے تھے جیسے لسی پینے کے شوقین گرمی کا انتظار کرتے تھے گرمی کی تعریف کی ایک وجہ آم جیسا پھل بھی ہے کیا مزے کا پھل ہے اس کی بہت سی قسمیں ہیں لنگڑا، مالوہ، سندری، انورراٹول ، چونسہ وغیرہ ! ہمیں تو آم کے حوالے سے مرزا غالب کی بات میں بڑا وزن نظر آتا ہے اسی طرح جب ایک محفل میں آم کی نسلوںکے حوالے سے بات ہورہی تھی سب اپنے پسندیدہ آم کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملارہے تھے جب غالب سے پوچھا گیا کہ انہیں کون سا آم پسند ہے تو انہوں نے کہا تھاکہ بس آم میٹھے ہوں اور زیادہ ہوں !واہ کیا بات ہے!یقینا آم کھانے سے جی نہیں بھرتا یہ ہماری نظر میں پھلوں کا بے تاج بادشاہ ہے!کہتے ہیں ہر دور کے اپنے تقاضے اور ضروریات ہوتی ہیں آج ہم جس دور میں جی رہے ہیں اس میں بھی گرمی اور سردی کی باتیں کی جاتی ہیںکسی کو گرمی اچھی لگتی ہے تو کسی کو سردی سے پیار ہے !کل ایک مہربان موسموں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہہ رہے تھے جناب اونٹ سے کسی نے پوچھا کہ پہاڑ پر چڑھنا بہتر ہے یا اترنا !اونٹ جو پہلے ہی سے جلا بھنا بیٹھا ہوا تھا کہنے لگا دونوں پر خدا کی لعنت ہو! پھر کہنے لگے جناب ہماری سردی کیا اور گرمی کیا؟ سردیاں آتے ہی ہم پریشان ہوجاتے ہیں کہ اب سوئی گیس کے بھاری بھرکم بل بھی ادا کرنے پڑیں گے گیس کے نرخوں میں اتنی بے رحمی کے ساتھ اضافہ کیا گیا ہے کہ سفید پوش آدمی کو جان کے لالے پڑ گئے ہیں اسی طرح گرمیوں میں بجلی کے ہیوی ویٹ قسم کے بل ہماری مالی پریشانیوں میں اضافہ کردیتے ہیں!ہم نے ان سے جان کی امان چاہتے ہوئے کہا جناب گیس اور بجلی کے بلوں کا رونا تو چلیں موسموں کے ساتھ جڑا ہوا ہے ایک اور بل بھی ہے جو سدا بہار ہے ہر موسم میں اس کا جوبن برقرار رہتا ہے اسے عرف عام میں سکول کی فیس کہا جاتا ہے نجی تعلیمی اداروں کو گرمیوں کی چھٹیوں کی فیس نہ لینے کا کہا گیا تھا لیکن کس کو کہہ رہے ہو؟ وہ اب کہتے ہیں کہ جناب مقدمہ عدالت میں ہے چند دنوں بعد فیصلہ آنے والا ہے آپ گرمی کی چھٹیوں کی فیس جمع کروادیں اگر فیصلہ ہمارے حق میں نہ ہوا تو آپ کی ادا کی ہوئی فیس واپس کردی جائے گی ۔ایک نجی تعلیمی ادارہ جس کی برانچیں گنی جاسکتی ہیں اور نہ بسیں ! اس کے مالکان دیکھتے ہی دیکھتے کروڑوں میں کھیلنے لگے ہیں انہوں نے اپنے ٹیچنگ سٹا ف کو گرمی کی چھٹیوں کی تنخواہ دینے سے انکار کردیا ہے دلیل یہ دیتے ہیں کہ اگر ہمیں بچوں سے گرمی کی چھٹیوں کی فیس وصول ہوجائے تو ہم بھی تنخواہیں ادا کردیں گے !یہ بنیا سوچ ماڈل ہے ! یہ مختلف حوالوں سے جن میں سکول یونیفارم، کتابیں کاپیاں ، امتحان کے لیے سٹیشنری اور دوسرے بہت سے دائو پیچ شامل ہیں طالب علموں سے اتنا کچھ وصول کر لیتے ہیں کہ ٹیچنگ سٹاف کی تنخواہوں کی ادائیگی ان کے لیے کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے لیکن اب اس کا کیا علاج کہ مال کی محبت کمبخت ایسی چیز ہے جس میں کمی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ یہ روز بروز بڑھتی ہی رہتی ہے !۔

متعلقہ خبریں