Daily Mashriq


مقبوضہ کشمیر میں حکمران جماعت بی جے پی کی شکست

مقبوضہ کشمیر میں حکمران جماعت بی جے پی کی شکست

وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پر امن شہریوں پر فوجی طاقت کے استعمال سے آزادی کی خواہش ختم نہیں کی جاسکتی عالمی برادری بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں پر مظالم رکوائے اور انہیں حق خود ارادیت دلوایا جائے۔ وزیر اعظم نے یہ بیان ایک ایسے موقع پر دیا ہے جب مقبوضہ کشمیر میں بدترین تشدد اور بندوق کے سائے میں ہونے والے انتخابات میں حکمران جماعت بی جے پی کو بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات کی حیثیت ڈھونگ سے زیادہ کبھی نہیں ہوا کرتی اس لئے کہ کشمیری عوام کی غالب ترین اکثریت ہمیشہ سے ان انتخابات کا بائیکاٹ ہی کرتی آئی ہے اور اس مرتبہ بھی انہوں نے ان انتخابات کا پوری طرح سے بائیکاٹ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان انتخابات کے نتیجے میں جو بھی جماعت برسر اقتدار آتی رہی ہے وہ کشمیری عوام کی منتخب حکومت کبھی قرار نہیں پائی اور نہ ہی ان حکومتوں نے کبھی کشمیری عوام کے حقوق کی بات کی ہے بلکہ ہر کٹھ پتلی حکومت کو دہلی سرکار کی خوشنودی مطلوب رہی ہے اور ان کی کوشش رہی ہے کہ وہ بھارتی فوج کی بندوقوں تلے اپنا نام نہاد مدت اقتدار کسی طرح سے پوری کریں۔ بنا بریں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مقبوضہ کشمیر کے ضمنی انتخابات میں کس جماعت کو شکست ہوئی ہے اور کونسی کٹھ پتلی جماعت کے نمائندے منتخب ہوئے ہیں سوائے اس کے کہ بی جے پی ووٹ دینے والے چھ فیصد ووٹروں میں بھی مقبولیت حاصل نہیں کرسکی۔ ویسے بھی مقبوضہ کشمیر کی ریاستی انتخابات کی تاریخ ہمیشہ سے دھاندلی سے عبارت رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سرکار کی چھتری تلے نام نہاد انتخابات کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ جہاں ووٹ ناکام ہوا وہاں گولی آگئی ۔ بھارت کے نام نہاد جمہوری نظام میںعوام کو آزادانہ ووٹ دینے کا موقع نہیں اور نہ ہی انتخابات کی اس وقت تک کوئی حیثیت ہے جب تک مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت نہیں ملتی۔ ان حالات میں ان کے پاس کوئی چارہ کار نہیں بچتا کہ وہ بندوق اٹھا کر جدوجہد کریں اور یہی کچھ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں ہو رہا ہے۔ اس ساری صورتحال میں پاکستان کے پاس سوائے کشمیری بھائیوں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت کے کوئی اور طریقہ کار نہیں بچتا اور یہی کچھ پاکستا ن کر رہا ہے۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف کے اس موقع پر بیان کا بھی مدعا یہی ہے۔ اس بارے دو رائے نہیں کہ آزادی کشمیریوں کا حق ہے اور ان کو اس حق سے کوئی بھی محروم نہیں رکھ سکتا۔مقبوضہ کشمیر میں ضمنی انتخابات کے د وران بھارتی فوج کی فائرنگ سے آٹھ کشمیریوں کی شہادت' درجنوں افراد کے زخمی ہونے اور درجنوں کی گرفتاری کے واقعات اور مقبوضہ وادی میں کشمیری عوام کا ضمنی انتخاب کے مکمل بائیکاٹ سے ایک مرتبہ پھر اس امر پر مہر تصدیق ثبت ہوچکی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند عوام بھارتی تسلط سے آزادی سے کم کسی چیز پر راضی نہیں۔ حریت پسندکشمیری عوام کا جوش وجذبہ اور لا زوال قربانیاں اس امر کو سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ بھارت کا ہر ہتھکنڈہ ناکام و غیر موثر ہی جائے گا۔ بھارت ایسا کرکے کشمیری عوام کے حریت کے جذبات کو دبا سکتا ہے اور نہ ہی کشمیری عوام جدوجہد آزادی کا راستہ ترک کرنے پر آمادہ ہوسکتے ہیں بلکہ اس سے الٹا عالمی دنیا میں خود بھارت ایک جابر ریاست کے طور پر سامنے آتا ہے جس کی دنیا بھر میں مذمت کی جاتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت کو حقیقت حال کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی اور مفید سیاسی حکمت عملیاں تشکیل دی جائیں اور کشمیری عوام سے رابطہ کرکے ان کوہر قیمت پر بھارتی قابض فوج کا مقابلہ کرنے کی بجائے مذاکرات کی پیشکش کی جائے۔ بجائے اس کے کہ بھارتی حکومت حقیقت حال کو سمجھنے کی سعی کرے الٹا تشدد کے ذریعے کشمیری عوام کو زیر کرنے کا سوچا جا رہا ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ کی طرف سے حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ مرکز کے خیال کے مطابق کشمیر میں صورتحال قابو کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مساجد کو حکومت کے تحت کیاجائے' مدرسوں اور میڈیا پر پابندیاں عائد کی جائیں اور اپنے ہم خیال سیاستدانوں سے رابطہ کیاجائے۔ یہ تجویز اپنی جگہ اس امر کا صاف اظہار ہے کہ بھارتی قیادت اور صلاح کاروں کو تشدد اور بہیمیت سے آگے کچھ سوجھنا ہی نہیں اور وہ ہوش کے ناخن لینے کو تیار نہیں۔جب تک بھارت اس سوچ پر عمل پیرا ہے اس وقت تک مقبوضہ کشمیر میں حالات کے بہتر ہونے کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔ ہمارے تئیں اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت وادی میں جاری حریت پسندوں کی اس نئے دور کی جدوجہد کا جائزہ لے اور یہ سوچ بچار کرے کہ وادی میں بے چینی ہی بے چینی کی وجوہات کیاہیں۔ اس وقت کشمیریوں کی کثیر تعداد کو دہشت گرد سمجھا جا رہا ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انہیں پاکستان کی طرف سے مالی مدد ملتی ہے یہ صورتحال کسی بھی طرح بھارت کے مفاد میں نہیں' خواہ ان کی طرف سے سیکورٹی فورسز پر سنگباری کی جائے۔ اس امر پر بھی غور کی ضرورت ہے کہ کشمیریوں پر پیلٹ گنز کا استعمال نہ کیا جائے یا پھر کشمیری مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کئے جائیں۔بہر حال جو لوگ ابھی تک مندرجہ بالا سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں مندرجہ بالا صورتحال مد نظر رکھنی چاہئے۔دکھ کی بات تو یہ ہے کہ اقوام عالم اور خاص طور پر مغربی قوتیں کشمیر کو ایک مسئلہ تو تسلیم کرتی ہیں لیکن وہ اسے دو ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعہ سمجھتی ہیں نہ کہ ایک عالمی مسئلہ جہاں پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ یوں اسے ابھی تک دو طرفہ مسئلے کی حیثیت ہی حاصل ہے تبدیلی صرف اتنی آئی ہے کہ اس مسئلے کے بارے میں یہ کہا جانے لگا کہ مسئلے کا ایسا حل تلاش کیا جائے جو کشمیریوں کے لئے قابل قبول ہو۔

متعلقہ خبریں