میٹرو منصوبے پر وزیر اعلیٰ پنجاب کے طنز کی نوبت کیوں؟

میٹرو منصوبے پر وزیر اعلیٰ پنجاب کے طنز کی نوبت کیوں؟

وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی جانب سے صوبائی دارالحکومت پشاور میں میٹرو بس سروس شروع کرنے میں تعاون کی پیشکش ایک سیاسی طنز ہی ہوسکتا ہے جس میں خیبر پختونخوا کی حکومت کو یہ بتلانا مقصود ہے کہ انہوں نے صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاوہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور پنجاب کے دیگر شہروں میں میٹرو کے بعد اورنج ٹرین منصوبے کو بھی تکمیل تک پہنچانے والے ہیں لیکن خیبر پختونخوا کی حکمران جماعت سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کو ابھی تک اسے جنگلا بس قرار دینے سے فرصت نہیں حالانکہ عوام نے اس کی نہ صرف پذیرائی کی ہے بلکہ وہ منتظر ہیں کہ کب ان کے شہروں میں بھی ایک معیاری ٹرانسپورٹ سروس کا اجراء ہو۔ پشاور میٹرو بس سروس کے منصوبے پر اب عملی کام شروع ہونے کا وقت تو ضرور قریب دکھائی دیتا ہے مگر پھر بھی یہ ابتدائی تیاریوں کے زمرے میں آتا ہے جس وقت لاہور میں اونج ٹرین چلانے کے منصوبے اور راولپنڈی اسلام آباد میں میٹرو سروس پر عملی کام کا آغاز کردیا گیا تھا اس وقت اسے لا حاصل قرار دینے والے جو کام اب کر رہے ہیں اگر یہی کچھ اس وقت کرنے پر توجہ دیتے تو شاید شہباز شریف کو یہ پیشکش کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے پاس عوام کی خواہشات پر پورا نہ اترنے کے باوجود ایسے منصوبے اور عملی کام موجود ہیں جس کی بناء پر وہ عوام میں جانے کی ہمت رکھتے ہوں گے۔ خیبر پختونخوا کی حکومت کو اس امر کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ان کے پاس عوام میں جانے کے لئے کیا اندوختہ ہے۔ بہر حال اس سے قطع نظر صوبائی حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ جلد سے جلد میٹرو بس منصوبے پر کام کا آغاز کرے اور مزید ایک دن کی تاخیر سے کام نہ لیا جائے۔ جس طرح باب پشاور کو مقررہ مدت کے اندر پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا پشاور میٹرو بس سروس پر اسی طرح ہنگامی بنیادوں پر دن رات کام کرکے مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے۔ اس ضمن میں اس امر کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ اس منصوبے سے عوام کی روز مرہ زندگی کو کم سے کم متاثر کرنے کی سعی کی جائے جس طرح دیگر منصوبوں کو عوام کے لئے بلائے جان بنانے کی روایت ہے کوشش کی جائے کہ اس کا اعادہ نہ ہو۔ منصوبے کوجس قدر جلد سے جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا اس سے عوام کو کم سے کم مدت کے لئے مشکلات کا سامنا ہوگا۔
تدریسی ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی بگڑتی صورتحال
پشاور کے تدریسی ہسپتالوں میں ایم ٹی آئی کے نفاذ سے جو توقعات وابستہ کی جا رہی تھیں ان توقعات کا پورا ہونا تو در کنار ہسپتالوں کا نظام ہی تہہ و بالا ہو چکا ہے جس کی وجہ سینئر ڈاکٹروں کا عدم تعاون ہے۔ ایم ٹی آئی کے نفاذ کے وقت سینئر ڈاکٹروں کو مشاورت کے بعد اعتماد میں لینے کی بجائے ان کو دوسروں کی طرح کے سرکاری ملازمین گرداننے کی جو پالیسی اختیار کی گئی یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج تدریسی ہسپتالوں میں مریض ٹرینی ڈاکٹروں کے رحم و کرم ہیں۔ ایم ٹی آئی کے نفاذ کے بعد سینئر ڈاکٹروں جس سے مراد وارڈ کے انچارج پروفیسرز ہیں کی نگرانی اور حاضری یقینی بنانے کا جو بودا نظام اپنا یا گیا اس سے ان پروفیسر حضرات کی انا کو ٹھیس پہنچنا تو فطری امر تھا کسی عام سرکاری ملازم کو بھی اگر جگہ جگہ جا کر پولیس کا سپاہی یا کسی اردلی سے نگرانی کروانے کی غلطی کی جائے گی تو رد عمل فطری امر ہوگا۔ اب سینئر ڈاکٹر ڈیوٹی پر تو نظر آتے ہیں لیکن مریضوں کے علاج معالجے کی ذمہ داری ٹرینی ڈاکٹرز انجام دے رہے ہیں الٹا ایم ٹی آئی کے نفاذ کے بعد اس کے تحت مراعات اور سہولیات کا دعویٰ بڑھ گیا ہے۔ بعید نہیں کہ ایم ٹی آئی کے تحت مراعات کے لئے ضرورت نہ ہونے کے باوجود سینئر ڈاکٹر محض انتظامیہ کو نیچا دکھانے کے لئے عدالت سے رجوع کریں اس ساری صورتحال میں مریضوں کا متاثر ہونا فطری امر ہے جو ہاتھیوں کی لڑائی میں پس کر رہ گئے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ تدریسی ہسپتالوں کی انتظامیہ محکمہ صحت اور حکومتی نمائندے مل بیٹھیں اور اس رسہ کشی سے پیدا کشیدہ صورتحال سے نکلا جائے اور ایسا ماحول بنایا جائے کہ ہسپتالوں میں مریضوں کا علاج جونیئر ڈاکٹروں کی بجائے حسب سابق سینئر ڈاکٹروں کی نگرانی و مشاورت سے ہونے لگے اور سینئر ڈاکٹروں نے مریضوں کے علاج سے جس قسم کی لا تعلقی اختیار کر رکھی ہے اس پر نظر ثانی کریں۔

اداریہ