Daily Mashriq

’دال چاول‘کا ٹھیلہ لگانے والے نوجوان کا پولیس افسر بننے تک کا سفر

’دال چاول‘کا ٹھیلہ لگانے والے نوجوان کا پولیس افسر بننے تک کا سفر

پاکستانی شائقین جلد ہی ایک اعلیٰ پولیس افسر کی جانب سے بنائی جانے والی فلم ’دال چاول‘ کو بڑے پردے پر دیکھ سکیں گے۔

’دال چاول‘ کی کہانی ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) رینک کے پولیس افسر اکبر ناصر خان نے لکھی ہے اور انہوں نے ہی اس فلم کو پروڈیوس کیا ہے۔

اکبر ناصر خان ’سیف سٹی پاکستان‘ منصوبے کے پنجاب کے انچارج ہیں اور وہ اس فلم کو بنانے سے قبل بھی پولیس کی خدمات پر متعدد مضامین تحریر کر چکے ہیں۔

فن کلب پروڈکشن کے بینر تلے بنائی جانے والی ’دال چاول‘ کی ہدایات اویس خالد نے دی ہیں جب کہ اس کے گانوں میں راحت فتح علی خان، جبار عباس اور ماریہ میر جیسی گلوکاراؤں نے اپنی آواز کا جادو جگایا ہے۔

شفقت چیمہ جیسی کاسٹ پر مبنی اس فلم کی نئی کاسٹ میں نئے اداکار احمد صفیان اور مومنہ اقبال مرکزی کرداروں میں دکھائی دیں گی۔

فلم کے حوالے سے ڈان سے بات کرتے ہوئے اکبر ناصر خان نے بتایا کہ فلم کی کہانی ایک پڑھے لکھے نوجوان اور اس کی جدوجہد کے گرد گھومتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فلم میں پولیس کو درپیش مشکلات اور پولیس کی جانب سے مشکلات کے باوجود بڑے کارنامے سر انجام دینے کو دکھایا جائے گا۔

ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ فلم میں وطن کے لیے قربانیاں دینے والے شہید پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کو بھی اجاگر کیا جائے گا۔

فلم کے جاری کیے گئے مختصر ٹریلر سے فلم کی پوری کہانی سمجھنا مشکل ہے، تاہم اندازہ ہوتا ہے کہ فلم کی کہانی ’دال چاول‘ کا ٹھیلہ لگا کر زندگی کا گزارا کرنے والے نوجوان کی جانب سے پولیس افسر بننے کے گرد گھومتی ہے۔

ٹریلر سے اندازہ ہوتا ہے کہ پولیس کم وسائل اور مشکلات کے باوجود دہشت گردوں اور مذہب کا نام استعمال کرکے منفی پروپیگنڈہ کرنے والوں کے خلاف شاندار قربانیوں کو بھی دکھایا جائے گا۔

متعلقہ خبریں